متفرقات

مرجع علماے عصر سیدی مرشدی شاہ احمد رضا

ازقلم: محمد منصور عالم نوری مصباحی
ناظم تعلیمات : دارالعلوم عظمت غریب نواز مہاراشٹر
متوطن : بڑاپوکھر طیب پور کشن گنج بہار

"عوام کے مشکلات تو علماء حل کرتے ہیں لیکن جو علماء کے مشکلات حل کرے اسے امام احمد رضا کہتے ہیں”

یہ ایک تعریفی جملہ ہی نہیں بلکہ حقیقت ہے ، سچائیت ہے اس میں کافی جامعیت ہے یہ سیدنا اعلیٰ حضرت کی عبقری شخصیت کو جلا بخشی کا کام کرتاہے ، آپ کی عظیم الشان شخصیت کو نکھارتاہے ، آپ کے حقیقی تعارف کا آئینہ دار ہے ۔ لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ جملہ کس سخنور کا ہے۔ خیر جو بھی ہے وہ محب رضا ہے ۔ یہ "جملہ ” واٹس ایپ کے جس بھی گروپ میں (جہاں تک میری رسائی ہے) شیئر ہواہے سراہا گیا ہے، ممبران نے ہاتھوں ہاتھ لیا ہے ۔
مادر وطن ہندوستان میں جملہ بازوں کی کمی نہیں ہے ایک سے بڑھ کر ایک جملہ باز ہے جو اپنے جملوں سے لوگوں کے ساتھ کھیلتے رہتے ہیں لیکن ان جملہ بازوں کی فہرست میں ایک شخصیت نے وہ نام کمایا ہے کہ جب بھی کوئی "جملہ” بول دے تو ذہن کا تبادر اسی کی طرف ہوجاتا ہے انہیں اپنی جملہ بازی میں وہ مقام حاصل ہے کہ شاید ہی کوئی اس کا ریکارڈ توڑ سکے ۔ آج کل جملہ بولنے میں سوچنا پڑتا ہے ۔ اس لئے آپ کو آگاہ کیا گیا کہ آج ہم جس جملہ کو عقیدت کے ساتھ اپنی آنکھوں اور سروں پر رکھے ہوئے ہیں یہ ان جملہ بازوں کے جملوں جیسا نہیں ہے ۔ یہ تو جملہ صادقہ یقینیہ ہے کہ جس کی حقیقت و سچائیت کا کوئی بھی حقیقت پسند اور صاحب ذوق منکر نہیں ہوسکتا ۔ آئیے اس جملہ مفیدہ طیبہ طاھرہ کے تحت کچھ واقعات سے اپنے ذہنوں و قلوب کو منور و معطر کریں ۔
سیدنا اعلیٰحضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمة والرضوان مرجع العلماء تھے ، ہیں اور قیامت تک رہیں گے ۔ آپ وطن اور بیرون وطن ہر جگہ علماء اور طلباء کے مطمح و مطمع نظر رہے ہیں ،کبار علماء و دانشوران عظام بہت سے مسائل میں آپ کی طرف رجوع کئے ہیں ۔حضرت شیخ اسماعیل بن خلیل (مدینہ طیبہ) مکہ مکرمہ میں آپ سے علمائے کرام کے استفادہ کرنے کا نقشہ کھیچتے ہوئے فرماتے ہیں ” مکہ مکرمہ میں آپ کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ہر چہار جانب سے علماء و طالبین نے آپ کو گھیرلیا ۔کوئی سوال پیش کرکے استفادہ کرتا، کوئی صحیح و راجح مسئلہ پوچھتا جس میں اسے شک ہوتا ،کوئی صرف اشارہ کو منتظر ہوتا ۔ (الدولة المكيه ص۱۴ بحوالہ دبستان رضا )
سیدنا اعلی حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمت والرضوان نے افتاء نویسی کے ابتدائی زمانہ سے ہی علماء کی رہنمائی کرکے انہیں مشکلات سے بچایا ہے ۔
حیات اعلیٰحضرت میں ہے کہ ” ایک شخص رامپور سے حضرت اقدس امام المحققین مولانا نقی علی خان صاحب رضی اللہ تعالی عنہ کی شہرت سن کر تشریف لائے اور مولانا ارشاد حسین صاحب مجددی کا فتویٰ جس پر اکثر علماء کے مواہیر ودستخط ثبت تھے پیش خدمت کیا ۔حضرت نے فرمایا کمرہ میں مولوی صاحب ہیں ان کو دے دیجئے جواب لکھ دیں گے وہ کمرہ میں گئے اور آکر عرض کیا کمرہ میں مولوی صاحب نہیں ہیں ۔فقط ایک صاحبزادہ صاحب ہیں ۔فرمایا : انہیں کو دے دیجئے وہ لکھ دیں گے انہوں نے کہا حضور ! میں تو جناب کا شہرہ سن کر آیاتھا ۔حضرت نے فرمایا آج کل وہی فتویٰ لکھا کرتے ہیں انہیں کو دے دیجئے ۔اعلیٰحضرت نے جو اس فتویٰ کو دیکھا تو ٹھیک نہ تھا ۔اعلیٰحضرت نے اس جواب کے خلاف جواب تحریر فرمایا اور اپنے والد ماجد کی خدمت میں پیش فرمایا ۔حضرت نے اس تصدیق و تصویب فرمائی پھر وہ صاحب وہ فتویٰ کو دوسرے علماء کے پاس لے گئے ان لوگوں نے حضرت مولانا ارشاد صاحب کی شہرت دیکھ کر انہیں کے فتویٰ کی تصدیق کی ۔جب والی رامپور نواب کلب علی خان صاحب کی خدمت میں وہ فتویٰ پہنچا ۔ آپ نے شروع سے اخیر تک اس فتویٰ کو پڑھا ، اور تمام لوگوں کی تصدیقات دیکھیں ۔دیکھا کہ سب علماء کی ایک رائے ہے صرف بریلی کے دوعالموں نے اختلاف کیا ہے ۔حضرت مولانا ارشاد حسین صاحب کو یاد فرمایا ۔حضرت تشریف لائے نواب صاحب نے فتویٰ ان کی خدمت میں پیش فرمایا ۔حضرت مولانا کی دیانت اور انصاف پسندی دیکھئے کہ صاف فرمایا : فی الحقیقت وہی حکم صحیح ہے جو ان دوصاحبوں نے لکھا ہے ۔نواب صاحب نے پوچھا : پھر اتنے علما نے آپ کے فتویٰ کی تصدیق کس طرح کی ۔فرمایا ان لوگوں نے مجھ پر اعتماد میری شہرت کی وجہ سے کیا اور میرے فتویٰ کی تصدیق کی ورنہ حق وہی ہے جو انہوں نے لکھا ۔
(حیات اعلیٰ حضرت جلد اول ص۳۲۴۔۳۲۵)
کاش کہ ! حضرت علامہ مولانا ارشاد حسین صاحب مجددی رامپوری کی طرح علمائے دیوبند بھی دیانت دار اور انصاف پسند ہوتے اور ہٹ دھرمی کا شکار نہ ہوتے تو پاک وہند کے مسلمان وہابیت زدہ ہونے سے محفوظ رہتے اور نہ ہی مسلمان فرقوں میں بٹ کر غیروں کا مشق ستم بنتے۔
سیدنا اعلی حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمة والرضوان نے کاغذ کے نوٹ کا مسئلہ بھی حل فرمایا یہ مسئلہ علمائے مکہ کے لئے لاینحل مسئلہ بن گیا تھا جس مسئلہ کو شیخ جمال بن عبد اللہ مفتی حنفیہ نے بھی حل نہیں کرپایا تھا سیدنا اعلیحضرت نے اس مسئلہ پر ایک شاندار کتاب تحریر فرمایا وہ بھی وطن سے باہر مکہ مقدسہ میں تفصیل نیچے پڑھئے ۔
حج کے موقعہ سے شیخ مولانا عبد اللہ مرداد اور امام حرم شریف اور مولانا حامد محمد جداوی نے بسلسلہ نوٹ بارہ سوالات پر مشتمل ایک استفتاء فاضل بریلوی کے پاس بھیجا آپ نے ایک مبسوط کتاب بنام کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الدراھم کی شکل میں جواب دیا ۲۳ محرم الحرام ۱۳۲۴ھ کو اس کی تکمیل ہوئی ۔ محافظ کتب خانہ حرم شریف شیخ سید مصطفیٰ چونکہ نہایت خوشخط عالم تھے اس لیے ان کو یہ کتاب تبییض کےلیے دی گئی مبیضہ کی تصحیح کے لیے ۴ محرم ۱۳۲۴ھ ایک بار آپ ( امام احمد رضا علیہ الرحمة والرضوان) کتب خانہ پہنچے تو دیکھا کہ ایک عظیم المرتبت عالم( شیخ مولانا عبد اللہ بن صدیق موجودہ مفتی حنفیہ ) کفل الفقیہ الفاھم کے مطالعہ میں مشغول ہیں اور جب وہ اس مقام پر پہنچے جہ اں فاضل بریلوی نے فتح القدیر سے یہ عبارت نقل کی تھی لَو بَاعَ کَاغَذَةً بِاَلفٍ یَجُوزُ وَلَایَکرَہُ ۔ یعنی کوئی شخص اپنے کاغذ کا ٹکڑا ہزار روپئے میں بیچے تو بلاکراہت جائز ہے تو پھڑک اٹھے اور اپنی ران پر فرط مسرت سے ہاتھ مارتے ہوئے بولے ” این جمال بن عبد اللہ من ھذا النص الصریح ” حضرت جمال بن عبد اللہ ( سابق مفتی حنفیہ ) اس نص صریح سے کہاں غافل رہے ۔ حضرت جمال بن عبد اللہ سے بھی نوٹ سے متعلق یہی سوال ہوا تھا جس کا انہیں کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکاتھا ۔ (دبستان رضا ص ۱۳۸)
حضورسیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمة والرضوان ۱۳۲۳ ھ حج بیت اللہ شریف کےلیے تشریف لے گئے تو کچھ بدمذہبوں نے شریف مکہ کی بارگاہ میں علم غیب کا مسئلہ اٹھاکر آپ کو اور آپ کے محبین کو مشکلات میں ڈالنے کی کوشش کیا تھا اور وہ اپنے خیال خام میں واہ واہی لٹنا چاہتے تھے لیکن بفضل خدا ورسول (جل جلالہ وﷺ)آپ سرخ رو ہوئے اور بد باطن ذلیل خوار ہوئے ۔
حضرت شیخ اسماعیل بن خلیل (علیہ الرحمہ) فرماتے ہیں ” الشیخ العلامہ المجدد شیخ الاساتذہ المولوی الشیخ احمد رضاخان جب سنہ ۱۳۲۳ ھ حج بیت اللہ شریف کے لیے تشریف لائے تو بعض فاسقوں کی مدد سے چند بد نصیبوں نے اس وقت کے شریف مکہ کے وہاں ضرر پہنچانے کی کوشش کی اور ان کے ساتھ مکر کرنا چاہا چنانچہ علم نبی ﷺ کے بارے ان کے پاس سوال بھیجاگیا اور گمان کیا کہ وہ جواب نہ دے سکیں گے کیونکہ سفر کی تیاری میں ہیں اور یہاں ان کے پاس کوئی کتاب بھی نہیں ۔ مولانا نے ( اللہ ان کی تائید کرے) اس سوال کا وہ جواب دیا جس نے ہر مسلمان کی آنکھ ٹھنڈی کردی اور کافر وفاسق وگمراہ وبے نور کو ذلیل و خوار کیا ۔ (کتاب مذکور ص۱۲۹)
حضور سیدنا اعلیحضرت نے علم غیب نبی ﷺ پر بدمذہبوں کے پانچ سوالوں کے جواب میں جس عظیم الشان لاجواب کتاب کو تحریر فرمایا تھا اس کا نام الدولة المکیه فی المادة الغیبیه ہے ۔ یہ عربی زبان میں چار سو صفحات کی کتاب ہے جسے دونشستوں میں جو تقریبا آٹھ گھنٹے پر حاوی تھیں لکھی گئی ۔
ذالک فضل اللہ یوتیه من یشاء ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے علم غیب کے ثبوت پر سیدنا اعلیحضرت علیہ الرحمہ نے الدولة المكيه فی المادة الغیبیه اور دیگر موضوعات پر کم و بیش ایک ہزار سے زائد شاہکار تصنیفات تحریر فرماکر علمائے اہل سنت وجماعت کی بہت سی مشکلات کو دور فرماکر دنیائے سنیت پر احسان عظیم فرمایا ہے ۔ علمائے کرام آپ کا جتنا بھی احسان مند ہوں کم ہیں ۔
اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ آپ کے مزار پر انوار پر رحمت و انوار کی بارش نازل فرمائے اور ہمیں اور سارے جہان کے سنی مسلمانوں کو مسلک اعلی حضرت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے