شعر و شاعری

نظم: کسانوں کا ساتھ دو

نتیجہ فکر: سلمان رضا فریدی مصباحی، مسقط عمان

جفاکشی میں کسانوں کا رنگ ہے بـے جوڑ
زمیں کے سینے سے فَصلِ اَناج کھینچتے ہیں

یہ جب بھی اٹھتے ہیں ظالم سے اپنا حق لینے
بڑی دلیری سے شاہوں کا راج کھینچتے ہیں

اے حکمرانو ! سنبھل جاؤ ، مانو اِن کی بات
یہ ضد پہ آئیں تو پھر تخت و تاج کھینچتے ہیں

زمانہ اِن سے سبق اتحاد کا سیکھے
یہ موج بن کے، صَفِ احتجاج کھینچتے ہیں

فریدی ساتھ دو اِن کا ، کہ اپنی محنت سے
یہی تو ہیں جو نظامِ سَماج کھینچتے ہیں

تازہ ترین مضامین اور خبروں کے لیے ہمارا وہاٹس ایپ گروپ جوائن کریں!

آسان ہندی زبان میں اسلامی، اصلاحی، ادبی، فکری اور حالات حاضرہ پر بہترین مضامین سے مزین سہ ماہی میگزین نور حق گھر بیٹھے منگوا کر پڑھیں!

ہماری آواز
ہماری آواز؛ قومی، ملی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین کا حسین سنگم ہیں۔ جہاں آپ مختلف موضوعات پر ماہر قلم کاروں کے مضامین و مقالات اور ادبی و شعری تخلیقات پڑھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اگر آپ اپنا مضمون پبلش کروانا چاہتے ہیں تو بھی بلا تامل ہمیں وہاٹس ایپ 6388037123 یا ای میل hamariaawazurdu@gmail.com کرسکتے ہیں۔ شکریہ
http://Hamariaawazurdu@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے