خانوادۂ رضا منقبت

منقبت: وادی رضا کی کوہ ہمالہ رضا کا ہے

جلوہ ہے، نور ہے کہ سراپا رضا کا ہے
تصویرِ سنیت ہے کہ چہرہ رضا کا ہے

وادی رضا کی ، کوہِ ہمالہ رضا کا ہے
جس سمت دیکھیے وہ علاقہ رضا کا ہے

دستار آ رہی ہے زمیں پر جو سر اٹھے
کتنا بلند آج ، پھریرا رضا کا ہے

کس کی مجال ہے کہ نظر بھی ملا سکے
دربار مصطفٰی میں ٹھکانہ رضا کا ہے

الفاظ بہ رہے ہیں دلیلوں کی دھار پر
چلتا ہوا قلم ہے کہ دھارا رضا کا ہے

چھوتا ہے آسمان کو مینار عزم کا
یعنی اٹل پہاڑ، ارادہ رضا کا ہے

دریا فصاحتوں کے رواں شاعری میں ہے
یہ سہلِ ممتنع ہے کہ لہجہ رضا کا ہے

جو اس نے لکھ دیا ہے سند ہے وہ دین میں
اہل قلم کی آبرو ، نقطہ رضا کا ہے

اگلوں نے بھی لکھا ہے بہت دین پر مگر
جو کچھ ہے اس صدی میں وہ تنہا رضا ہے

اس دور پرفتن میں نذرؔ خوش عقیدگی
سرکار کا کرم ہے، وسیلہ رضا ہے

نوٹ: یہ زباں زد اور شاہ کار منقبت جناب پروفیسر جمیل نذرؔ مرحوم نے 1982ء میں لکھی تھی۔

پیش کش: انصار احمد مصباحی 9860664476

تازہ ترین مضامین اور خبروں کے لیے ہمارا وہاٹس ایپ گروپ جوائن کریں!

آسان ہندی زبان میں اسلامی، اصلاحی، ادبی، فکری اور حالات حاضرہ پر بہترین مضامین سے مزین سہ ماہی میگزین نور حق گھر بیٹھے منگوا کر پڑھیں!

ہماری آواز
ہماری آواز؛ قومی، ملی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین کا حسین سنگم ہیں۔ جہاں آپ مختلف موضوعات پر ماہر قلم کاروں کے مضامین و مقالات اور ادبی و شعری تخلیقات پڑھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اگر آپ اپنا مضمون پبلش کروانا چاہتے ہیں تو بھی بلا تامل ہمیں وہاٹس ایپ 6388037123 یا ای میل hamariaawazurdu@gmail.com کرسکتے ہیں۔ شکریہ
http://Hamariaawazurdu@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے