اولیا و صوفیا

اولیاءاللہ کی تخلیق کا سبب کیا ہے

از قلم: عطاء الرحمن قادری فیضی
جامعہ عربیہ اہلسنت مظفرالعلوم

اولیاء اللہ کی تخلیق و پیدائش کی وجہ
*محترم حضرات* ہر چیز کی ایک طبیت ہوتی ہے اور کسی بھی چیز کی طبیعت اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب اس کے موافقت کوئی چیزمل جاتی ہے۔ بلاشبہ کفر کی بھی ایک طبیعت ہے۔ جب تک اس کی طبیعت مطمئن نہیں ہوتی ہے اسلام کوقبول نہیں کرتی ہے۔ ہر شخص پر یہ حقیقت منکشف ہے کہ دعوت توحید کو قبول کرنا ہرشخص پر لازم وضروری ہے ۔ سارے انبیاء و مرسلین علیہم السلام دعوت توحید ہی پیش کرنے کے لئے مبعوث ہوئے تھے اور پیش فرمائے۔ مگر تاریخ کے اوراق شاہد ہیں
کہ جب بھی کسی اللہ کے پیغمبر نے اپنی قوم کو دعوت توحید پیش فرمائی ہے تو قوم نے پہلی فرصت میں اپنے نبی کی پیش کردہ دعوت کوقبول نہیں کیا ہے بلکہ دعوت توحید کے ٹھکرانے کے ساتھ
الله جل شانہ کے پیغمبرکو طرح طرح کی اذیتیں اور تکلیفیں دینی شروع کر دی ہے۔ مگر جب اللہ جل شانہ کے پیغمبر نے اپنی خداداد عقل وخرد سے ماوراء تصرفا ت کا مظاہرہ فرمایا ہے تو قوم جوق در جوق دعوت توحید کوقبول کرنا شروع کردی ہے۔ ہاں جن کی قسمت میں کفرہی مقدرتھاان تصرفات کے دیکھنے کے باوجود بھی منکر ہو گئے ۔ بطور نمونہ اللہ کے پیغمبر حضرت صالح علیہ السلام نےدعوت توحید۔۔پیش فرمائی تو آپ کی قوم نے پہلی فرصت میں آپ کی پیش کردہ دعوت کو قبول نہیں کی بلکہ اطمینان قلب کے لئے مافوق الفطرت قوت دکھانے ، عقل و خرد سے بالاتر کام کرنے کا مطالبہ
کرنےلگی ۔ جب اللہ جل شانہ کے پیغمبر نے اللہ ہی کی عطا کردہ طاقت اور اسی کی عطا کردہ زبان کن سے پہاڑ کی چٹان سے ایک خوبصورت گابھن اوٹنی نکال دی تو قوم اس خلاف عادت محیر العقول کا م کو دیکھ کر دعوت توحید قبول کرنے گی۔
مزکورہ تفسیرو تاریخی واقعہ سے پتہ چلا کہ کفر کی طبیعت اس وقت مطمئن ہوتی ہے جب وہ عقل خرد سے ماوراء نہایت ہی حیرت انگیز و حیران کن امور کو دیکھتی ہے۔ پھر کہیں جا کر کسی بھی داعی توحید کی دعوت کو قبول کرتی ہے ۔ چنانچہ ہمارے اور آپ کے نبی اللہ کے محبوب اعظمﷺ
ارواحنافداہ سے بھی دعوت توحید کے وقت کفار مکہ نے ان گنت حیران کن کاموں کا مطالبہ کیا تا کہ
اولا ان کی طبیعت مطمئن ہو جائے پھر دعوت کے قبول کرنے کی طرف متوجہ ہوں ۔ اور ایسا ہی ہوا۔
پتہ چلا کہ جب تک کفر کی طبیعت مطمئن نہیں ہوگی اس وقت تک دعوت توحید قبول نہیں کرے گی ۔ اور کفر کی طبیعت اسی وقت مطمئن ہوگی جب مافوق الفطرت قوتوں کا مشاہدہ کرے گی عقل و خرد
سے بالاتر کارنامے دیکھے گی۔ اور یہ بات اپنی جگہ متحقق ہے کہ توحید و دین اسلام کی قیامت تک کے کافروں کے لئے ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں موجود ہے۔ ”ادع الی سبیل ربک بالحكمة والموعظة الحسنة’ اور کافروں کی طبیعت جب تک مطمئن نہیں ہوگی دعوت اسلام کو قبول نہیں کریں گے۔ اور انھیں اطمیان اس وقت ہوگا جب حیران کن کارنامے دیکھیں گے۔
جنھیں معجزات و کرامات کہا جاتا ہے۔ جو بالترتیب انبیاء ومرسلین علیہم السلام اور اولیاء عظام رضی اللہ عنہم کے ساتھ خاص ہے۔ ہمارے نبیﷺ کےآنے کے بعد ہمیشہ کے لئے نبوت ورسالت کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ اللہ کے نبیﷺ نے خود ہی فرمایا ہے:”*اناخاتم النبيين لانبی بعدی*‘‘ میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔ پھر قیامت تک کے کافروں کے لئے دعوت توحید قبول کرنا کیوں کر ممکن ہے۔ کون سی چیز ان کافروں کو توحید کی دعوت قبول کرنے پرآمادہ کرے گی؟ یہ بظاہر ایک ذہنی خلجان ہے مگر اس کا حل یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے انبیاءو مر سلین علیہم السلام کے صدقے میں اولیاء عظام رضی اللہ عنہم کو وہ مافوق الفطرت قوت عطا فرمائی
ہے۔ تا کہ دعوت توحید کا کام بآسانی چل سکے ۔ اس حکمت ومصلحت کے پیش نظر اللہ رب العزت جل جلالہ نے ہر زمانے میں اولیاء عظام رضی اللہ عنہم کو پیدا فرماتار ہااور پیدا فرمائے گا۔ تا کہ دعوت توحید میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ کیوں کہ وہ انبیاء کرام کے مظہر سائے و پرتو ہوتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے