اصلاح معاشرہ

عصر حاضر میں جعلی پیروں پر ایک طائرانہ نظر!

ازقلم: محبوب رضا علیمی

تصوف اسلام کا حصہ ہے اس کا حاصل تزکیہ نفس ہے، صوفیاء کرام کی اصطلاح میں تصوف کے معنی ہیں اپنے اندر کا تزکیہ اور تصفیہ کرنا یعنی اپنے نفس کو نفسانی کدورتوں ,رذائل و مکدرات سے پاک و صاف کرنا، اور فضائل و اخلاق سے مزین کرنا۔صوفیاء ایسے لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اپنے ظاہر سے زیادہ باطن کے تزکیہ اور تصفیہ کی طرف توجہ دیتے ہیں اور دوسروں کو اس کی دعوت بھی دیتے ہیں۔
تصوف جن رذائل و اخلاق سے اپنے اندر کو پاک کرنے کی تعلیم دیتا ہے وہ یہ ہیں: بدنیتی،ناشکری، جھوٹ،وعدہ خلافی، خیانت و بددیانتی، غیبت وچغلی،بہتان، خوش آمد چاپلوسی،ظلم، ریا اور حرام خوری وغیرہ۔
اور جن چیزوں سے اپنے اندر کو سنوارنے کی تعلیم دیتا ہے وہ یہ ہیں،:اخلاص نیت، تقوی،امانت،عفت و عصمت،رحم وکرم، عدل و انصاف، تواضع وخاکساری، سخاوت و استقامت وغیرہ۔
مذکورہ اچھے اوصاف سے متصف انسان حقیقی صوفی اور پیر کہلاے گا، انہیں اوصاف کے پیش نظر آج کے صوفیہ اور پیران کرام کا طائرانہ جائزہ لیا جائے تو عموماً طریقت و حقیقت سے منحرف ملیں گے،تصوف کی بنیاد جس اخلاق پر تھی آج نام نہاد صوفیاء نے اسے ریا اور نمود پر منحصر کردیا ہے۔
جعلی پیروں نے تعویذ گنڈے اور عرس منانے تک ہی ساری طریقت کو محدود کر دیا ہےتصوف و طریقت صرف اس بات سے عبارت ہوکر رہ گئی ہے کہ فقط شیخ کی بیعت کی جائے،تصوف جو ترک دنیا کی تعلیم دیتا تھا آج محض کاروباربن کررہ گیا ہے۔
میرا مقصد تصوف،صوفیاء کرام حقیقی پیر کے خلاف انگشت نمائی کرنا نہیں میں خود تصوف و طریقت کا قائل ہوں ہو،لیکن قائل ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ بغیر تحقیق و تفتیش کے کسی بھی پیر کا مقلد ہوجائیں،
فی زمانہ پیری مریدی کو ایک عجب رنگ دے دیا گیا ہے،صراط مستقیم کو چھوڑ کر عوام الناس کو بےوقوف بنایا جا رہا ہے،گناہوں کا کھلم کھلا ارتکاب کرنے والے "پیر طریقت” کے بھیس میں عوام کو دھوکا دے رہے ہیں، تصوف و طریقت بغیر شریعت کے علم کے ممکن ہی نہیں یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ اللہ اس کو اپنا ولی اور دوست بنائے جو اللہ و رسول کی شریعت کا متبع نہ ہو،اسلام میں کسی ایسے تصوف کی گنجائش نہیں جو شریعت کے احکام سے بے تعلق ہو اسلام میں جو بھی ائمہ طریقت کہلواۓ وہ سب شریعت کے عالم بھی تھے اور اپنے وقت کے محدث و فقیہ تھے۔
آج کل بعض جہلا طریقت کو شریعت سے الگ راہ اس لیے بنا رہے ہیں تاکہ اس طرح وہ اپنے عقیدت مندوں کو اپنے غیر اسلامی افعال کے جواز کا اطمینان دلا سکیں، "طریقت” شریعت سے جدا گانہ نہیں ہے اگر کسی پیر کا ایک عمل بھی شریعت کے حکم قطعی یا حکم صریحی کے منافی ہو تو وہ مسخرہ شیطان تو ہو سکتا ہے اللہ کا ولی قطعاً نہیں ہو سکتا-
حضرت ابو یزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ ایک شخص سے ملنے گئے جو زہد و ولایت کا مدعی تھا آپ کے سامنے اس نے قبلہ کی طرف تھوکا آپ اسے ملے بغیر واپس آ گئے اور فرمایا "یہ شخص شریعت کے ادب پر امین تو ہے نہیں اسرار الہیہ پر کیوں کر امین ہوگا۔
صوفیت کا لبادہ اوڑھے ہوئے ایسے ایسے پیر بستی بستی پھر رہے ہیں،جو شریعت و طریقت سے ہم کنار، اور اس کے تمام اصول و ضوابط کے تارک فقط اپنی طبیعت کے مرید ہیں،جب اُن سے ان تمام امور پر مطالبہ ہوتا ہے تو ان کا یہی جواب ہوتا ہے کہ ہم ہمیشہ کشف کی حالت میں ہوتے ہیں ہم تمام امور کو اس طرح ادا کرتے ہیں کی کسی کو اس کی خبر نہیں ہوتی یا پھر یہ کہتے ہیں شریعت و طریقت دو الگ الگ راہ ہیں،جو طریقت کے منزل پر آجاتا ہے اس کو شریعت کی حاجت نہیں ہوتی۔بعض کا حال تو یہ ہے کہ مریدین کو خوش کرنے کے لیےشریعت سے دست بردار ہوکر اُن کی طبیعت کے مطابق اسلوب پیدا کرتے ہیں تاکہ اہل ثروت مریدین سے راستہ منقطع نہ ہونے پائے، مستورات سے اس قدر مصافحہ اور معانقہ سے پیش آتے ہیں، گویا شریعت اُن کی طبیعت کے عین مطابق ہے،اعتراض کرنے پر یوں جواب دیتے ہیں کہ ہمارے سلسلے سے متصل ہو جانے والے ہماری اولاد کے مانند ہیں،اور اولاد سے کوئی پردہ نہیں ہوتا(العیاذ باللہ)
تقریباً ہر پیر یہ خواہش رکھتا ہے کہ اس کے مریدین کے تعداد روز, افزوں ہو،اور اسی خواہش کو پورا کرنے کے لئے تشہیری و ترغیبی ہتھکنڈے اپناتے ہیں، نیز اپنے تمام مریدین کے مابین امتیاز رکھتے ہیں اسی مرید کو ترجیح دیتے ہیں جو مالدار ہو بقیہ پرصرف نظر فرماتے ہیں کیوں کہ جو مالدار ہیں اُن سے تو با آسانی اپنی جیب گرم کرنے کا موقع مل ہی جاتا ہے،جس طریقے سے دنیا مغربی تہذیب و تمدن کو اپنا رہی ہے ٹھیک اسی طرح پیر حضرات بھی ماڈرن ہو چکے ہیں،
ایک پیر صاحب کے بارے میں سنا گیا (جو عوام و خواص دونوں میں مقبول ہیں) فرماتے ہیں: "ہمارے پاس عورتیں نقاب لگاکر آتی ہیں،زمانے کا لحاظ نہیں کرتیں دنیا کس قدر ترقی کی جانب گامزن ہیں اور ہماری بچیاں ابھی اسی قید خانے میں آباد ہیں” سن کر بڑا حیرت و استعجاب ہوا یہ وہ کہ رہے ہیں جن کے گھر سے عزت و عفت کی خیرات ملی ہے۔
پھر بھی عوام انہی پیروں سے اس قدر وابستہ ہے کہ اُن کے کلام کو حرف اخیر سمجھتی ہے(نعوذ باللہ من ذالک )

اللہ تعالیٰ ایسے شر پسند پیروں سے اسلام اور مسلمانوں کو محفوظ فرمائیں اور اُنہیں ہدایت کی توفیق بخشے۔۔۔آمین

۔۔۔۔۔جاری۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ۔۔ یہ میرے اپنے خیالات ہیں، اس میں ہر ایک کا اتفاق ضروری نہیں۔۔