نعت رسول

حبیب خدا کی ثنا لکھ رہا ہوں

نتیجہ فکر: محمد کہف الوری مصباحی
نائب صدر لمبنی پردیس، راشٹریہ علما کونسل، نیپال
نگران اعلی: فروغ اردو زبان تعلیمی شاخ، ڈڈوا گاؤں پالکا، وارڈ نمبر 2، ضلع بانکے، نیپال

حبیب خدا کی ثنا لکھ رہا ہوں
وہی جو خدا نے کہا لکھ رہا ہوں
عقیدے لکھے ہیں جو قرآن میں میں
انہیں کو یہاں باخدا لکھ رہا ہوں
وہی رحمت کل جہاں ہیں یقینا
بفضل خدا باخدا لکھ رہا ہوں
وہی غیب داں ہیں خدا کی عطا سے
خدا بھی نہ ان سے چھپا لکھ رہا ہوں
خدا نے کہا ہے سلام ان پہ بھیجو
فرشتوں کی ہے یہ ادا لکھ رہا ہوں
خدا نے بنایا انہیں نور عالم
بشر ان کو نوری کیا لکھ رہا ہوں
خدا نے کیا ان کا چرچا جہاں میں
انہیں ارفع اعلی کیا لکھ رہا ہوں
خدا ان کی مرضی عطا یوں کرے کہ
فترضی کو اس کی رضا لکھ رہا ہوں
انہیں کی رضا سے ہوا کعبہ قبلہ
زہے کعبہ تجھ پہ فدا لکھ رہا ہوں
وہی یسیں طہ وہی والضحی ہیں
انہیں نجم اسری پڑھا لکھ رہا ہوں
کریں کیوں نہ تعظیم ہم مصطفٰی کی
یہی حکم رب نے دیا لکھ رہا ہوں
شفاعت کرے جو قیامت میں سب کی
اسے شافع کل وری لکھ رہا ہوں
وسیلہ گناہوں کی بخشش کا ان کو
خدا نے کیا ہے کیا لکھ رہا ہوں
مقام ستائش پہ تم جلوہ گر ہو
تمہیں حمد کا سلسلہ لکھ رہا ہوں
عنایت ہوئی کثرت خیر تم کو
تمہیں کو میں خیرالوری لکھ رہا ہوں
وہ روکیں تو رکنا وہ دیں کچھ تو لینا
خدا کا اسے فیصلہ لکھ رہا ہوں
کرو نہ کبھی ان سے آواز اونچی
یہ لاترفعوا میں ملا لکھ رہا ہوں
پکارو نبی کو نہ تم اپنے جیسا
منع رب نے اس سے کیا لکھ رہا ہوں
کلام الہی سے جلوہ نبی کا
بیاں مجھ سے جو ہو سکا لکھ رہا ہوں
کمال نبی اب حدیثوں میں دیکھو
سنو ان کا میں معجزہ لکھ رہا ہوں
بہے چشمے انگلی سے، آب دہن سے
کنواں کھارا میٹھا ہوا لکھ رہا ہوں
کمال لعاب دہن ان کا دیکھو
جڑا پیر ٹوٹا ہوا لکھ رہا ہوں
لٹکتی ہوئی آنکھ کو مصطفی نے
دوبارہ دیا ہے جلا لکھ رہا ہوں
نمازوں میں یاد ان کی ہے شرک کیسے
نمازوں کو ان کی ادا لکھ رہا ہوں
نمازی کو گر وہ بلائیں کہ آجا
تو فورا حضوری کو جا لکھ رہا ہوں
نمازی ہی کیا جب شجر کو بلایا
تو فورا وہ حاضر ہوا لکھ رہا ہوں
شجر کیا انہوں نے کہا جو قمر کو
تو ٹکڑے ہوا برملا لکھ رہا ہوں
قمر ہی نہیں بلکہ سورج بھی ان کے
اشارے پہ الٹا چلا لکھ رہا ہوں
زمیں کیا فلک کیا،زماں کیا ملک کیا
سبھی کو میں ان کا گدا لکھ رہا ہوں
مریضوں کو کر دو ہوا کے رخوں پر
ہوا پہ درود شفا لکھ رہا ہوں
جو پوچھو کہ نعت نبی کس سے سیکھی
سنو! نام احمد رضا لکھ رہا ہوں
خموش ہو گیا ان کو یہ کہ کے ازہر
بڑا سب سے بعد خدا لکھ رہا ہوں