سیاست و حالات حاضرہ

فرقہ واریت ناگزیر ہے

ازقلم: پٹیل عبد الرحمٰن مصباحی، گجرات (انڈیا)

فرقہ اور فرقہ واریت کی تفہیم کے لیے لمبی اصطلاحی توجیہ کی بجائے صرف اتنا کہنا کافی ہوگا کہ مذہب کے شفّاف اور رواں دواں چشمے پر جب بھی کوئی اپنی غلیظ فکر کی پلید مٹی سے غیر ضروری بند باندھ کر یا اپنی کج فہمی کی بنجر زمین پر لایعنی تاویلات کی نہریں نکال کر؛ اُس چشمے کا رخ موڑنے کی کوشش کرے تو ایسے غیر متوازن عمل کو فرقہ واریت کہتے ہیں. یہ کوئی آج شروع ہونے والا نیا نرالا کام نہیں ہے بلکہ خیر القرون میں خارجیت و رافضیت کے نام پر یہ شریر عمل آب و تاب کے ساتھ کیا گیا اور اس کے تدارک کا عمل بھی نیا نہیں ہے بلکہ امت کے وہ افراد جن کے آپس میں مہربان ہونے کی گواہی قرآن نے دی، ایسے نرم دل و اتحاد پسند حضرات نے دونوں بدعتی گروہ (دونوں فرقوں) کے خلاف قولی و فعلی جد و جہد کا راستہ اپنایا. تدارک کے اِس عمل کے دوران خیر القرون کے پاکیزہ نفوس نے الگ راہ چلنے والے بدعتیوں کو دائرہ اسلام سے خارج مرتد بھی قرار دیا اور عند الضرورت ان کے خلاف صرف قولی شدت ہی نہیں برتی بلکہ عملی قتال سے بھی کام لیا۔

اسلامی تاریخ میں فرقوں کی شرارت کو کچلنے کا یہ عمل ابتدائی دور سے لے کر آج تک مسلسل جاری رہا اور ہر دور میں سواد اعظم نے اسلام کے شفاف چشمے کو گدلا کرنے کی کوشش کرنے والے چھوٹے موٹے گروہوں کی ابتداءََ تفہیم کی اور انتہاءََ ضرورت پڑنے پر تضلیل و تکفیر سے بھی کام لیا. اس سارے عمل کے باوجود نہ مسلمانوں کی ترقی میں کوئی رکاوٹ آئی نہ ہی کفر کے مقابلے میں اسلام کی برتری اور اہل اسلام کی فلاح میں کوئی کمی واقع ہوئی. بلکہ قرن اول میں خارجیت و رافضیت کی شکل میں تمام تر داخلی انتشار کے باوجود اہل اسلام ڈیڑھ صدی کے اندر اندر تین بر اعظموں پر چھا گئے اور اسی تسلسل کے ساتھ تقریباً بارہ صدیوں تک نصف سے زائد دنیا پر حکمرانی بھی کرتے رہے. مذکورہ تفصیل سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اسلام کی بنیادوں کے خلاف نظریات کا اختراع کرنے والے گروہوں کو فرقہ قرار دینا اور ان کے افکار سے بیزار ہونے کا اظہار کرنا؛ چودہ سو سالہ امت کا اجماعی عمل ہے. ساتھ ہی یہ حقیقت بھی کھل گئی کہ یہ عمل پوری اسلامی تاریخ میں کبھی بھی عالم اسلام کی پیش رفت میں مانع نہیں رہا بلکہ مسلسل بدعتی فرقوں کو کچلنے کا کام ہوتا رہا ہے اور اس کے ذریعے اسلام کی نظریاتی بنیادوں کو پہلے سے زیادہ استحکام بخشا گیا ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ گزشتہ دو صدیوں میں استعماریت سے پیدا شدہ؛ سرمایہ دارانہ جمہوریت کے تحت؛ پروان چڑھنے والی دنیا میں؛ جہاں سیکولرازم کے نام پر غیر محدود رواداری کی بھرپور حوصلہ افزائی ہوئی ہے وہیں انسانیت نوازی کے نام پر مذہبی تصلّب اور دینی حمیّت کی مکمل حوصلہ شکنی بھی کی گئی ہے. استعماریت اور جدیدیت کے مسلسل حملوں سے سیاسی و نظریاتی طور پر انتہائی ضعف کا شکار ہو چکی مسلم دنیا کو یہ باور کرانا بہت آسان تھا کہ تمہارے زوال کی اصل وجہ تمہارے دین کی نظریاتی بندشیں ہیں. تم اپنے دین، اسلام کی تعبیر و تشریح میں امت کے اجماعی تسلسل یعنی سبیل المؤمنین کو بنیاد بناتے ہو اور اظہار رائے کی آزادی کو تم نے مکمل طور پر سلب کر رکھا ہے. اگر تمہیں نئی دنیا میں کامیاب ہونا ہے تو اسلام کی ہر بےتکی، لایعنی، غیر معتدل، الحاد پرور اور جدّت زدہ تعبیر و تشریح کو؛ جس پر اسلام کا صرف لیبل ہی لگا ہو اگر چہ برائے نام ہی سہی؛ قبول کرنا ہوگا. نظریاتی طور پر نیا راستہ اپنانے والوں کو بدعتی کہنے کی بجائے انہیں اپنا مسلمان بھائی بتانا ہوگا. تب کہیں جا کر تم مغرب کی طرح عروج پا سکو گے. نتیجتاً عوام تو عوام بعض خواص بھی اسلام کے نام پر ہر تعبیر و توجیہ قبول کرنے اور اس پر اپنے فرقہ واریت سے بے زار ہونے کا اعلان کرنے کے فتنے میں مبتلا ہو گئے. جیسے فقہی فروعی اختلافات میں طعن و تشنیع اور تفسیق و تخریج پارٹی پالیٹکس والی جمہوریت کی دین ہے ایسے ہی اصولی نظریاتی اختلافات کو غیر اہم اور لایعنی گردان کر مداہندت سے کام لینا بھی سیکولر مزاج والی جمہوریت ہی کا کرشمہ ہے. دونوں ہی گروپ اعتدال سے دور، جدیدیت زدہ اور غیر محفوظ اتحاد یا غیر ضروری افتراق کے شکار ہیں۔

بلا شبہ ضرورت کے تحت بطور مسلمان ایک پلیٹ فارم پر آنا؛ ایک حکمت بھرا عمل ہے مگر اس کی رو میں بہتے ہوئے فرقہ واریت کو لعنت سمجھنا؛ یہ ناعاقبت اندیشی کا کھلا ہوا نمونہ ہے. پھر سواد اعظم سے ہٹ کر چھوٹی چھوٹی پگڈنڈیاں بنانے والے بدعتی گروہ؛ ایسا سمجھیں تو یہ ان کا تو دیرینہ خواب ہے کہ ان کی بدعت کو نظر انداز کرتے ہوئے؛ انہیں بھی اسلام کا نمائندہ مان لیا جائے. لیکن اگر خود سواد اعظم؛ یہ سمجھنا شروع کر دے کہ کسی بھی فرقے کی تردید نہیں ہونی چاہیے تو یہ اسلام کی نظریاتی بنیادوں کے لیے ایک انتہائی خطرناک سوچ ہے، جس سے دور رہنے کا تاکیدی حکم بار بار قرآن و حدیث میں دیا گیا ہے. سواد اعظم کے بعض افراد کو اگر کسی بدعتی گروہ کے خلاف محاذ نہ کھولنے کی فکر ہوتی ہے تو کیا اُن چھوٹی چھوٹی نالیوں کی شکل میں نظریاتی گند پھیلانے والے فرقوں کی یہ ذمہ داری نہیں بنتی کہ اپنی غیر اسلامی روش پر غور کرتے ہوئے اپنی غلطیوں کی اصلاح کرے اور سواد اعظم میں شامل ہو کر اسلامی اتحاد کو مضبوط کرے؟!! عجب منطق ہے کہ بدعتی اپنی الگ حیثیت پر بضد ہو کر بھی اتحاد پسند ٹھہریں اور سواد اعظم کے ماننے والے ایک کشادہ شاہراہ کی طرف بلا کر اہل اسلام کو جمع کرنے کی بات کرنے کے باوجود؛ انتشار پسند کہلائیں؟

فرقہ واریت کو لعنت سمجھ کر بدعتی گروہوں کو ہلکے میں لینے کا ایک بڑا نقصان اور بھی ہے، جس کا خمیازہ ہمیں یعنی امت مسلمہ کو نظریاتی سطح پر بھگتنا پڑتا ہے. امت کے اجماعی دھارے سے نکل کر الگ اعتقادی و نظریاتی راہ اپنانے والوں کو اگر نظر انداز کر دیا جائے تو بسا اوقات ایسے خود ساختہ نظریات سے پیدا ہونے والے گروہ؛ اپنے آپ کو اسلام کے حقیقی نمائندے کی حیثیت سے پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں. نتیجتاً ایک خود تراشیدہ نظریہ کو اسلامی نظریہ کے طور پر دیکھا بھی جاتا ہے اور اسلامی نظریہ ہی کی حیثیت سے اس پر نقد و نظر کا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا ہے. بالآخر وہ تمام فکری خرابیاں جو ایک خاص طبقہ کے خود ساختہ نظریہ میں ہوتی ہیں انہیں اسلام کے دامن میں ڈال کر خوب کھری کھوٹی سنانے کا جواز؛ اسلام دشمن لوبی کے لیے آسانی سے نکل آتا ہے. اِس اعتبار سے فرقہ واریت کو لعنت سمجھنا خود ایک بدترین بدعت ہے جس کے سبب ہر روز ایک غیر اسلامی نظریہ پر اسلام کا ٹھپّہ لگ جاتا ہے او پھر کفر و الحاد کے نمائندے اسی کا سہارا لے کر اسلام کے خلاف بکواس شروع کر دیتے ہیں. اس باب میں مستشرقین کا لٹریچر منہ بولتا ثبوت ہے کہ اہل بدعت کی پیش کی ہوئی نام نہاد اسلامی تعلیمات کو کس طرح اسلام کے خلاف زہر افشانی کے لیے کام میں لایا گیا. مستشرقین کے الزامات کی تفصیل طوالت کا سبب ہوگی، البتہ لگے ہاتھوں ماضی قریب کی چند مثالوں سے نظریاتی نقصان کا کچھ اندازہ لگاتے چلیے اور غور کیجیے کہ اعتقادی فرقہ واریت کو محض سیکولر ذہنیت کے سبب لعنت سمجھنے کے نتائج کتنے خطرناک آ سکتے ہیں۔

اگر دیابنہ(مقلد وہابیہ) کے ساتھ ملی مسائل میں جمع ہوتے وقت امکان کذب اور وقوع کذب کی بدعات کو نظر انداز کر دیا جائے تو بھلا بتاؤ تو سہی کسی ملحد کے سامنے مسلمان ہوتے ہوئے کسی جھوٹے خدا کی وکالت کیسے کرو گے؟
اگر وہابیہ غیر مقلدیہ کے ساتھ ایک پلیٹ فارم کھڑے ہوتے وقت یہ فراموش کر دیا جائے کہ اسلامی شخصیات کے آثار باعث برکت ہیں اور جو ایسا کرنے کو شرک سمجھے پھر بقیع کو بلڈوز کرنے کو مستحسن جانے؛ وہ اسلامی نظریہ کا حامی نہیں رہتا. اگر یہ ساری قیود محض ملی مسائل کے نام پر اٹھا دی جائیں تو ذرا جواب تو دو کہ پھر مومنین کے مزارات کے لیے وقف شدہ قبرستانوں کی زمین کو کوئی ظالم حکومت اسی قاعدۂ وہابیہ کے تحت پورا کا پورا منہدم کرنا یا ہضم کرنا چاہے تو لاکھوں ایکڑ زمین کا دفاع کیسے کرو گے؟
کفر کے مقابلے میں اپنی طاقت کے اظہار کے لیے محض دنیاوی معاملات میں روافض کے ساتھ بیٹھ کر اپنے سیاسی حقوق کی بات کرنا بلا شبہ ایک ناگزیر عمل ہے مگر اس کی آڑ میں اگر فرقہ واریت پر صلواتیں پڑھنے کا جواز تراشا جائے تو اسلامی نظام کی آفاقیت کا دعویٰ کرنے والے، عالم کفر و الحاد کو کیا جواب دیں گے جب ان میں کا کوئی دانشور اٹھ کر کہے گا کہ مسلمانوں کے ایک گروہ کے بقول؛ اگر اسلام کے پہلے تینوں خلیفہ ہی کفر کے مرتکب ہو گئے اور قرآن ان ہی کے ہاتھوں بدل دیا گیا تو اب تم کس اسلام اور اس کی آفاقیت کی بات کر رہے ہو؟
مذکورہ ہر قسم کی نظریاتی تخریب پر جس عمل سے بند باندھا جا سکتا ہے وہ ہے سواد اعظم کی اتباع. لہٰذا اسلام کی نظریاتی بنیادوں کے تحفظ کے لیے سواد اعظم کی جتنی زیادہ حوصلہ افزائی ضروری ہے اتنی ہی زیادہ ضرورت فرقہ کی شکل میں سامنے آنے والے ہر بدعتی گروہ کی حوصلہ شکنی کی بھی ہے۔

رہی یہ بات کہ اگر بدعتی گروہ سیاسی و فکری قوت کا حامل ہو تب بھی اس کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکنے چاہیے؟ تو جواباً گزارش اتنی ہے کہ اگر ایک بدعتی گروہ کو اتنا سیاسی رسوخ حاصل ہو کہ وقت کے مقتدا امام کو سرِ دربار کوڑے لگوا کر سےِ بازار رسوا کرے اور علمی رسوخ یہ ہو کہ وقت کا سب سے بڑا مفکر زمخشری ان کے فرقے سے تعلق رکھتا ہو تب بھی علمائے امت اس کی تضلیل سے دریغ نہ فرمائیں تو آج کل کسی پارٹی کی غلامی والے جمہوری سیاسی رسوخ اور چند ایکڑ پر بنے ہوئے ڈیڑھ سو سال پرانے کسی مدرسے کی کیا حیثیت ہے کہ اس کے سبب سواد اعظم کو کوسا جائے اور ایسے بدعتی گروہ کو اسلام کے نمائندہ کی حیثیت سے تسلیم کرنے کا راگ الاپا جائے؟ مزید یہ کہ اگر صرف سیاسی رسوخ ہی کی بنیاد پر حق و باطل کا فیصلہ کیا جاتا ہو تب تو ہم اتحادی ٹولے کے ساتھ ساتھ دیابنہ کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ وہابیت کا کلمہ پڑھتے ہوئے امریکہ کی غلامی میں داخل ہو جائیں اور MBS (ابن سلمان) کے ماڈرن اسلام کی خوب خوب خدمت بجا لائیں، اس لیے کہ کسی جمہوری سیاسی نظام میں رسوخ حاصل ہونے سے کہیں زیادہ بڑھ کر رسوخ یہ ہے کہ وہابیہ کی تو اپنی خاندانی حکومت ہے۔

ہمارے دور کے خوارج خیر القرون سے بڑھ کر منظم و متحرک تو نہیں!!! پھر کیا وجہ ہے کہ ہر دوسرا بندہ اہل حق کو منافقین کی چستی اور ان کے نظم و نسق کی مثال دیتے پھرتا ہے. خیر القرون کے بشارت یافتہ جنتیوں کا طریقہ تو یہ ہے کہ وہ اہل بدعت کی تمام تر خوش اعمالیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے شر سے اپنے آپ کو اور امت کو محفوظ رکھنے کے لیے قولی و فعلی ہر قسم کی ممکن کوشش کرتے ہیں. المیہ یہ ہے کہ جس دور کا سب سے بڑا تقاضا بد عقیدگی کا رد اور نظریاتی غداروں کا تعاقب تھا اسی دور میں ہمارے لوگ کم ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جدیدیت کے فریب میں سیکولر بن بیٹھے. جب اسلام کے نام پر اسلام کی صورت مسخ کرنے کی کوشش عروج پر ہے اور ہر ایرا غیرا اسلامک اسکالر کے بھیس میں گمراہی کا مبلغ بنا ہوا ہے، ایسے خطرناک دور میں صحابہ کرام کی طرح ان کی سرکوبی کے لیے انتہائی کوشش کرتے ہوئے اسلام کی نظریاتی سرحدوں کا تحفظ کرنا؛ امت مسلمہ کا اولین فریضہ تھا مگر چند سیکولر مسلمانوں کی بے جا رواداری نے فرقہ واریت پر لعن طعن کر کے دین ہی کو بازیچہ اطفال بنا کر رکھ دیا ہے۔