رمضان المبارک

باتیں، رحمت والے رمضان کی

ازقلم: خضرا فاطمہ نعمانی
چریاکوٹ ضلع مئو یوپی

رمضان المبارک رحمتوں کا مہینہ ہے، اس مہینے میں بندوں پر خالق کائنات کی بےشمار رحمتیں برکتیں نازل ہوتی ہیں، اللہ رب العزت اپنے بندوں پر خاص کرم فرماتا ہے، رمضان المبارک کا چاند نظر آتے ہی ہر طرف رونقیں بڑھ جاتی ہیں، سب خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں، بچے بڑے سب رمضان المبارک کا استقبال بہت ہی مسّرت اور شادمانی سے کرتے ہیں اللہ پاک ہمیں بھی ماہ رمضان کی برکتیں عطا فرمائے اور اس ماہ مبارک کی قدر کرنے والا بنائے، رمضان المبارک مواسات کا مہینہ ہے، غمخواری کا مہینہ ہے، بھلائی کرنے کا اور نیکیوں کا مہینہ ہے، اس میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستّر گنا زیادہ ہو جاتا ہے، اس مہینے میں شیطان قید کر دیے جاتے ہیں، بندے رب کی عبادت میں لگ جاتے ہیں، قرآن پاک کی تلاوت کی کثرت ہوتی ہے، ایک ایک حرف پڑھنے پر ستر ستّر نیکیاں ملتی ہیں اللہ پاک ہمیں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے صدقے خوب خوب نیکیاں کرنے اور اس کی قدردانی کی توفیق بخشے، ہمیں چاہیے کی ہم صرف ماہ رمضان میں ہی نہیں بلکہ سارا سال ایسے ہی نیکیوں اور عبادات میں گزاریں،

ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اس مہینے میں خوب سخاوت فرماتے۔آپ کی سخاوت کے بارے میں آتا ہے کہ آپ تیز رفتار ہوا کی طرح سخاوت کیا کرتے تھے، اس لیے اس مہینے میں ہمیں بھی اپنی سخاوت بڑھا دینی چاہیے اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں سے دوسروں کو خوب فائدہ پہنچانا چاہیے،
حضور نبی رحمت شفیع اُمت صلّی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے "روزہ رکھو صحتیاب ہو جاؤ گے”
اس فرمان سے وہ لوگ سبق حاصل کریں جو اس غلط فہمی کے شکار ہیں کہ روزہ رکھ کر ان کی صحت پر اثر پڑے گا، ان کی صحت خراب ہو جائے گی، فرمان مصطفیٰ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر عمل کرنے میں بھلائی ہی بھلائی ہے،

ماہِ صیام کی آمد ہوتے ہی سب کے دلوں میں عبادات کے ذوق و شوق بڑھ جاتے ہیں اور جذبہ بیدار ہوتا ہے اور نیکیوں کی طرف مائل ہوتے ہیں یہ اللہ پاک کی رحمت ہی تو ہے کہ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ رحمت ہے اور دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا ہے،

ماہِ صیام میں ہمیں چاہیے کہ ہم پاس پڑوس میں پریشان حال لوگوں پر نظر کریں اُنکی پریشانی کو دور کرنے کی کوشش کریں اپنے رشتےداروں کا بھی بھرپور خیال کریں جو محتاج ہیں اپنے صدقہ و زکوۃ سے ان کی مدد کریں اور اپنے ماتحت کام کرنے والوں کو بھی رعایت دیں، انہیں بھی اپنی فیملی بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کا وقت دیں، ان کے روزہ رکھنے کا بھی خیال کریں ایسا نہ ہو کہ ہم زکوٰۃ خوب دیں، غریبوں کی مدد کریں، لکن جو لوگ اپنے انڈر میں کام کرتے ہوں اُن کا خیال نہ کریں، ہو سکتا ہے کہ ان کا دل دکھے اور ہماری ساری نیکیاں رائیگاں ہو جائیں، اللہ پاک ہمیں عمل خیر کی اور اس مغفرت والے مہینے میں سچّی توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دل کھول کر سخا کرنے والا بنائے اور اس ماہِ صیام کے فیض سے مالا مال کرے، کیا پتہ اگلا رمضان ہمیں نصیب ہو یا نہ ہو، اللہ عزوجل اپنے حبیب پاک کے صدقے طفیل ہماری مغفرت فرمائے اور ہماری توبہ قبول فرمائے، آمین یا رب العٰلمین بحرمۃ جد الحسن والحسين،