سیاست و حالات حاضرہ گوشہ خواتین

حجاب تنازع پر کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ خود عدلیہ کو شرمسار کردینے والا ہے

ازقلم: (مفتی) محمد علاؤالدین قادری رضوی، میراروڈ ممبئی

ملک کی عدلیہ کی طرف سے حجاب تنازع پر جوفیصلہ آیا ہے وہ حیران کن ہے جس کی توقع ملک کے کسی بھی انصاف پسند باشندے کو نہیں تھی ۔ سرکار ترقیاتی کاموں پر کام کرنے کے بجائے لوگوں کو مذہب کی آڑ میں اپنا الو سیدھا کرنے میں لگی ہے ، جب سے بی،جےپی سرکار اقتدار میں آئی ہے مسلمانوں کی مذہبی امور میں دخیل ہوکر اپنی ناکامی چھپانے میں لگی ہے ۔ ملت اسلامیہ کا وہ دانشمند طبقہ جسے حکومتی کام کاج میں میں شریک ہوکر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا چاہئیے تھا وہ بھی کہیں نا کہیں باطل قوتوں کے فریب کا شکار ہے ۔ اس سے ہر مسلمان بخوبی واقف ہے کہ اسلام کی توسیع میں دعوت و تبلیغ کا جو احسن طریقہ ہے اسی کے مطابق کام کرنے سے اسلام کی ترویج و اشاعت ممکن ہے باوجود اس کے ہم بڑی آسانی سے کفار و مشرکین کی طرف سے بچھائے گئے جال میں پھنستے جارہے ہیں ، کبھی طلاق کے مسائل کو لیکر تو کبھی حجاب کے مسئلہ میں ہم اپنی توانائی صرف کرنے میں لگے ہیں جبکہ ہمیں اپنی صلاحیتوں کا بروقت استعمال کرتے ہوئے حکمت و دانائی سے خاموش جو تعلیمی اداروں کی کمی ہے اس کی طرف پوری توجہ مبذول کرکے کام کرنے کی ضرورت ہے ، پھر دیکھیں! کچھ ہی سالوں کے بعد ملک کے نقشہ پر مسلمانوں کی ایک اچھی شکل نظر آنے لگے گی کیا مجال ہے ؟ کہ کوئی مسلمان اور اسلام کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھے ، لیکن ہمیں آپسی اختلافات سے فرصت ملے جب نا خط مستقیم پر چلنے کی راہ ہموار ہوں ۔

حجاب کو ہر مذہب میں پسند کیا جاتا ہے اسے تو سیاسی لیڈران نے صرف اپنے فائدے کے لئے ایک خاص مذہب کا لباس بناکر پیش کردیا ہے ، غیرمذاہب کی عورتیں بھی تو گھونگھٹ ڈالتی ہیں کیا یہ حجاب نہیں ہے ؟؟ یہ بھی تو حجاب ہی کی ایک صورت ہے لیکن یہاں کوئی تنازع نہیں ۔ اسلام نے مرد عورت ہرایک کو پردے کا حکم دیا ہے بلکہ اسلام میں تو عورتوں کو اس کی بھی اجازت نہیں کہ وہ بلند آواز سے باتیں کریں ، غیر محرم مردوں کے سامنے بے پردہ آئیں ، اگر کبھی نامحرم مردوں سے بات کرنے کی ضرورت آن پڑی تو حکم ہے کہ وہ کسی محفوظ جگہ یا پردہ کے پیچھے سے بات کریں وہ بھی بقدر ضرورت ، آج کتنی مسلم عورتیں ہیں جو اس کا خیال رکھتی ہیں ۔ ہم نے حجاب میں بھی بعض عورت کو بے پردہ دیکھا ہے ، گو حجاب کو بھی آج فیشن بنالیاگیا ہے ۔ کرناٹکا کی ہماری جس بہن نے حجاب کو لے کر آواز بلند کی اور پوری دنیا میں شہرت حاصل کرلی تھی معاذاللہ! ہم نے وہ منظر بھی دیکھا کہ ایک نامحرم شخص اس کے سرپر اس کی بہادری کی داد دیتے ہوئے ہاتھ رکھ کر دعا دے رہاہے اور ارد گرد بےشمار غیرمحرم اشخاص کھڑے اس تماشے کو دیکھ رہے ہیں ، کیا کہ اہل اسلام کا اسلام کے ساتھ کھلا مذاق نہیں ہے تو کیا ہے ؟؟

ہمیں سب سے پہلے خود کو قانون اسلام کی پاسداری کرنی ہوگی پھر راہ خود ہی ہموار ہوتے چلے جائیں گے ، اب جبکہ حجاب کو کرناٹکا ہائی کورٹ نے یہ کہہ کر خارج کردیاہے کہ یہ خالص اسلامی لباس ہے تو اس پر بہت تعجب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہم مسلمانوں کو اپنی بچیوں کو غیروں کی تعلیم گاہ میں بھیجنے کے بجائے اپنی اسلامک تعلیم گاہ بنائیں ، جہاں عصری علوم میں اعلیٰ تعلیم کا معقول انتظام ہوں ، اگر ایسا نہیں کرتے ہیں تو شاید سپریم کورٹ سے بھی منصفانہ فیصلے کی امید ختم کردیں کیونکہ جب اقلیت کی بات آتی ہے تو ہائی کورٹ دائر پٹیشن پر یہ کہہ کر فیصلہ سناتا ہے کہ یہ مذہبی لباس ہے اس لئے اسے پہن کر اسکولس ، کالیجیز میں داخلے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے مگرجب اکثریت کی بات آتی ہے تو ملک کا سپریم کورٹ مذہبی آستھا کو ٹھیس نہ پہنچے یہ کہہ کر اکثریت کے حق میں فیصلہ سنادیتا ہے ، جس کی مثال بابری مسجد ہے دنیا جانتی ہے کہ برسوں پرانی بابری مسجد کو قانونی طور پر اکثریت کو دیدی جاتی ہے ، مسجد توڑنے والے ہندو آتنکی کو باعزت بری بھی کردیاجاتاہے ۔ مسلمانو ! اب بھی وقت ہے کہ ہوش کی ناخن لو اور ملک میں اپنی جگہ بناؤ ، اتحاد پارہ پارہ نہ ہوں اس کے لئے لائحہ عمل تیار کرو ورنہ اسی طرح اپنی بربادی کا انتظار کرو!

کسی نے خوب کہا ہے

نہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے ائے ہندی مسلمانو!

تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں