اصلاح معاشرہ

فیشن پرستی دورِ حاضر کا ایک سنگین فتنہ!

ازقلم: جمال احمد صدیقی اشرفی القادری شل یھاٹا

ہمارا دین اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں زندگی کے سب اصول بتائے گئے ہیں لیکن آج کے دور میں بےحیائی اور عریانیت عام ہورہی ہے ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ عورتوں کا بے پردہ ہونا ہے ۔ جب عورت ہرکسی پر حسن کے جلوے بکھیرے گی تو بےحیائی ہی جنم لےگی ۔
شرم وحیا اسلام کا زیور ہے ۔ اسلام دینِ فطرت ہے جو ہمیشہ انسانیت کی بھلائی اور عظمت وتعظیم کا درس دیتا ہے اعلیٰ اخلاق وکردار کی تکمیل کےلئے حیا کو ایمان کا حصہ بھی قرار دیا گیا ہے ۔
فیشن دورِ حاضر کا وہ سجا دھجا نام ہے جس کی آڑ میں ہرطرح کی بیہودگی ۔ کمینگی ۔ بےحیائی ۔ فحاشی ۔ عریانیت ۔ دہریت اور مادیت کو فروغ دیا جا رہا ہے فیشن پرستی کے اس طوفان بلاخیز میں نوجوان نسل اپنے تابناک ماضی کو فراموش کرکے حسن پرستی ۔ غیروں کی نقالی اور اپنی زندہ وتابندہ دینی روایات وتہذیب کی دھجیاں اڑاتی نظر آرہی ہے ۔ اس کے اندر مذہب سے بےگانگی اور شریعت کی پابندی سے اعلانیہ بغاوت ٹپکتی ہے ۔ ان کا دل ودماغ مغربیت کے بہاؤ میں بہہ چکا ہے ۔ ان کی زبان بھلے محاسن اسلام ہو لیکن ان کا جسم مکمل طور پر مغربیت کی زد میں ہے ۔ فیشن کے ایسے کپڑے جن سے مکمّل ستر نہیں ہوتا ۔ جن میں چمک اور مردوں کے لئے جاذبیت ہوتی ہے ان کا انتخاب کیا جاتا ہے اس لئے کہ یورپ کی بےحیا عورتوں نے انہی کپڑوں کو پسند کیا ہے اور ان کے یہاں اسی کو حسن اور ترقی کا معیار قرار دیا گیا ہے ۔ فلموں میں کام کرنے والی عورتوں کا عریاں لباس بھی مسلمانوں کے لئے آئیڈیل ہے ۔ مسلم خواتین اپنے بچیوں کےلئے بھی وہی لباس پسند کرتی ہیں ۔ جن سے ستر پوشی نہیں ہوتی ۔ بچپن سے جب بچیوں کا مزاج اس طرح بنایا جائے گا تو کیا وہ بعد میں نیک اور باحیا بن سکتی ہیں ؟آج بنت حوا فیشن کے نام پر کپڑوں کی ایسی تراش وخراش کرتی ہیں کہ شرم وحیا سرپیٹ کر رہ جائے ۔ جو لباس خالق کائنات نے ستر چھپانے کا ذریعہ بنایا تھا اسے آج آرائش وزیبائش اور نظارہ حسن کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے ۔ آج کی فیشن دنیا میں اہلِ یورپ کے لباس کو اپنے لئے آئیڈیل اور نمونہ بنا لیا گیا ہے ۔ کیا بچہ اور کیا بوڑھا ۔ کیا امیر اور کیا غریب ہرایک کا ازار اس قدر لمبا ہوتا ہے کہ چلتے ہوئے زمین پر کپڑے گھسیٹ رہے ہوتے ہیں ۔ یا اتنا چھوٹا اور چست ہوتا ہے کہ کپڑے پہنے ہوئے بھی ننگے معلوم ہوتے ہیں ۔ جس پر اتنی سخت وعید بیان کی گئی ہے جسے سن کر رونگٹے گھڑے ہوجائیں لیکن آج لوگ اسے اپنی عزت وافتخار اور سرخروئی کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ یہ ہماری احساس کمتری اور مرعوبیت کی بات ہے کہ دین وشریعت کی پسند اور اس کی حد بندیوں کو چھوڑ کر غیروں کا لباس اور ان کی تہذیب وتمدن کو ہم نے اختیار کرلیا اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں ۔
اللّٰہ تعالیٰ قوم مسلم کو شریعتِ اسلامیہ کا پابند اور اس کے احکام پر عمل کرکے ایک زندہ قوم ہونے کا ثبوت پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یارب العالمین ۔