اصلاح معاشرہ

حجاب کے معاملے میں خانقاہوں سے سوال کیوں؟؟؟؟

ازقلم: عروہ فاطمہ، ممبئی انڈیا

خانقاہوں سے حمایت کیوں نہیں ہو رہی، علمائے کرام کیوں کوئی حمایتی بیان جاری نہیں کر رہے وغیرہ وغیرہ سوالات نظر آ رہے ہیں سوشل میڈیا پر… وہ بھی کافی پڑھے لکھے لوگوں کی وال سے…

یہاں میرا سوال یہ ہے کہ حجاب کی حمایت میں خانقاہوں اور علمائے کرام کے کہنے کا انتظار کیوں؟؟
جب سے پردے کے احکام نازل ہوئے ہیں تب سے علمائے کرام اور اہلِ خانقاہ نے ہمیشہ حجاب کی اہمیت، حجاب کے احکامات، حجاب کی تاکید و تلقین کے سلسلے کو جاری ہی رکھا….. ان افراد کو حجاب کی حمایت کی تجدید کی ضرورت نہیں ہے….

حجاب کی اہمیت کی تجدید کی ضرورت ہم عام مسلمانوں کو ہے…

ابھی بھی بیوقوفوں کی طرح وہی راگنی چل رہی ہے کہ فلاں نے بیان جاری نہیں کیا فلاں پیر نے کچھ نہیں کہا وغیرہ…

بیوقوفوں!!!! اب بیوقوفی چھوڑو اور یہ مہم چلاؤ کے جو مسلمان لڑکیاں حجاب نہیں لیتی ہیں وہ بھی حجاب لیں اور اس موقع پر پورے ہندوستان میں ہر اسکول ہر کالج ہر یونیورسٹی میں تمام مسلم لڑکیاں حجاب لے کر جائیں… مردوں کو چاہیے کہ اپنے گھر کی ساری عورتوں کو حجاب کروائیں…

یہ ہوتی ہے صحیح طریقے سے حمایت…

یہ 2،4 اسٹیٹس بنا کر لفظی حمایت کرنا پھر دوسروں پر تنقید کرنا کہ فلاں نے حمایت نہیں کی فلاں نے آواز نہیں اٹھائی یہ خود کی بزدلی چھپانے کا اچھا طریقہ ڈھونڈا ہے…

حجاب کے معاملے میں تمام خانقاہیں اور علمائے کرام ہمیشہ سے بہت حساس رہے ہیں اور عورتوں کو ہمیشہ حجاب کی اہمیت بتاتے رہے ہیں…
تو جو پہلے ہی سے حامی ہیں ان پر سوال مت اٹھائیں اپنے اپنے گریبان میں جھانکیں…..

کرناٹک میں جو معاملہ ہوا اور جس لڑکی نے ہمت اور جرآت دکھائی ہم ہمیشہ سے ایسی باپردہ خواتین کے حامی رہے ہیں اور خود بھی پردے کو پسند کرتے ہیں…

ہوش میں آنے کی اور آنکھ کھولنے کی ضرورت ان مسلمانوں کو ہے جو فیشن کے نام پر حجاب کو چھوڑ بیٹھے ہیں…

نوٹ:
برا لگا کسی کو تو لگے، مجھے پرواہ نہیں…