اولیا و صوفیا

وقت کے ولی کامل بزرگ حضور انیس بیکساں رحمتہ اللہ علیہ

ازقلم: محمد خوشتر جامعی صدر المدرسین دارلعلوم قادریہ ابدالیہ گلزار باغ بروا ڈیہ

اولیاء اللہ نے انبیاء کرام، اصحاب کرام اور تابعین تبع تابعین، خلفائے راشدین کے بعد اشاعت اسلام کی ذمہ داری نبھائی۔ ان ہستیوں کے نام اور ان کی بتائی ہوئی تعلیمات دنیا میں (مسلم اور غیر مسلم ممالک سمیت) ہر جگہ اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں اور ان کے مزارات آج بھی دنیا کے مختلف ملکوں میں لوگوں کو اپنی جانب مائل کیے ہوئے ہیں۔ ان ہستیوں نے تو لوگوں کی بھلائی اور ان کی زندگی سہل بنانے کی کوششیں کیں اور اللہ کے پیغام کو عوام الناس تک پہنچایا۔ تاریخی اعتبار سے تصوف کے جو بڑے سلسلے سامنے آتے ہیں جن کا شجرہ حضور نبی اکرم ﷺ سے ملتا ہے۔ ان میں سے چند مشہور درج ذیل میں ہیں :

  • قادریہ
  • چشتیہ
  • نقشبندیہ
  • سہروردیہ
  • رزاقیہ
  • مجددیہ

نقشبندیہ کا شجرہ نسب بعض لوگوں کے مطابق سیدنا ابو بکر صدیقؓ سے ملتا ہے۔[1] مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ وغیرہ کے مطابق سلسلہ نقشبندیہ بھی حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے اور باقی تمام سلسلے بھی حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملتے ہیں.
کرہ ارض پر نور اسلام کی روشنی انہیں مقدس گروہ کی جدجہد کا نتیجہ ہے، خانقاہ کے وجود میں آنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ لوگوں کو مکمل تربیت دے کر ان کو اس لائق بنایاجائےتاکہ ان کاسینہ نورمشکوة
سے نبـوت سے منور ہوجائے اور ان کا دل عشـق الہی سے معمور اور ان کا عمل سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مظہر ہو اور جــب یہ لوگوں کے سامنے دعوت الی اللہ کے لیـے جائیں اور اللہ تبـارک و تعالی کے بنـدوں کو پیغـام توحیـــــد و رسالت دیں تو ان کے علم و عمل میں کامل یکسانیت ہو اور "لیکـون الرسول شھیدا علیکم و تکونوا شھداء علی الناس” کی عملی تفسیر ہو ۔
انہیں قدسی صفات ہستیوں میں قطب الکاملیں سراج السالکین سید العارفین انیس بیکساں اکمل العلماء رئیس الحکماء حضرت سید شاہ انیس احمد قادری رزاقی علیہ الرحمہ والرضوان بھی ہیں آپ حضرت سید شاہ حسن احمد قادری کے صاحبزادہ ہیں ۔آپ کی ولادت باسعادت 4 رجب المرجب بوقت صبح صادق بروز جمعہ 1300 ھ بمقام داؤد نگر ہوئی۔آپ اپنے والد کے تنہا صاحبزادہ تھے۔
مقام ولادت: ۔۔۔۔۔۔۔۔خانقاہ قادریہ ابدالیہ سلیمانیہ رشیدیہ میاں صاحب کا محلہ پرانا شہر داؤد نگر ہے۔
نسب: حسنی و حسینی سادات 14 واسطوں سے حضور سید الہند سیدنا امجھری قدس سرہ /26 واسطوں سے حضور سیدنا غوثُ الاعظم رضی اللہ عنہ تک /اور 39 واسطوں سے حضور سیدنا احمد مجتیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تک
آپ کا القاب : انیس بیکساں اکمل العلماء رئیس الحکماء وغیرہ۔
بیعت و خلافت: جد محترم شمس العارفین حضرت العلام سید شاہ غلام محمد نجف قادری رحمۃاللہ علیہ ۔۔
سجّادگی: 81سال کی عمر 1381 ھ میں مسند قادری پر فائز ہوئے
مدت سجّادگی : چھیالیس سال ۔
آپ کی تصنیفات : حیاتِ سیدنا ٬ اذکا ر طیبہ٬انیس القلوب ٬دیوان انیس اردو فارسی وغیرہ۔
وصال:4رجب المرجب 1364 ھ مطابق 15جون 1945 عیسو ی
مزار مبارک : آستانہ عالیہ قادریہ داؤد نگر میں ہے
عرس مبارک: 4/3رجب کو ہر سال منعقد ہوتا ہے۔
آپ کی پیدائش قبل آپکے جد بزرگوار حضرت سید شاہ امین احمد قادری رزاقی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ پیش گوئی فرمائی تھی کہ میرے بعد میرے اس مکان میں ایک بچہ پیدا ہوگا جو اپنے وقت کا کامل ولی ہوگا ۔اور یہ پیش گوئی آپ ہی کیلئے تھی کہ آپ اپنے وقت کے ایک جید عالم دین ماہر حکیم وقت کے ولی کامل اور فن حرب میں یکتائے روزگار ۔آپ کی ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر ہوئی ۔اعلی تعلیم کے لیے مختلف مقامات میں جاکر نامور علماء حکماء سے تحصیل علم کی ۔مسیح الملک حکیم اجمل خان مرحوم سے استفادہ کا موقع بہت ملا ۔۔1906عیسوی میں ڈاکٹر سید نور الحسن آروی مرحوم کی صحبت میں رہکر جدید طریقہ علاج و دوا سازی ایلو پیتھک و ہومیو پیتھک سے پوری واقفیت حاصل کی اور سند لیکر اسی سال اپنے مکان تشریف لائے اور گھر پر ہی مطب چلانے لگے اسی سال کے آخر میں ایک ڈاکٹر صاحب کی تحریک پر کمن ٹوس برن کمپنی کلکتہ میں با ضابطہ دو سال تک حکمت کا کام کیے پھر مکان پر تشریف لاۓ اور آخری حیات تک گھر پر ہی مطب چلاتے رہے ۔اور اسی درمیان میں وقت نکال کر رشد ہدایت اور تصنیف تالیف کام انجام دے لیا کرتے تھے ۔۔
آپ کی طبیعت میں شاعری بھی ذوق تھا ۔ فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں آپ کے کلام ہیں۔
آپ کی شادی حضرت سید شاہ ضمیر الدین قادری اورنگ آبادی کی بڑی صاحبزادی سے ہوئی جن سے چار صاحبزادے اور سات صاحبزادیاں عالم وجود میں آئے۔ دو صاحبزادوں سے آپ کا خاندان جاری ہے ۔۔
آپ کے وصال کے بعد آپ کے صاحبزادے حضرت علامہ سید رشید احمد قادری قدس سرہ آپ کے جانشیں ہوئے۔۔۔

جسے دیکھو انیس بیکساں کا وہ دیوانہ ہے
عقیدت مند ایک میں ہی نہیں سارا زمانہ ہے

خانقاہ قادریہ ابدالیہ سلیمانیہ رشیدیہ داؤد نگر، اورنگ آباد بہار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے