شعبان المعظم

بخشش ومغفرت کی حسین رات، شبِ برات

تحریر: محمدمدثرحسین اشرفی
مقام تلنگا، ضلع پورنیہ بہار انڈیا
موبائل: 6204063980 /9172869263
خطیب وامام رضائے مصطفٰے مسجدگیورائی، ضلع بیڑ، مہاراشٹرا

پروردگارعالم نے اپنے محبوب، رحمتِ عالم صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے صدقے طفیل آپ کی امت کو کثیرانعامات سے نوازاہے -گناہوں کی معافی کے لئے اس امت کوبہت مواقع عطاکیے گیے ہیں -مبارک مہینے، حسین ایّام، نورانی راتیں،مثلاً شبِ معراج، شبِ برات، شبِ قدر، شبِ عیدالفطر، شبِ جمعہ وغیرہ، یہ وہ ہیں جس میں رب تعالٰی کی مخصوص رحمتیں نازل ہوتی ہیں، بابِ اجابت کھلاہوتاہے، اورسائل کواس کی مرادسے زیادہ عطاکیاجاتاہے -آئیے تفسیر کی روشنی میں اس امت کی چندخصوصیات ملاحظہ کریں۔

حکیم الامت حضرت علامہ مفتی احمدیارخاں نعیمی اشرفی بدایونی قدس سرہ امت مصطفٰے صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات پریوں رقمطرازہیں: "ایک یہ کہ یہ امت سب سے پچھلی ہے تاکہ اگلی امتوں کی طرح اس کی بدنامی نہ ہو اوراس کے عیب نہ کھلیں -گزشتہ امتوں کے عیوب قرآن کریم نے بیان کئے جس سے وہ قیامت تک بدنام ہوگئیں -ہمارے بعدنہ کوئی کتاب آئے گی اورنہ ہمارے عیب کھلیں گے -دوسرے یہ کہ یہ امت سب سے پچھلی ہے تاکہ سب کی گواہی دے سکے کیونکہ گواہی واقعہ کے بعدہوتی ہے نہ کہ پہلے -تیسرے یہ کہ خداکے فضل سے یہ امت یہودکی تفریط اورعیسائیوں کے افراط سے پاک ہے اس کے عقائدواعمال درمیانی -چوتھے یہ کہ ان شاءاللّٰہ اس میں ہمیشہ علمااور اولیاءرہیں گے پچھلی امتوں کی طرح سب گمراہ نہ ہوجائیں گے -پانچویں یہ کہ ان کے جسم شریعت سے اوران کے قلب طریقت اورمعرفت سے منوررہیں گے -چھٹے یہ کہ ان کی زبان حق کاقلم ہے جس چیزکویہ اچھاسمجھیں وہ اللّٰہ کے نزدیک بھی اچھی اورجس کوبراکہیں وہ بری -ساتویں یہ کہ یہ امت سارے نبیوں کی گواہ اورظاہرہے کہ گواہ مدعی کوبڑاپیاراہوتاہے کہ وہ گواہی سے مقدمہ جیتے گا لہٰذایہ سب پیغمبروں کے محبوب -آٹھویں یہ کہ سب لوگ مسلمانوں کے حاجتمندہیں مسلمان کسی قوم کے محتاج نہیں -اس لئے دنیوی حکومتیں اسلام سے قوانین لیتی ہیں اورکفارقرآن سے فائدے اٹھاتے ہیں مگرافسوس کہ مسلمان اس سے بے پرواہ ہوکرذلیل وخوارہوگئے -نویں یہ کہ اسی امت کے علمابنی اسرائیل کے انبیاءکی طرح دین کے مددگارہیں -انہیں میں مفسرین، محدثین، فقہاءہوئے اورتاقیامت ہوتے رہیں گے -دسویں یہ کہ اسی امت میں تاقیامت اولیاءغوث وقطب وابدال ہوتے رہیں گے -گیارہویں یہ کہ اسی امت کے نبی کی سوانح عمریاں بے شمارلکھی گئیں -قرآن کریم کی بے اندازتفسیریں ہرزبان میں ہوئیں -حضورکی زندگی کاایک ایک حال حدیثی شکل میں دنیاکے سامنے آگیاکسی نبی کی امت کویہ خوبیاں میسرنہ ہوئیں -یہ فضائل تودنیاکے تھے آخرت میں بھی یہ امت تمام امتوں سے افضل وبہترہوگی کہ تمام جنتیوں کی کل ایک سوبیس صفیں ہوں گی جن میں سے اسّی صفیں اس امت کی باقی چالیس صفیں تمام دیگرامتوں کی -اس امت کے گناہوں کاحساب خفیہ ہوگا نیکیوں کاعلانیہ اس امت کے لئے حوض کوثرکی نہرمیدان محشرمیں آوے گی -پہلے یہ امت جنت میں جاوے گی پیچھے دوسری امتیں -” (تفسیرنعیمی جلددوم)

