اشعاروغزلنعت رسول

نعت رسول: اے کاش کہ میں دیکھوں طیبہ کی بہاریں

✍🏻شاہد رضا رضوی

اے کاش کہ میں دیکھوں طیبہ کی بہاریں
سرکار کا گنبد اور مسجد نبوی کی مناریں

پاتے ہیں جہاں بھیک شہنشاہ زمانہ
دربار پیمبر میں وہ منگتوں کی قطاریں

آتی ہے وہاں چار سو فردوس کی خوشبو
طیبہ کی جو گلیوں سے اڑتی ہیں غباریں

اے کاش مدینے میں افطار کروں میں
کھاؤں کھجور پیوں زمزم کی وہ دھاریں

خاک در رسول کو پیشانی پہ مل لوں
اور چوموں اس شہر مدینہ کی دیواریں

اس پاک در حبیب پہ دل اپنا بچھا دوں
اے کاش میرے آقا مجھے ایک بار بلاویں

معراج مقدر کا میرے ہو جائے اسی دن
جس دن میرے آقا مجھے طیبہ میں بلاویں

ہم جارہے ہیں طيبہ آچل تو بھی شاہد
منادی میرے سرکار کا لگائے یہ آوازیں

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button