اصلاح معاشرہ

مشکلات اور پریشانیاں

ازقلم: محمد جنید مصباحی
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ

ہم اپنی زندگی میں مشکلات سے بڑا پریشان رہتے ہیں، مشکلات ہمہ گیر ہوتی ہیں. ہر آدمی اپنی مشکل سے پریشان رہتا ہے، غریب اپنی غربت سے پریشان ہوتا ہے، امیر کو اپنی دولت کی وجہ سے مشکلات درپیش ہوتی ہیں، فیملی سے محروم لوگ اس لیے پریشان رہتے ہیں کہ ان کی کوئی فیملی نہیں ہے جب کہ فیملی والے اپنی فیملی کی وجہ سے مشکلات میں گرفتار ہوتے ہیں، پریشان سب ہوتے ہیں البتہ یہ فرق ضرور ہوتا ہے سب کی مشکلات اور پریشانیاں برابر نہیں ہوتیں۔
اور پریشانیوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ کبھی ختم نہیں ہوتیں اور ان مشکلات کی وجہ سے انسان کبھی خوش نہیں رہ پاتا کیوں کہ اسے یہ احساس گھیرے رہتا ہے کہ وہ پریشانی میں مبتلا ہے اور ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ انسان اپنے پاس موجود اسباب و وسائل، آرام و آسائش سے کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔ جب ہم ایک مشکل کا حل تلاش کرلیتے ہیں تو ہمارا ذہن اپنی غیر اطمینانی سے از خود ایک نئی مشکل تیار کر لیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم اپنے موٹاپے کی پریشانی سے چھٹکارا پانے کے لیے جم جانا شروع کردیں تو ہم موٹاپے کی پریشانی سے تو نجات پانے لگیں گے لیکن ہمارے سامنے نئی پریشانیاں کھڑی ہو جائیں گی کہ جم جانے کے لیے وقت نکالیں اور وہاں عرق ریزی کریں اور پھر غسل کریں۔ ہماری جبلت ایسی ہے کہ ہم ہمیشہ غیر مطمئن اور غیر محفوظ محسوس کرتے رہتے ہیں۔
زندگی بنیادی طور پر لامتناہی صعوبت و مشقت کا سلسلہ ہے، پریشانیاں یا تو بدل جاتی ہیں یا مزید ترقی کرکے لوٹ آتی ہیں لیکن ختم کبھی نہیں ہوتیں۔ ایک مشقت کا حل دوسری مشقت کی ایجاد ہوتا ہے۔ آج کی پریشانی کا حل کل کی پریشانی کی بنیاد رکھ جاتا ہے۔ اس لیے پریشانیوں سے خالی زندگی کی تلاش میں پریشان رہ کر وقت ضائع نہ کریں بلکہ اپنی مشکلات کو حل کرنے میں لگ جائیں۔ خوشی مشکل حل کرنے سے ہی حاصل ہوسکتی ہے۔ خوشی کا اصل راز اپنی مشقت کا حل تلاشنا ہے۔ یہ خوشی کا راز نہیں ہے کہ آپ کو مشکل نہ آئے کیوں کہ ایسا زندگی میں نہیں ہوتا کیوں کہ جب انسانی کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی تو انسان کا ذہن خوش نہیں رہتا بلکہ ایک نئی پریشانی کھڑی کر لیتا ہے مثال کے طور پر ابھی اگر کوئی اس لیے پریشان ہے کہ اس کے پاس دولت نہیں ہے تو جب اس کے پاس دولت آجائے گی تو وہ اس لیے پریشان رہے گا کہ دولت کو بر قرار کیسے رکھا جائے یا دولت کو کہاں لگایا جائے یا مزید دولت کیسے حاصل کی جائے اسی لیے کہتے ہیں کہ خوش رہنے کے لیے ہمیں کچھ کرتے رہنا چاہیے اپنی پریشانی سے دل آزردہ ہو کر بیٹھنا نہیں چاہیے بلکہ پریشانی کا حل تلاشنا چاہیے، خوشی عمل کا نتیجہ ہوتی ہے، خوشی کسی پریشانی کا حل تلاشنے سے حاصل ہوتی ہے, ترقی کی راہ میں مسلسل عمل کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے