شعر و شاعری

پیغامِ آزادی

نیاز جے راج پوری علیگ

مُبارک ہو ہمیں یہ جشنِ آزادی وطن والو
مُبارک ہو ہمیں بارِش یہ خوشیوں کی وطن والو
خوشی کے گیت گاتی ہیں ہَوائیں بھی وطن والو
فضائیں آج ہیں رنگین سی کِتنی وطن والو
نظر جِس سمت بھی جائے خوشی کے پُھول کِھل جائیں
چلو ہم ایک ہو جائیں گَلے کچھ ایسے مِل جائیں
دِلوں میں داغ ہیں جو بُغض و نفرت کے مِٹا ڈالیں
جڑیں فِرقہ پرستی کی چلو ہم تم ہِلا ڈالیں
جُدا جو ہم کو کرتی ہیں وہ دیواریں گِرا ڈالیں
دِلوں کے درمیاں جو فاصلے ہیں وہ مِٹا دالیں
وطن اپنا ، سبھی اپنے تو پِھر ہو غیر کیوں کوئی
ہمیں جب ساتھ رہنا ہے تو پِھر ہو بَیر کیوں کوئی
چلو ہم آج مِل جُل کر خوشی کے گیت گاتے ہیں
چلو پِچھلے دِنوں کی ساری باتیں بُھول جاتے ہیں
چلوہم یومِ آزادی کی خوشیاں یُوں مناتے ہیں
چلو اِک دُوسرے کو آج ہم اپنا بناتے ہیں
چلو کھا لیں قسم ہم آج کے دِن یہ حلف لے لیں
نہیں ہم سُوکھنے دیں گے کبھی یکجہتی کی بیلیں
محبت ہے اگر مُمکن تو نفرت کیوں کرے کوئی
اگر تعریف ہے مُمکن شِکایت کیوں کوے کوئی
دِلوں میں کیوں رکھے کینہ ، عداوت کیوں کرے کوئی
مِلیں جب پُھول تو کانٹوں کی چاہت کیوں کرے کوئی
وطن اپنا وہ گُلشن ہے جِسے یہ فخر ہے حاصِل
بہت سے پُھول ہیں اِس میں سبھی ہیں پیار کے قابِل
لگائیں آگ جو فِرقہ پرستی کہ اُنہیں ڈُھونڈیں
بنائیں نرک جو اِس دیش کی دھرتی اُنہیں ڈُھونڈیں
کریں پَیدا ہمارے درمیاں دُوری اُنہیں ڈُھونڈیں
وطن میں ہیں اگر اپنے کچھ ایسے بھی اُنہیں ڈُھونڈیں
کِسی دُشمن کو ہم اِس دیش میں رہنے نہیں دیں گے
وطن میں خون کی ہم ندّیاں بہنے نہیں دیں گے
دِلوں میں عزم یہ لیکر منائیں جشنِ آزادی
نہ ہونے دیں گے اپنے دیش میں ہم کوئی بربادی
ہمارے ذہن و دِل میں رقصاں ہو خوشیوں کی شہزادی
نظر اب آئے سُندر سورگ سے ہر ایک آبادی
وطن کی اور بھی ہم کو بڑھا کر شان چلنا ہے
دِلوں میں آج سے لیکر یہی ارمان چلنا ہے
ہمارے ذہن و دِل سے بُغض و نفرت سب نِکل جائے
محبت دوستی اخلاص ذہن و دِل میں ڈھل جائے
زمیںِ خُشک پہ جیسے کوئی چشمہ اُبل جائے
اندھرے رات میں جیسے کوئی سُورج نِکل جائے
نہیں مُشکِل اگر ہم چاہیں ایسا ہو ہی جائے گا
جہاں کے آئینے میں دیش اپنا مُسکرائے گا
وطن کے پاسباں ہم ہیں وطن کی آبرو ہم ہیں
اگر خوشحال ہے اپنا وطن تو سُرخ رُو ہم ہیں
وطن اپنا ہے گُلشن اور اس کے رنگ و بُو ہم ہیں
نیازؔ اب ایک ہی رہنے کی کرتے آرزو ہم ہیں
اگر ہم ایک ہو جائیں وطن خوشحال ہو جائے
اگر ہم نیک ہو جائیں وطن خوشحال ہو جائے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے