اصلاح معاشرہ

کیا ہم سب ایک آواز میں نہیں بول سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

ہندو مسلم اتحاد

ازقلم: تسنیم فردوس
جامعہ نگر، نئی دہلی 110025

اگر وسیع پیمانے پر دیکھا جائے تو یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ مذہب آپس میں امتیازی سلوک کا روا نہیں ہے۔ ہندوستان کے اندر ہندو مسلم برادرانہ ثقافت کی مضبوط مثالیں ہر جگہ دکھائی دیتی ہیں۔ ہندو مسلم اتحاد ایک مذہبی، سیاسی نظریہ ہے جسمیں برصغیر کے دو بڑے مذہبی گروہوں یعنی ہندووں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملکر مشترکہ نصب العین کے لئے کام کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ ماضی میں اس نظریہ کی ترویج متعدد مسلمان بادشاہوں نے بھی کی تھی ان میں سے خاص "جلالدین اکبر "ہیں۔ اور ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے دوران میں مہاتما گاندھی، خان عبدالغفار وغیرہ شامل ہیں۔
ہندو اور مسلمان بھارت ماں کی دو آنکھیں ہیں، دونوں میں سے کسی ایک پر بھی چوٹ پہنچ جائے تو وہ اندھی ہو جائے گی۔ لیکن افسوس کہ آج اس میل میلاپ کے دیش میں فرقہ وارانہ دہشت عام ہو رہی ہے۔ جسکی وجہ سے ملک گمنامی کے اندھیروں کی طرف بڑھ رہا ہے۔۔۔۔۔۔ ایک خاص طبقہ کو پریشان کیا جا رہا ہے، اسکو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور اس کے قانونی حقوق کو چھیننے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔وہ مسلمانوں کو یہ جتا رہے ہیں کہ اس دیس میں اب مسلمانوں کا کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ صرف رحم و کرم کے محتاج ہیں۔اور وہ برابری کا درجہ مانگنے کی حیثیت نہیں رکھتے۔ایسی ذہنیت رکھنے والوں کی وجہ سے
آج ملک کی حالت کیا ہے۔۔۔؟ یہ کسی سے چھپی نہیں ہے۔ ایک جائزہ آزادی سے پہلے کا لیا جائے تو ١٨٥٧تک ہندوستان میں کسی قسم کا مذہبی مسئلہ نہیں تھا، حقیقتاً ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تھے اور ان میں کوئی دشمنی نہیں تھی، ہندو عید کی تقریبات میں شامل ہوتے تو مسلمان ہولی اور دیوالی ہندو کے ساتھ مناتے۔مسلمان حکمراں نواب اودھ اور نواب مرشداباد، ٹیپو سلطان وغیرہ سبھی مذہبی طور پر غیر جانبدار تھے۔وہ رام لیلا کا انتظام کرتے۔ہولی،دیوالی وغیرہ موقعوں میں بھی شامل ہوتے، تھے۔١٨٥٧ کی جنگ میں یہ بات ثابت بھی ہوگئ کہ ہندو مسلم ایک دوسرے کے کتنے قریب تھے۔ کیونکہ دونوں نے ملکر بہت ہی بہادری سے انگریزوں کا سامنا کیا تھا۔ اس بڑھتی ہوئی قومیت پرستی سے خائف ہوکر انگریزوں نے ان مذاہب کے ماننے والوں کو الگ الگ بھڑکانے کی کوشش کی۔ تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی اپنا لی تاکہ انکی حکومت کو خطرہ نہ ہو۔ جس کی وجہ سے اتحاد کو بڑا دھچکا لگا۔
گاندھی جی نے جو آزادی کی لڑائی میں کامیابی حاصل کی اسکی سب سے بڑی خصوصیت ہندو مسلم اتحاد تھی۔ وہ ہندو مسلم اتحاد کے لئے آخری دم تک لڑے، یہاں تک کہ اپنی زندگی کا نظرانہ پیش کرنے میں بھی پیچھے نہیں ہٹے۔دوسری طرف مسلمانوں کے اندر مولانا محمد علی کی قیادت میں بہت جوش و خروش تھا۔گاندھی جی نے اس جوش و خروش کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔گاندھی جی یہ چاہتے تھے کہ اس جذبہ کو آزادی ہند کی لڑائی میں لگا دیا جائے تو اس لڑائی کو تقویت حاصل ہو جائے گی۔چنانچہ ہندوستان میں پہلی بار ہندو اور مسلمانوں کے اتحاد کا عظیم مظاہرہ ۱۸۵۷ کی بغاوت میں دیکھنے کو ملا۔
اسی لئے میں امید کرتی ہوں دوسرے مذاہب کے لوگ بھی کشادہ دلی کا مظاہرہ کریں کیونکہ سی اے اے، این آر سی کا جو کھیل کھیلا جا رہا ہے اس سے ہر مذہب کے لوگوں کو پریشانی لاحق ہوگی۔جب تک غلط ذہنیت کے لوگ عہدوں اور اقتدار پر قابض رہیں گے ملک کا بھلا نہیں ہوسکتا اس ملک میں اشفاق الله خان، رام پرساد بسمل کی دوستی کو نظیر بنا کر ملک میں امن وامان اور شانتی و سلامتی کو زندہ کیا جا سکتا ہے۔
اس کے لئے ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کی بقاء اور روشن مستقبل کے لئے بہتر یہ ہے کہ ہم ہندو مسلم متحدہ محاذ کے نظریہ کو اپنائیں اور اسے فروغ دییں اور دو قومی نظریہ کی پالیسی کو ترک کردیں کیونکہ اس سے ہندو مسلم کے درمیان فاصلے بڑھیں گے اور آپسی تعلقات کشادہ ہوں گے، پھر ہمارے اور آپ کے لئے بلکہ برادران وطن کے لئے بھی پریشانیاں بڑھیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لئے ہر مذہب کے لوگوں کو بیدار ہونا لازمی ہے۔ کیونکہ ہندو مسلم ہندوستان کی دو آنکھوں کی طرح ہیں۔ ہمیں چاہۓ کی ہم ایک دوسرے کے دکھ درد کو محسوس کریں اور امن و شانتی کی فضا ملک میں قائم کریں۔ یہی وقت کا تقاضا بھی ہے اور وقت کی آواز بھی۔
ساحل سے بھی موجیں اٹھتی ہیں، خاموش بھی طوفاں ہوتے ہیں، یہ خوں جو ہے مظلوموں کا ضائع تو نہ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔ یہ اچھا موقع ہے جمہوریت ، انصاف اور مساوات کے لئے لوگ آگے آئیں قیادت اور رہنمائی کریں۔۔۔۔۔!