گورکھ پور: 31 اکتوبر، ہماری آواز
مشرقی یوپی کی مشہورومعروف دینی تعلیمی ادارہ دارالعلوم اہل سنت مظہرالرلوم چھوٹی پور وہ شاہ پور گورکھپور کادوروزہ سالانہ جلسہ دستار بندی بتاریخ 19/20/ربیع الاول شریف بروز منگل، بدھ روایتی شان وشوکت کے ساتھ اختتام پذیر
اجلاس جے پہلے دن مقرر خصوصی مجاہد دوراں، خطیب الہند حضرت علامہ ومولانا عبید اللہ اعظمی نے قرآن کریم کی روشنی میں انبیا ئے کرام کی سیرت طیبہ اور ان کی مقدس قربانیوں کو تفصیل سےبیان کیا، اور حصوصیت کے ساتھ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام، اور حضرت اسماعیل ذبیح اللہ علیہ السلام کی نظر یہ توحید کی نشرواشاعت کے لیے تاریخی جہاد کا حوالہ دیا اور کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے سچے دوست تھے، جنھوں نے اپنے طرب کے نام پر اپنا سب کچھ ہٹا دیا، ربیع الاول ہے جلوس کے حوالےسے کہا کہ جلوس کو وقار وتمدن کے ساتھ نکالنا چاہیے، بدعات وخرافات سے اسے پاک ہوناچاہیے، جلوس کے دن عاشقان رسول ہسپتالوں میں جائیں، مریضوں کو دوائیں دیں، پھل تقسیم کریں، اور انھیں بتائیں کہ آج کے دن پیغمبر امن و محبت پیدا ہوئے، انھیں کی ولادت کی خوشی میں ہم پھل تقسیم کر رہے ہیں۔
مولانا مسعود احمد برکاتی استاذ الجامعۃ الاشرفیہبارک پور نے تقوی کی اہمیت پر خطاب کیا اور کہا اللہ تعالی سے ڈرنے والے ہی حقیقی معنوں میں ایمان کی لذت پاتے ہیں۔
مولانا مقبول احمد سالک مصباحی بانی ومہتمم جامعہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی نے کہا کہ قرآن پاک اللہ تعالی ایسی واحد کتاب ہے جو تحر یفات سے محفوظ ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے اس کی حفاظت کا ذمہ اپنے کرم پر لے لیا ہے، انھوں دارالعلوم مظہرالعلوم کے بارے مین بتایا کہ اس ادارے نے تعلیم وتربیت کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دئیے ہیں، یہاں کے فارغین حصوں حفاظ وقراء ملک کے کونے کونے پھیلے ہوئے ہیں، انھوں نے بتایا کہ یہ ادارہ میرابھی مادرعلمی رہا ہے، اور یہیں سے میں دارالعلوم تنویر الاسلام امرڈوبھا اور وہاں سے ازہر ہند الجامعۃ الاشرفیہ کارخ کیا۔
پہلے دن شعرا میں جناب گلفام رضا احسانی اور قاری ریاض دہلوی نے اپنی آواز کا جادو جگایا حصو صوبائی دہلوی نے اپنی سنجیدہ نعت خوانی سے پورا مجمع لوٹ لیا۔
اجلاس کے دوسرے دن بھی مولانا سالک مصباحی کا قرآن کی عظمت کے موضوع پر خطاب ہوا، ان کے بعد مفکر اسلام حضرت علامہ مفتی شمس الدین مکرانہ نے سامعین کو اپنے خصوصی خطاب سے نوازا، اور موجودہ دور میں مسلم نوجواں کی بے براہ روی اورہلڑبازی کے حوالے سے جارحانہ خطاب کیا اور کہا کہ آج کانو جوان موبائل کا غلام بن کر رہے گیا ہے، تعلیم سےکوسوں دور ہوگیاہے، جس کی وجہ سے بے روزگاری، بے گاری اور جہالت بڑھتی جارہی ہے، انھوں نے علمائے کرام خصوصاائمہ مساجد کی بےتوقیری پر زبردست چوٹ کیا اور کہا کہ آپ نے اگر ان کی خبر نہ لی تومجھےبھی قریب مسجدوں کے لیے امام ملنسبند ہوجائیں گے۔ مولانا کے خطاب کے بعد نقیب اجلاس نے دارالعلوم کے تعاون کے لیے قوم کو آواز دیا لوگوں نے حسب حیثیت ادارے کاتعاون کیا، اس کے بعدشہزادہ خطیب البراہین حضرت علامہ ومولاناحبیب الرحمان نظامی استاذ دارالعلوم تدریس الاسلام بوڈیل کا خطاب ہوا، حضرت نے دورحاضر میں علم دین کی اہمیت اور افادیت مختصر مگر جامع گفتگو فرمائی، اور کہاکہ آج کا مسلم معاشرہ بھٹکاہواآہوہے اسے پھر سوئے حرم لے جانے کی ضرورت ہے۔حضرت کے خطاب کے بعد دارالعلوم سے فارغ ہونے والے حفاظ وقار کی عدم دستور بن فی ادا کی گئی ،شہزادہ خطیب ابراہیم ہے علاوہ خطین خصوصی مفتی شمس الدین مصباحی مولانا مقبول احمد خان گورکھپوری، لامہ سالک مصباحی دہلوی مولانا عبدالرب مصباحی شیخ الحدیث ادارہ ہذا اور درجنوں ابنائے قدیم اور شہر گورکھپور کے جید علمائے ائمہ نے حفاظ وقرا کی دستار بندی کی۔
ادارے کے سربراہ اعلی رئیس القرا، حضرت علامہ حافظ وقاری، الحاج رئیس القادری، صاحب قبلہ سربراہ اعلی وارکان دارالعلوم مظہرالعلوم گھوسی پور وہ، شاہ پور، پوسٹ گیتاواٹیکا، شہر گورکھپور نے تمام حاضرین و سامعین اور معاونین کا شکریہ ادا کیا، اور کہاکہ منہگائی اورکروناکال کے دور میں ہزاروں روپے خرچ کرکے جلسہ دستار بندی کاانعقاد توفیق الہی سے ہی ممکن ہے۔
اس موقع سے بدرالعلوم کے ہونہار طلبہ نے شاندار تعلیم۔ مظاہرہ کیا اور نعت وقرات اورتقاریر سے ادارے کانام روشن کیا۔
اس کے بعد صلاۃ وسلام پڑھاگیا، اور حبیب العلماءکی دعا پر جلسے کا اختتام ہوا۔