شعبان المعظم کامبارک مہینہ اپنی تمام تر رحمتوں، برکتوں سے اہلِ ایمان کو مستفیض کرتا ہوا رواں دواں ہے – اس مہینہ کو یہ فضیلت اورشرف حاصل ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنامہینہ قراردیاہے -ویسے تو یہ پورامہینہ رحمتوں، برکتوں سے پُرہے، مگر خصوصیت کے ساتھ اس کی پندرہویں شب بڑی اہمیت کاحامل ہے -اس شب کوجسے "شبِ برات "کے نام سے جاناجاتاہے پروردگارعالم اپنی رحمتوں کاخاص نزول فرماتاہے،شعبان المعظم کی پندرہویں شب غروب آفتاب سے طلوع آفتاب تک رحمتِ الٰہی ہمیں آوازدیتی ہے کہ ہے کوئی سائل کہ اس کاسوال پوراکیاجائے، ہے کوئی حاجت مند کہ اس کی ضرورتوں کی تکمیل کی جائے، ہے کوئی گناہ گارجواپنے گناہوں پرنادم ہوکر توبہ کرے کہ اس کی توبہ قبول کی جائے، ہے کوئی پریشانی سے نجات مانگنے والاکہ اس کی ساری پریشانی دورکردی جائے -"بقول شاعر:

ہم تومائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائے کسے رہرومنزل ہی نہیں

اللہ رب العزت قرآن عظیم میں ارشادفرماتاہے:(پ25 سورہ الدخان) ترجمہ: اس میں بانٹ دیاجاتاہے ہرحکمت والاکام (کنزالایمان) مذکورہ آیت کی تفسیرکرتے ہوئے شیخ الاسلام والمسلمین، حضرت علامہ سیدمحمدمدنی میاں اشرفی جیلانی کچھوچھوی رقمطرازہیں: "(اُسی وقت میں تقسیم کردیاجاتاہے ہرحکمت والاحکم) یعنی اُس رات میں ہرحکمت والے کام کافیصلہ کیاجاتاہے -مثلاً روزیوں کا اور اَجَلوں کا -اورشبِ برات اُن بزرگ راتوں میں سے ہے جواِس امت کوعطاہوئیں –
حدیث میں ہے کہ اس رات اتنے گنہگاربخشے جاتے ہیں، جتنے روئیں قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے جسم پرہیں، اور اُس رات آبِ زمزم زیادہ ہوجاتاہے -حدیث میں ہے کہ جوکوئی اِس شب میں سورکعت نمازپڑھتاہے، حق تعالٰی سوفرشتے بھیجتاہے کہ وہ اُس نمازپڑھنے والے کے ساتھ رہتے ہیں، تیس فرشتے اُسے بہشت کی بشارت دیتے ہیں، اورتیس فرشتے اُسے دوزخ سے بے خوف کرتے ہیں اورتیس فرشتے اُسے دُنیاکی آفتوں سے بچاتے ہیں، اوردس فرشتے اُس سے شیطان کے مکرکودفع کرتے ہیں ” – (سیدالتفاسیرالمعروف بہ تفسیراشرفی)

نصف شعبان المعظم کے متعلق چنداحادیث: "روایت ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہاسے فرماتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کوگم پایادیکھاکہ آپ جنت البقیع میں تھے – (یعنی ایک دفعہ شعبان کی پندرہ تاریخ تھی، حضورصلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی باری میرے مکان پرتھی اورآپ میرے ہاں تشریف فرماتھے میں رات کواٹھی توآپ کابسترخالی پایا، آپ کوڈھونڈنے مدینہ منورہ کی گلی کوچوں میں نکلی حتّٰی کہ بستی سے باہرگئی تومدینہ منورہ کے قبرستان میں آپ کوذکر ودعامیں مشغول پایا) توآپ نے فرمایاکیاتم اس سے خوف کرتی تھیں کہ تم پراللّٰہ عزوجل ورسول صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ظلم کریں گے – (اس طرح کہ ہم تمہاری باری میں کسی اوربیوی کے ہاں رات کوقیام فرمائیں جوبظاہرحق تلفی ہے اورتم پرظلم ہے -خیال رہے کہ حضورانورصلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پرازواج کی باری اورمہرشرعاًواجب نہ تھا مگرآپ نے خوداپنے کرم سے ان کی باریاں مقررفرمادی تھیں، اب اس کے خلاف کرنااپنے وعدہ کے خلاف ہوگا اس لئے اسے ظلم فرمایا، نیزچونکہ حضورصلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کاہرعمل رب تعالٰی کی طرف سے ہے اس لئے اس ظلم کورب تعالٰی کی طرف بھی منسوب کیا لہٰذاحدیث شریف پرکوئی اعتراض نہیں) میں نے عرض کیایارسول اللّٰہ! مجھے خیال ہواکہ آپ اپنی کسی اوربیوی کے پاس تشریف لے گئے (کیونکہ آپ پرباری فرض نہیں اورآپ اس معاملہ میں مختارہیں، ہاں مجھے غیرت ضرورتھی کہ میری باری اوربیوی نے کیوں لے لی -اس غیرت میں کئی علمافرماتے ہیں کہ غیرت عورتوں کی فطری چیزہے جس پرکوئی پکڑنہیں) توفرمایاکہ اللّٰہ تعالٰی پندرہویں شعبان کی رات آسمان دنیاکی طرف نزول فرماتاہے توقبیلہ بنوکلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ کوبخش دیتاہے – (یعنی اس رات رب کی رحمت خاص دنیاکی طرف متوجہ ہوتی ہے اورقبیلہ بنی کلب جن کے پاس بہت بکریاں ہے ان بکریوں کے جسم پرجس قدربال ہیں اتنے گناہ گاروں کی مغفرت ہوتی ہے -اس سے معلوم ہواکہ شب برات عبادات کرناقبرستان جانا سنت ہے "- (مراة المناجیح صفحہ 278)
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے جب اس بارے میں پوچھاگیاکہ قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تمثیل کی کوئی خاص وجہ؟ تو آپ نے فرمایا: عرب کے قبائل میں سے کسی قبیلہ کی بکریوں کے بال بنی کلب کی بکریوں سے زیادہ نہیں ہے –

"حضرت علی بن ابی طالب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نصف شعبان کی رات ہوتواس رات میں قیام کرو اوراس کے دن میں روزہ رکھو،کیونکہ اللّٰہ سبحانہ اس رات میں غروب شمس سے آسمان دنیا کی طرف نازل ہوتاہے، پس فرماتاہے ‘سنو! کوئی بخشش طلب کرنے والاہے تومیں اس کوبخش دوں، سنو! کوئی رزق طلب کرنے والاہے تومیں اس کورزق دوں، سنو! کوئی مصیبت زدہ ہے تومیں اس کوعافیت میں رکھوں، سنو کوئی، سنوکوئی (وہ یونہی فرماتارہتاہے) حتٰی کہ فجرطلوع ہوجاتی ہے "- (تبیان القرآن)
” حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ مدنی تاجداراحمدِمختارصلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: حضرت جبرئیل علیہ السلام میری خدمت میں شعبان کی پندرہویں رات (یعنی شبِ برات) میں حاضرہوئے اورعرض کیا، یارسول اللّٰہ! صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اپناسرمبارک آسمان کی طرف بلندفرمائیے، میں نے ان سے پوچھا یہ کون سی رات ہے؟ توجبرئیل نے جواب دیا کہ یہ وہ مبارک رات ہے کہ اللّٰہ تعالٰی اس رات میں رحمت کے تین سودروازے کھولتاہے اورسب مسلمانوں کوبخشتاہے سوائے بدمذہبوں، مشرکوں، جادوگروں، کاہنوں، زناپراصرارکرنے والوں اورشراب پینے والوں کونہیں بخشتا "-معاذاللّٰہ رب العالمین -(منیرالایمان فی فضائل شعبان)

"شہنشاہ اولیاء، سیدناحضورغوث اعظم عبدالقادرجیلانی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ شعبان المعظم کی پندرہویں رات، یعنی شبِ برات فرشتوں کی عیدہے -فرشتوں کی عیدرات میں ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کبھی سوتے نہیں -شبِ قدرکے بعدجوفضیلت شبِ برات کوحاصل ہے، وہ کسی اور رات کوحاصل نہیں "- (منیرالایمان فی فضائل شعبان) بخشش ومغفرت کی اس حسین شب میں چندافرادایسے بھی ہیں جن کی مغفرت اس بابرکت رات میں نہیں ہوتی، جب تک کہ وہ سچی توبہ نہ کرلے -مثلاً: مشرک، والدین کانافرمان، زناپراصرارکرنے والا، کاہن، جادوگر، ہمیشہ شراب پینے والا، سودخور، تکبرکے ساتھ پائجامہ یاتہبندکوٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا، مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے والا، رشتہ داروں سے رشتہ توڑنے والا وغیرہ وغیرہ -مسلمانوں کوچاہئے کہ اس مبارک شب کو فضول گوئی میں تضیع اوقات نہ کریں، بلکہ اپنے رب کے حضورتوبہ واستغفارکریں، گناہوں کی معافی طلب کریں، کثرت سے عبادات، تلاوت قرآن پاک، درودشریف، ودیگراذکارخیرکریں، اوراپنے نامہ اعمال کونیکیوں سے پُرکریں۔