شعبان المعظم

شبِ برأت میں اشتہاری معافی نامہ کی حقیقت

ازقلم: محمدشمس تبریز قادری علیمی
اسلامی اسکالر: ایم۔اے۔ بی۔ایڈ۔ مدارگنج،ارریہ بہار

شبِ برأت وہ عظیم الشان رات ہے کہ جس میں اللہ رب العزت اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی گنہگار و خطا کار امت کی مغفرت فرماتا ہے ۔ اس رات انسانوں کے سارے معاملات تقسیم کئے جاتے ہیں ۔ نیکیوں کی موسلا دھار بارش ہوتی ہے ۔ دنیا و آخرت کی بہتری کے لئے جو بھی گریہ وزاری کے ساتھ دعائیں مانگے اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں ۔ اس شب میں اللہ کی رحمتیں پکارتی ہیں کہ آؤ اپنی سوئی ہوئی تقدیر کو بیدار کرلو، آج کی شب دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے رب سے جو چاہو مانگ لو، روزی میں کشادگی چاہیے تو آؤ! قرض سے سبکدوشی مطلوب ہے تو آؤ! بہترین جاب کی تلاش ہے تو طلب کرو، اولاد نرینہ کی چاہت ہے تو کسی ڈھونگی بابا کے پاس جانے کی ضرورت نہیں بلکہ آج کی شب رب سے لے لو، یعنی ہر کسی کو آواز دی جاتی ہے کہ مانگ لو اور اپنی مرادیں حاصل کرلو! مگر اس با برکت اور مقدس رات میں کچھ ایسے محروم بندے بھی ہیں کہ جن کی دعائیں قبول نہیں ہوتی ہیں ۔احادیث مقدسہ کی روشنی میں یہ بات معلوم ہوئی کہ عام مغفرت کی اس مبارک رات میں چودہ (۱۴) قسم کے آدمیوں کی مغفرت نہیں ہوتی؛ لہٰذا ان لوگوں کو اپنے احوال کی اصلاح کرنی چاہیے: (۱) مشرک، کسی بھی قسم کے شرک میں مبتلا ہو (۲) بغیر کسی شرعی وجہ کے کسی سے کینہ اور دشمنی رکھنے والا (۳) اہل حق کی جماعت سے الگ رہنے والا (۴) زانی وزانیہ (۵) رشتے داری توڑنے والا (۶) ٹخنوں سے نیچے اپنا کپڑا لٹکانے والا (۷) ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا (۸) شراب یا کسی دوسری چیز کے ذریعے نشہ کرنے والا (۹) اپنا یا کسی دوسرے کا قاتل (۱۰) جبراً ٹیکس وصول کرنے والا (۱۱) جادوگر (۱۲) ہاتھوں کے نشانات وغیرہ دیکھ کر غیب کی خبریں بتانے والا (۱۳) ستاروں کو دیکھ کر یا فال کے ذریعے خبر دینے والا (۱۴) طبلہ اور باجا بجانے والا۔ (شعب الایمان ۳/۳۸۲، ۳۸۳، الترغیب والترہیب ۲/۷۳)
قارئین کرام! یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب سے سوشل میڈیا کا رواج عام ہوا ہے خصوصاً واٹسیپ، فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام اور ٹیلی گرام وغیرہ لوگوں کی توجہ کا مرکز و محور بن گیا ہے تو دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے کی خبر و خیریت کے لئے وقت نکالنا مشکل ہوگیا ہے ۔ جب کبھی کوئی مسئلہ درپیش ہوا تو فوراً میسج لکھ دیا ۔ موبائل فون کے ابتدائی زمانے میں لوگوں کو بڑی مہنگی کال کرنی پڑتی تھی مگر اس کے باوجود ایک دوسرے کو کال ضرور کرتے تھے مگر موجودہ زمانہ میں کال بہت ہی سستی اور غیر محدود ہیں پھر بھی وقت نہیں ملتا کہ کچھ منٹ کال پر خیریت دریافت کی جائے ۔ اسی طرح چند سالوں سے یہ دیکھا جارہا ہے کہ جب شعبان المعظم کا مہینہ شروع ہوتا ہے اور خصوصی طور پر شب برأت سے ایک دن قبل یہ پیغام سوشل میڈیا پر بڑی تیزی سے گردش کرنے لگتا ہے : ” ‏شب برآت آنےوالی ہے! اس مبارک رات میں الله تعالیٰ کی بارگاہ میں ہم سب کےاعمال نامے پیش ہونے ہیں ۔ آج تک میری طرف سےجانے انجانےمیں کوئی غلطی، گستاخی، غیبت ہوئی ہو یا میری کسی بات سے، انداز سے، کردار سے ، آپ سب کا دل دکھا ہو تو اللہ کی رضا کے لیے شب برأت سے پہلے مجھے معاف فرما دیں! "۔
پیارے بھائیو اور دوستو! ایسے اشتہاری معافی نامہ بھیج کر ہم یہ نہ سمجھیں کہ ہماری ذمہ داری ادا ہو گئی، ہرگز نہیں! بلکہ ہمیں اپنی روز مرہ زندگی کے ہر لمحے پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں قصداً عمداًیا سہواً کسی کا دل تو نہیں دکھایا ہے؟ کسی پر ظلم تو نہیں کیا ہے؟ کسی بھائی کی حق تلفی تو نہیں کی ہے؟ اگر ایسا ہوگیا ہے تو اس برکت والی رات کے آنے سے پہلے آپسی اختلافات کو دور کر لیں اور خصوصاً اپنے والدین سے معافی مانگیں اور یہ عزم مصمم کریں کہ کبھی بھی والدین کی نافرمانی نہیں کریں گے اسی طرح اعزہ و اقرباء کے ساتھ بہتر سلوک کریں، جانے انجانے میں کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو ان سے معافی طلب کریں، جس کسی کو آپ کی ذات اور بات سے یا کسی طرح سے بھی تکلیف ہوئی ہو ان سے براہ راست یا کسی دوسرے ملک میں ہونے کی صورت میں فون پر معافی مانگیں اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سچی توبہ کریں اور آئندہ اپنے کئے پر دل سے نادم و پشیماں رہیں، دوسروں کی قدر کرتے رہیں ۔ اور تواضع و انکساری کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس مقدس رات کے صدقے ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے مرحومین کے درجات بلند فرمائے آمین ۔