سیاست و حالات حاضرہ

جنگ آخر جنگ ہوتی ہے

تحریر: انصاراحمدمصباحی، پمپری ، پونے
9860664457 aarmisbahi@gmail.com

جنگ آخر جنگ ہوتی ہے۔ جنگ ہارو تو ہزیمت و رسوائی ملے گی، بھکمری اور غربت آئے گی، لاچاری آئے گی اور جنگ جیت بھی جاؤ تو نتیجے میں آہیں اور بد دعائیں ملیں گی۔

ذرا دیر کے لئے خود کو کسی جنگ کے میدان میں تصور کرو!
ہر طرف سراسیمگی ہے، خونیں ہیں ، نیم مردہ لاشیں بارود کے چھڑوں کے ساتھ خون میں لت پت تڑپ رہی ہیں ، چیخ و پکار اور آہ و فغاں سے پوری فضا گونج رہی ہے، وہ گھروں کی چھتوں سے اٹھتا دھواں ، یہ آگ کے شعلے ، یہ میزائل کی گرجیں ، مسلسل بجتے سائرن ، یہ ایمبولینس اور آگ بجھانے والی گاڑیوں کی دوڑ ۔
اجڑے محلات ، یہ ملبوں میں دبے زندہ لوگ جو چیختے چیختے آخری ہچکی لے لیے ہیں؛ یہ بچے جو ابھی کھلکھلاکر ہنس رہے تھے ، اچانک موت کی نیند سوگئے ؛ یہ حاملہ عورت جو کسی مضبوط پناہ گاہ کی تلاش میں تھی ، ابھی خاک و خون میں تڑپ رہی ہے؛ یہ نوجوان اور بوڑھے جو بھوک سے بلک رہے ہیں؛ ذرا اس جیالے کو بھی دیکھو، جو اپنی زمین کو اجڑتے دیکھ کر جھلاکر دشمن سے نبرد آزما ہو گیا، پر اسلحہ کی شکل میں ہاتھ میں ایک نوکیلا پتھر ہے ، جو ٹینک کے سامنے لیے کھڑا ہے ۔

جنگیں ماضی میں بھی ہوئی ہیں؛ لیکن ان کے کچھ اصول اور ضابطے تھے۔ کسی ملک یا قوم میں اچانک جنگ کی تلوار نہیں لٹک جاتی تھی۔ پہلے جنگ کے لئے میدان ہوتے تھے، جن میں تربیت یافتہ فوج جاتی تھی ، جی جان سے لڑتی تھی۔ کچھ دیر لڑ کر پھر کھانے پینے اور ریسٹ کی مہلت ملتی تھی۔ کسی ایک کی گردن اڑتی تو خوف و ہراس سے سب کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے۔ آج موت و زیست کا فیصلہ محض ایک کلک پر ہوجاتا ہے۔بٹن پر ایک انگلی پڑی اور پوری عمارت تباہ ؛ بٹن دبا اور پورا کا پورا محلہ آتش فشاں میں تبدیل۔

اسلام میں بھی جنگیں لڑی گئیں ہیں۔ غیر جانب دار تاریخ کے اوراق بتارہے ہیں۔ اسلام نے ہمیشہ امن کے لئے جنگ لڑا ، نوع انساں کو ظلم و سفاکی سے نجات دلانے کے لئے جنگیں ہوئیں۔ ان میں بھی بڑے سخت اصول تھے۔ جنگ کیسی بھی ہو، عورتوں اور بچوں کی مکمل حفاظت ہوگی۔ ایک بچہ بے گناہ مارا گیا تو ستر جنگوں کی فتح کا ثواب بھی اس گناہ کو نہیں دھو پائے گا۔ اسلامی سپاہ سالار پہلے صلح پیش کرتے ہیں ، امن و سلامتی پیش کرتے ہیں ، دشمن راضی نہ ہو تو انھیں انخلاء کی تاریخ ملتی ہے ، خوراک جمع کرنے کی مہلت ملتی ہے۔ مسلمان حکمراں دشمنوں پر فتح حاصل کرنے کے بعد ان کی عمارات اور یاد گار کو مسمار نہیں کرتے ، ان پر غیر انسانی قوانین نہیں تھوپتے۔

اقوام عالم کو ایک بار پھر اسلامی اصول اپنانے کی ضرورت ہے۔