شعر و شاعری

غزل: میرا بھی نام ہے جوانوں میں

خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان

میرا بھی نام ہے جوانوں میں
رہتا ہوں گُم سدا خیالوں میں

جب کبھی اُس سے میری ہوگی بات
رت بدل جائے گی سوالوں میں

آئے دن اُس سے ملنا مُشکل ہے
اِس لئے اب وہ آتی خوابوں میں

لِکھ دُوں میں اک کتاب اُس کے نام
تاکہ ہو چرچا میرا یاروں میں

مجھ کو مل جائے پیار تو یارو
بس رہوں گا سدا بہاروں میں

جب کبھی مل وہ جاتی ہے مجھکو
بات سب ہوتی ہےاشاروں میں

اب تُو فیضان کام ایسا کر
دنیا میں نام ہو مثالوں میں

تازہ ترین مضامین اور خبروں کے لیے ہمارا وہاٹس ایپ گروپ جوائن کریں!

آسان ہندی زبان میں اسلامی، اصلاحی، ادبی، فکری اور حالات حاضرہ پر بہترین مضامین سے مزین سہ ماہی میگزین نور حق گھر بیٹھے منگوا کر پڑھیں!

ہماری آواز
ہماری آواز؛ قومی، ملی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین کا حسین سنگم ہیں۔ جہاں آپ مختلف موضوعات پر ماہر قلم کاروں کے مضامین و مقالات اور ادبی و شعری تخلیقات پڑھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اگر آپ اپنا مضمون پبلش کروانا چاہتے ہیں تو بھی بلا تامل ہمیں وہاٹس ایپ 6388037123 یا ای میل hamariaawazurdu@gmail.com کرسکتے ہیں۔ شکریہ
http://Hamariaawazurdu@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے