اولیا و صوفیا

منزل عشق کا مینار اویس قرنی عاشق سید ابرار اویس قرنی

ازقلم: اے۔ رضویہ، ممبئی
مرکز: جامعہ نظامیہ صالحات کرلا ممبئ

یمن کے ایک شہر میں بوسیدہ لباس میں کوئی مستانہ وار جارہا ہے۔ شہر کے آوارہ بچے اس کے پیچھے تالیاں بجاتے اور آوازے کستے چلے آرہے ہیں، بچوں نے کنکر بھی مارنا شروع کردیئے۔ لیکن حیرت ہے کہ یہ فقیر کنکریاں مارنے والوں کو نہ روکتا ہے نہ ٹوکتا ہے۔ مسکراتے اور زیر لب گنگناتے وہ اپنی دھن میں چلا جارہا ہے۔ اچانک کسی جانب سے ایک بڑا پتھر اس کے سر سے آٹکراتا ہے۔ زخم سے خون کی ایک پتلی سے لکیر جب پیشانی کو عبور کرنے لگتی ہے تو وہ رک جاتا ہے۔ پھرپتھر مارنے والے بچوں کی طرف رخ کرکے کہتا ہے۔

میرے بچو بڑے پتھر نہ مارو چھوٹی کنکریاں مار کر دل بہلاتے رہو۔ بس ایک ہی پتھر سے اندیشہ اتر گیا۔ ایک منہ پھٹ لڑکا آگے بڑھتے ہوئے کہتا ہے۔

نہیں میرے بیٹے ایسی کوئی بات نہیں۔ میں چاہتا ہوں تمہارا شغل جاری رہے اور میرا کام بھی چلتا رہے۔ کنکریوں سے خون نہیں بہتا۔ پتھر لگنے سے خون بہنے لگتا ہے جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور بغیر وضو کے میں اپنے محبوب کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوسکتا۔
یمن کے شہر قرن میں ایک کوچے سے گزرنے والے یہ درویش عشق و مستی کی سلطنت کے بادشاہ حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ تھے۔
کعبہ محبت کا طواف کرنے والوں کا جب بھی ذکر چھیڑے گا تو حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی سرفہرست رہے گا۔

حضرت خواجہ اویس قرنی رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنہٗ: آپکی کنیت ابو عمرو، اور مکمل نام و نسب یہ ہے: اویس بن عامر بن جزء بن مالک قرنی، مرادی، یمنی۔
آپ کا شمار کبار تابعین اور نیک اولیاء میں ہوتا ہے، آپ نے عہد نبوی پایا ہے، لیکن ان کی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات نہیں ہوسکی، اور حافظ ابو نعیم رحمہ اللہ نے ” حلية الأولياء ” (2/87) میں اصبغ بن زید سے نقل کیا ہے کہ : اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنی والدہ کا خیال رکھنے کی وجہ سے سفر نہیں کر سکتے تھے، لہذا اویس قرنی رحمہ اللہ تابعی ہیں، صحابی نہیں ہیں۔
آپکی پیدائش و پرورش یمن ہی میں ہوئی ہے۔

آپ کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ ” سير أعلام النبلاء ” (4/19) میں کہتے ہیں:
"آپ متقی و زاہداور بہترین قدوہ تھے، اپنے وقت میں تابعین کے سربراہ تھے، آپکا شمار متقی اولیاء اللہ اور اللہ کے مخلص بندوں میں ہوتا تھا”

حضرت خواجہ پر ہر وقت سکر اور مستی کی ایک کیفیت طاری رہتی تھی جس کی وجہ سے عوام الناس آپ کو مجنون تصور کرتے، مذاق اڑاتے اور بچے پتھر مارتے۔ چنانچہ آپ کی ولایت اور محبوبیت کا حال لوگوں سے پوشیدہ رہا۔

ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ ’’مرقات شرح مشکوۃ‘‘ میں آپ رضی اللہ عنہ کی ولایت کے اخفا کی وجہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت خواجہ مستجاب الدعوات تھے۔ چنانچہ ایسے لوگوں کی خدمت میں ہر نیک و بد شخص دعا کا طالب ہوتا ہے اور جمالی اولیاء اللہ کسی کو انکار نہیں کرسکتے یہ ممکن نہ تھا کہ نیک کے لئے دعا کرتے اور بروں کو نظر انداز کردیتے چونکہ یہ بات حکمت الہٰی کے خلاف تھی اس لئے ان کا حال مستور رہا۔

حضرت اویس قرنی رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنہٗ کے فضائل کے متعلق سب سے عظیم حدیث وہ ہو جس میں امت محمدیہ میں سے ایک شخص کو لوگوں کی ایک بڑی تعداد کیلئے شفاعت کرنے کا ذکر ہے، اور اس بات کا تذکرہ متعدد روایات میں ہے، ان میں سے صحیح ترین روایت عبد اللہ بن ابی جدعاء کی مرفوع روایت ہے، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: (میری امت کے لوگوں میں سے ایک شخص ایسا بھی ہوگا جس کی شفاعت کے ذریعے بنی تمیم سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہونگے)
(ترمذی: 2438) نے اسے روایت کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ حدیث "حسن صحیح” ہے، اور البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کمالِ محبت اللہ تعالیٰ نے حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ کو فطرت سلیمہ اور طبع صالح عطا فرمائی تھی جونہی آپ کے کانوں تک نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی خبر پہنچی تو دل نے فوراً صداقت کی گواہی دی اور آپ نے اسلام قبول کرلیا پھر تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاقِ حسنہ اور اوصافِ حمیدہ سن کر آپ کے دل میں چراغ محبت فروزاں ہوگیا۔

نہ تنہا عشق از دیدار خیزد
بساکیں دولت از گفتار خیزد

یعنی عشق صرف دیدار سے ہی پیدا نہیں ہوتا، بعض دفعہ محبوب کی باتیں سننے سے بھی آتش عشق بھڑک اٹھتی ہے۔ حضرت خواجہ کے من میں یہ آگ ایسے بھڑکی کہ اس نے دنیا و مافیہا سے بے نیاز کردیا۔

دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی

آپ پر ہر وقت وارفتگی کی حالت طاری رہتی لیکن اس سکرو مستی کے باوجود خوداری کا عالم یہ تھا کہ کسی کے سامنے دست سوال دراز نہ کرتے۔ شتر بانی اور گٹھلیاں چن کر گزر اوقات کرتے۔ فجر کی نماز کے بعد اونٹ لے کر شہر سے باہر نکل جاتے اور رات کو واپس لوٹتے۔

حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ تابعین میں شمار ہوتے ہیں بلکہ کتابوں میں آپ کو سید التابعین اور خیرالتابعین کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔ آپ کو سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری مجلس نصیب نہ ہوسکی اس لئے صحابیت کا درجہ نہ پاسکے روایات میں ہے کہ آپ کی والدہ ضعیف و ناتواں تھیں چلنے پھرنے سے معذور تھیں۔ انہیں چھوڑ کر طویل سفر پر روانہ نہ ہوسکتے تھے۔ اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر نہ ہوسکے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مقام رضا اور مقام محبوبیت پر فائز ہونے والے اولیاء کے لئے بُعدِ مکانی اور بُعدِ زمانی کوئی حیثیت نہیں رکھتا چنانچہ یہ لوگ حضوری کی لذت سے سرفراز ہوتے ہیں بقولِ شاعر۔

گر در یمنی، بامنی، پیش منی
ور بے معنی، پیش منی در یمنی

ترجمہ: اگر تو یمن میں رہتا ہے اور تیرا قلبی تعلق میرے ساتھ جڑا ہوا ہے تو تو میرا ہم نشین ہے اور اگر میرے سامنے بھی بیٹھا ہے لیکن تعلق قلبی میرے ساتھ استوار نہیں تو میرے لئے یمن میں بیٹھا ہوا ہے۔

ظاہری آنکھوں سے دیدار محمدﷺ نہ ہوا
پھر بھی کرتے تھے بہت پیار اویس قرنی
(َرَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنہٗ)

اویس قرنی رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنہٗ سے بہت سے زریں اقوال منقول ہیں، جن سے حکمت و دانائی چھلکتی ہے:

سفیان ثوری رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنہٗ کہتے ہیں:
"اویس قرنی کی ایک چادر تھی، جو زمین پر بیٹھے ہوئے زمین پر لگتی تھی، اس پر وہ کہا کرتے تھے:
"یا اللہ! میں ہر ذی روح کے بھوکے اور ننگے ہونے پر تجھ سے معذرت چاہتا ہوں، میرے پاس میری پشت پر موجود کپڑا ، اور پیٹ میں موجود خوراک ہی ہے”انتہی
حاكم نے اسے ” المستدرك ” (3/458) میں روایت کیا ہے۔

خوف الہی اور ہمیشہ اللہ تعالی کو اپنا نگہبان سمجھنے کے بارے میں اویس قرنی رحمہ اللہ کا قول ہے:
"اللہ کے عذاب سے ایسے ڈرو، کہ گویا تم نے سب لوگوں کا خون کیا ہوا ہے” انتہی
حاكم نے اسے ” المستدرك ” (3/458) میں روایت کیا ہے۔

اصبغ بن زید کہتے ہیں:
” کسی دن شام ہوتی تو اویس قرنی کہتے: "آج کی رات رکوع کی رات ہے” تو صبح تک رکوع کرتے ، اور کبھی شام کے وقت کہتے: "آج کی رات سجدے کی رات ہے” تو صبح تک سجدے میں پڑے رہتے، اور بسا اوقات شام کے وقت اپنے گھر میں موجود اضافی کھانا پینا، لباس سب کچھ صدقہ کر دیتے، اور پھر کہتے: "یا اللہ! اگر کوئی بھوک سے مر گیا تو میرا مواخذہ مت کرنا، اور اگر کوئی ننگا فوت ہوگیا تو میرا مواخذہ مت کرنا” انتہی

اسی طرح ابو نعیم "حلیۃ الاولیاء”(2/87) میں کہتے ہیں:
"صبح تک رکوع کرتے۔۔۔ صبح تک سجدے میں پڑے رہتے” کا مطلب یہ ہے کہ نماز میں رکوع اتنا لمبا کرتے تھے کہ صبح ہو جاتی، اور پھر دوسری رات میں سجدہ اتنا لمبا کرتے کہ صبح ہو جاتی تھی”

شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"مراد قبیلے کا ایک شخص اویس قرنی کے پاس سے گزرا، اور استفسار کیا:
” صبح کیسے ہوئی؟” تو اویس نے کہا: "الحمد للہ کہتے ہوئے میں نے صبح کی ہے”
اس نے کہا: "زندگی کیسے گزر رہی ہے؟”
انہوں نے کہا: "ایسے شخص کی کیا زندگی جو صبح ہو جائے تو سمجھتا ہے کہ آج شام نہیں ہوگی، اور اگر شام ہو جائے تو سمجھتا ہے کہ صبح نہیں ہوگی، پھر [مرنے کے بعد ] جنت کی خوشخبری دی جائے گی، یا پھر جہنم کی۔
قبیلہ مراد کے فرد! موت کی یاد کسی مؤمن کیلئے خوشی باقی نہیں رہنے دیتی، اور اگر مؤمن کو اپنے اوپر واجب حقوق الہی معلوم ہو جائیں تو اپنے مال میں سونا چاندی کچھ بھی نہ چھوڑے، [سارا صدقہ کر دے] اور اگر حق کے ساتھ کھڑا ہو جائے تو اس کا کوئی دوست بھی باقی نہ رہے” انتہی
” حلیۃ الأولياء ” (2/83) اور حاکم نے اسے ” المستدرك ” (3/458) میں بھی نقل کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے