سیاست و حالات حاضرہ

ووٹ کی اہمیت وافادیت اور ہماری ذمہ داری

ازقلم: جمال احمد صدیقی اشرفی القادری شل پھاٹا ممبرا

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہرفرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا

قارئین!
تین حرفوں کو ملا کر لفظِ ووٹ لکھا جاتا ہے ۔ لیکن اس میں موجود ایک ایک حرف گہرا خاموش اور معانی ومطالب سے لبریز ہے ۔ یہ مختصر سا لفظ ووٹ ۔ اپنے اندر کئی پہلوؤں کو سمیٹے ہوئے ہے اور ہرپہلو ایک لمبی تحریر کا خواہاں ہے لیکن مختصراً ان پہلوؤں کا تذکرہ اس تحریر میں کیا جاتا ہے ملاحظہ فرمائیں ۔
ہم میں سے اکثر لوگ ووٹ کی اہميت سے بےخبر ہیں ۔ بعض تو یہ بھی کہہ جاتے ہیں کہ اجی چھوڑو ۔ میرے ایک ووٹ سے کیا ہوگا ۔ ان کے حق میں جائے یا ان کے حق میں ۔ میرے ایک ووٹ سے یہ تھوڑی نہ فتحیاب ہوجائے گا ۔ کیوں نہیں ؟
قطرہ قطرہ دریا شود ! آپ کا ایک ووٹ بہت قیمتی ہے ۔
ہمیں یہ بات بھی معلوم ہونی چاہیے کہ اس دور میں کروڑوں زندگیوں کا انحصار ۔ سیکڑوں ریاستوں کی بقاء ۔ قوم وملت کا عروج وزوال ۔ عوام کی خوشحالی وبدحالی اور دیگر امور مثلاً تعلیم وتربیت ۔ ایک اچھا نظام ۔ پاکیزہ سوسائٹی ۔ بہترین کلچر ۔ قتل وغارت گری کا خاتمہ ۔ فتنہ وفساد کا سد باب ۔ ان تمام چیزوں کا انحصار اسی ایک ووٹ پر ہوتا ہے ۔
ایک جمہوری ملک میں ہرمنصب کا فیصلہ ووٹ سے کیا جاتا ہے ۔ کون حاکم بنےگا اور کون محکوم ؟ کون وزیراعظم بنےگا اور کون وزیراعلیٰ ؟ یہ تمام فیصلے ووٹ سے ہی کئے جاتے ہیں ۔ معلوم ہوا کہ آپ کا ایک ووٹ انتہائی اہميت کے حامل ہے ۔ ووٹ جمہوری معاشرے میں ایک طاقتور ترین غیر متشدد ہتھیار ہے ۔
لہٰذا اسے ضرور استعمال کرنا چاہیے ۔ لیکن عموماً ایسا دیکھا جاتا ہے کہ مسلمان اس کی اہميت کو پس پشت ڈال کر اس میدان میں اپنے آپ کو الگ تھلگ رکھنا پسند کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دورِ حاضر میں رفتہ رفتہ ہم سے سیاسی شعور سلب ہوتا جا رہا ہے ۔ اور امت مسلمہ اپنی سیاسی میدان مضبوط کرنے کے بجائے ہر ایرے غیرے کے پیچھے چلتے اور دوسروں کے جھنڈے اٹھاتے نظر آتے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں امت مسلمہ سیاسی اعتبار سے دن بدن بانجھ ہوتی جا رہی ہے اور ان کا مستقبل دوسروں کے رحم وکرم پر موقوف نظر آتا ہے ۔ حال یہ ہے کہ پسماندگی میں ہم چماروں سے بھی نیچے نظر آتے ہیں ۔ اور ہم غیروں میں قصور تلاش کرنے کی جستجو کرتے ہیں ۔ حالانکہ اس میں قصور غیروں کا نہیں ۔ بلکہ قصوروار ہم خود ہی ہیں ۔
ندیم شاد نے درست کہا ہے کہ ۔
سبب تلاش کرو اپنے ہار جانے کا ۔
کسی کے جیت پر رونے سے کچھ نہیں ہوتا ۔
اللہ تبارک وتعالیٰ جس قوم پر عذاب کا فیصلہ فرماتا ہے تو اس سے سیاسی شعور سلب کرلیتا ہے ۔
آج امت مسلمہ کے سامنے مختلف چائلنجس ہیں ۔ ایک طرف فتنہ ارتداد کا سیلاب ہے ۔ تو دوسری طرف ہم فرقہ پرستوں کے نشانے پر ہیں ۔ نہ ہماری عزت وعفت کی حفاظت ہے اور ناہی املاک واولاد محفوظ ہیں ۔ اور حد تو اس وقت ہوگئی جب ہماری بیٹیوں کی عصمت وعفت کو تار تار کرنے کے لئے ان کے پردہ کرنے یعنی حجاب پہننے پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں ۔ اور ستم بالائے ستم یہ کہ کوئی ان مظالم کے خلاف حکومتی سطح پر آواز اٹھانے والا نہیں ہے ۔ کوئی ہماری طرف سے لب کشائی کی جسارت ایوانِ پارلیمنٹ میں نہیں کرنے والا ہے ۔ اس کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری سیاسی طاقت مفقود ہوچکی ہے ۔ لہٰذا مفسدین کے نرغے سے قوم وملت کو محفوظ رکھنے اور اسلام مخالف طاقتوں کے نشانہ بننے سے بچنے اور اس کے مقابلے کے لئے ہمیں اپنے اندر سیاسی شعور کو بیدار کرنا پڑے گا ۔ نیز بصارت وبصیرت کےساتھ ہمیں فیصلے لینے پڑیں گے ! بصورت دیگر بھیانک نتائج کےلئے ہمیں تیار رہنا ہوگا ۔ امت مسلمہ کو یاد رکھنا ہوگا کہ سیاسی شعور کے بغیر ہمارے لئے اپنے وجود کا بچانا بھی مشکل ہوسکتا ہے ۔ چنانچہ زمانہ انقلاب کے علماء فرماتے تھے کہ ۔
اگر قوم کو پنج وقتہ نمازی نہیں ۔ بلکہ سوفیصد تہجد گزار بنا دیا جائے ۔ لیکن ان کے سیاسی شعور کو بیدار نہ کیا جائے اور ملک کے احوال سے ان کو واقف نہ کیا جائے ۔ تو ممکن ہے کہ اس ملک میں آئندہ تہجد تو دور پانچ وقت کی نمازوں پر بھی پابندی عائد ہوجائے ۔ لہٰذا سیاسی شعور بیدار کرنا اور اپنے حق ( ووٹ ) کے ذریعے انقلاب برپا کرنا ۔ منصبوں اور عہدوں پر لائق وفائق اشخاص کو بیٹھانا یہ ہماری ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری ہے ۔
جمہوریت میں سیاسی جماعتیں انتخاب جیتنے کےلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتی ہیں ۔ اور اس میں جو نااہل افراد منتخب ہوتے ہیں وہ قوم کے لئے اپنی ذمہ داری نبھانے کے بجائے اپنی ذات کی فکر اور حرام طریقہ سے اپنے مال واسباب بڑھانے میں لگ جاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہوتی ہے کہ قوم عروج کے بجائے زوال کی جانب کھینچی چلی جاتی ہے ۔ اس لئے ضرورت ہے کہ سیاست میں اچھے ۔ ایماندار ۔ دردِ دل رکھنے والے لوگ انتخابات میں حصہ لیں ۔ لیکن لوگوں نے سیاست کے معنی کو ہی بدل دیا ۔ آج انسان ہرغلط چیز کو سیاست پر محمول کرتا نظر آتا ہے جس کی وجہ سے شریف النفس لوگ سیاست سے اپنے آپ کو الگ رکھنا پسند کرتے ہیں ۔ جبکہ معلوم ہونا چاہیے کہ سیاست کوئی بری چیز نہیں ہے ۔ سیاست کے معنی حسنِ انتظام کے ہیں ۔ لہٰذا سیاست سے غلط مفہوم ومطالب ہی نکالنا یہ درست نہیں ہے ۔
ووٹ ۔ اور شریعت ۔ اسلام ۔
مجتہدین نے ووٹ کو چار معنی پر محمول کیا ہے ۔
(1) شہادت ۔ (2) سفارش ۔ (3) مشورہ ۔ (4) وکالت ۔
(1) ووٹ شہادت ہے اور جس طرح شہادت کو چھپانا جائز نہیں اسی طرح اپنے ووٹ کا استعمال نہ کرنا یہ بھی جائز نہیں جیسا کہ قرآن کریم یہ آیت مبارکہ دلیل ہے کہ ۔
لاتکتمواالشھادة ومن یکتمھا فانہ اثم قلبہ ۔ واللہ بما تعملون علیم ۔ (283) تم لوگ گواہی چھپایا مت کرو ۔ جو لوگ گواہی چھپاتے ہیں ان کا دل گنہگار ہے ۔ اور اللّٰہ تمہارے ا عمال سے باخبر ہے ۔
یاد رہے کہ گواہی چھپانے کی صورت میں صاحبِ حق کا حق تلف ہوتا ہے ۔ اور کسی کا حق تلف کرنا گناہِ کبیرہ میں سے ہے ۔ کتمان شہادت سے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت بھی ایک دلیل ہے کہ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ اللّٰہ تعالیٰ کےساتھ شریک کرنا اور جھوٹی گواہی دینا اور گواہی کو چھپانا ہے ۔
لہٰذا ووٹ جو ایک شہادت ہے اس کو کسی فوری لالچ کی وجہ سے کسی نااہل شخص کے حق میں دیئے جانے کے بجائے مستقل کو سامنے رکھ کر کسی اہل شخص کے حق میں ہی استعمال کریں ۔ نیز یہ بھی یاد رہے کہ غلط شہادت دینا شریعت اسلامیہ میں ایک بھیانک جرم ہے ۔ جس کا جواب ہمیں اللّٰہ کے حضور دینا ہوگا ۔
(2) ووٹ دینے والا بالفاظِ دیگر امیدوار کی سفارش کررہا ہے اور یاد رہے کہ سفارش اگر حق میں ہے تو بہت اچھا ۔ ورنہ سفارش کرنے والا بھی گناہ میں شریک مانا جائے گا ۔ جیسا کہ اس حدیث میں واضح ہے کہ ۔ من یشفع شفاعة حسنة یکن لہ نصیب منھا ۔ ومن یشفع شفاعة سیئة یکن لہ کفل منھا ۔ وکان اللّٰہ علی کل شئی مقیتا ۔
ترجمہ کنزالایمان ۔ جو اچھی سفارش کرے اس کے لئے اس میں سے حصہ ہے اور جو بری سفارش کرے اس کے لئے اس میں سے حصہ ہے اور اللّٰہ ہرچیز پر قادر ہے ۔
(3) ووٹر گویا منصف کو مشورہ دے رہا ہے کہ واقعی میں آپ کو اس لائق سمجھتا ہوں ۔ اور یاد رہے کہ مشورہ جب کسی سے لیا جاتا ہے تو وہ ان کے حق میں امین ہوتا ہے اسے چاہیے کہ وہی مشورہ دے جس میں اس کے علم کے مطابق مشورہ لینے والے کا خیر وفلاح مضمر ہو ۔ رسول اکرم ﷺ نے ایک صحابی کے مشورہ لینے پر ارشاد فرمایا ۔
المستسار موتمن ۔ ( ترمذی )
یعنی جس شخص سے مشورہ کیا جاتا ہے وہ امانت دار ہوتا ہے ۔ اور امانت میں خیانت کرنا بڑا جرم ہے ۔ نیز نفاق کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے اس لئے بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔
(4) ووٹر گویا امیدوار کا وکیل ہوتا ہے ۔ یعنی یہ کہ وہ اس کی وکالت کررہا ہے کہ میرا مؤکل حق پر ہے یہی منصب کا زیادہ حقدار ہے ۔ یاد رہے کہ جھوٹے وکیل کی شریعت میں سخت پکڑ ہے ۔
لہٰذا معلوم یہ ہوا کہ دین اور دنیا دونوں اعتبار سے ووٹ کی ایک اہميت ہے اس لئے الیکشن کے زمانے میں ووٹ اور اس کا صحیح استعمال کس طرح ہو اس تعلق سے ہمیں بیدار مغزی کا ثبوت دینا چاہیے ۔
اس وقت یوپی ۔ گوا ۔ پنجاب ۔ وغیرہ میں الیکشن زوروں پر ہے ۔ سب کے اپنے اپنے دعوے اور وعدے ہیں لیکن ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایک ایسے شخص کو منتخب کریں جو ہمارے لئے حق کی آواز بلند کرسکیں اور ہم تک ہمارے حقوق من وعن پہنچ سکے ۔
خصوصاً پڑھے لکھے لوگوں سے درخواست ہےکہ آپ اپنی ذمہ داری کو کبھی فراموش نہ کریں یاد رہے کہ کل قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ کے سامنے پیش بھی ہونا ہے ۔ اور جواب بھی دینا ہے ۔ ان السمع والبصر والفؤاد کل اولئک کان عنہ مسؤلا ۔
یقیناً کان ۔ آنکھ اور دل ۔ انسان سے ان سب کے بارے میں پوچھ ہوگی ۔
لہٰذا عوام کی صحیح رہنمائی کریں ۔ انھیں حق وباطل کی تمیز کرائیں ۔
اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کے اندر سیاسی شعور پیدا فرمائے ۔ اور ہم سب کی غیب سے مدد فرمائے ۔
آمین یارب العلمین ۔