تعلیم

مدارس اسلامیہ کی زبوں حالی کا ذمہ دار کون؟ (قسط نمبر 4)

تحریر: محمد عباس الازہری
خادم التدریس دار العلوم اہل سنت فیض النبی کپتان گنج بستی یو۔پی۔

آج کل مدارس اسلامیہ کے سفراء کے خلاف ایک خود ساختہ مہذب تعلیم یافتہ طبقہ اٹھ کھڑا ہوا ہے اور خود ہی مہذب انداز میں انگریزی میں ” زکوة ,صدقات,خیرات ,عطیات اور امداد ” وغیرہ کو حاصل کرنے کے اشتہارات شائع کر رہا ہے اور یہ طبقہ دعوی کر رہا ہے کہ ان رقوم سے عصری ادارے قائم کیا جائے گا, غریب لڑکیوں کی شادی کرایا جائے گا,یتیموں ,بیواؤں اور معذوروں کا تعاون کیا جائے گا وغیرہ وغیرہ یہ اپنے اشتہارات پر عمل کرتے ہیں کہ نہیں؟ یہ تحقیق طلب ہے لیکن پڑوسی ملک کے حوالے سے یہ خبر ضرور ہے کہ زکوة کے پیسے مستحقین زکوة کے نام سے اکاؤنٹ کاٹ لیا جاتا ہے اور بعد میں آدھے پیسے اشتہارات میں خرچ کر دیتے ہیں اور آدھے پیسے کچھ اپنے رشتہ داروں کو دے دیتے ہیں اور کچھ پیسے مستحقین تک پہنچتے ہیں! ایک صاحب کے مطابق ہندوستانی مسلمانوں میں جو پروفیسر ،ڈاکٹر ،انجینئر،آفیسر یا کسی بڑے سرکاری عہدے پر ہیں اور مال و دولت والے ہیں وہ زکوۃ،صدقات ،خیرات عطیات اور امداد وغیرہ ” مدارس اسلامیہ” کو بہت کم دیتے ہیں! الا ماشاء اللہ تعالی! اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ ڈاکٹر بنتے ہیں ،انجینئر بنتے ہیں ،سول سروسز میں کامیاب ہوتے ہیں تو ہم خوش ہوتے ہیں کہ مسلمان ہیں اب کچھ مسلمانوں کا فائدہ ہوگا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اپنی عطیات ہی کو صحیح جگہ استعمال نہیں کرتے ہیں! بلکہ قوالی اور مشاعرے میں اپنے پیسے خرچ کرتے ہیں ،ڈونیشن کے نام پر غیر مسلم تنظیموں ،رفاہی اور فلاحی اداروں کو کافی پیسے دیتے ہیں اور کووڈ فنڈ میں کئی کروڑ روپئے ڈونیشن دیئے اور جب باری مدارس اسلامیہ میں دینے کی باری آتی ہے تو مدارس اسلامیہ کی برائیاں شروع کر دیتے ہیں۔ ان حضرات کو معلوم ہونا چاہیے کہ مدارس اسلامیہ صرف تعلیمی ادارے ہی نہیں ہیں بلکہ یہاں غریبوں کے بچے تعلیم کے لیے آتے ہیں جن کے لیے ایک طرف جہاں تعلیم مفت دی جاتی ہے وہیں دوسری طرف ان کے کھانے ،پینے ،علاج ،کتاب اور قیام وغیرہ بھی مدارس اسلامیہ میں بغیر فیس کے ہے ۔ آج کے اس مہنگائی کے دور میں گھر چلانا مشکل ہوگیا ہے اور یہاں مدارس اسلامیہ میں تو روزآنہ ناشتہ ،صبح وشام وغیرہ کا کھانا ،اتنظام و انصرام اور ہر مہینے اساتذہ کی تنخواہ دی جاتی ہے جو کہ بہت بڑا کام ہے ۔ بس کمی یہ ہے کہ آج مدارس اسلامیہ اپنی خدمات کو دور جدید کے اعتبار سے منظم طریقے سے "تعارف” نہیں کروا پاتے ہیں اور لوگوں کے سامنے صحیح سے پیش نہیں کر پاتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے مسلم ڈاکٹر،انجینئر اور آفیسر وغیرہ اپنی عطیات اور امداد وغیرہ کو چندہ( Donation)) غیر مسلم فلاحی اور رفاہی اداروں کو دیتے ہوئے نظر آتے ہیں! لہذا مدارس اسلامیہ کے ذمداران اور اصحاب خیر حضرات کو ایک دوسرے کو سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے! اور ایسے ہی مسلمانوں میں بہت سے غریب ہیں جو زندگی کے ہر شعبے میں پسماندہ ہیں جن تک رقوم نہیں پہنچ پاتے ہیں جس کی وجہ سے "مستحقین "محروم رہ جاتے ہیں اور” غیر مستحقین” مستحقین کے نام پر سب کچھ حاصل کر لیتے ہیں!اس لیے زکوۃ ،صدقات اور عطیات کے اغراض و مقاصد ” کو سمجھنے اور جاننے کی ضرورت ہے! اور وہ لوگ جو ہر سال افطار پارٹی کی محفل منعقد کرتے ہیں,جو فرض حج و عمرہ کرچکے ہیں اور نفلی حج و عمرہ کے لیے ہر سال جاتے ہیں , جو شادیوں کو یادگار بنانے اور بہترین وعالیشان ضیافت کے لئے مشہور و معروف ہیں,جو سرکاری ملازمین جن کی آمدنی اچھی خاصی ہے ,جو بڑی بڑی کارپوریٹ کمپنیوں میں کام کرتے ہیں
,جو ہوٹلوں اور ریسٹورنٹ میں کھانے اور تفریحی مقامات پر جانے کا مزاج رکھتے ہیں , جو تفریحی اور سیاحتی اسفار اور گرمیوں میں پہاڑی علاقوں کا لطف اٹھاتے ہیں،جو زیادہ اسفار کرتے ہیں اور اندرون وبیرون ملک و شہر آمد و رفت پر قابل قدر رقم خرچ کرتے ہیں، جو کاشتکاری سے وابستہ بڑے کاشتکار ہیں اور عمدہ کاروبار سے منسلک ہیں,جو بیرون ممالک سروس یا کاروبار کرتے ہیں,جو مسلم لیڈر کئی کروڑ کا ٹکٹ خریدتے ہیں اور کئی کروڑ پرچار میں خرچ کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ یعنی اصحاب ثروت اور ارباب دولت و اقتدار ہیں جو اسکول ,ییتم ,بیوہ ,معذور ,تعلیمی وظائف وغیرہ کے نام پر زکوة ,فطرہ وصول رہے ہیں ان سے کیوں اپیل نہیں کرتے ہیں کہ یہ اپنے فالتو اور بیجا اخراجات میں کٹوتی کرکے آپ کو دیں تاکہ آپ لڑکیوں کے لیے اسکول کھول سکیں ,فلاحی و رفاہی ادارہ قائم کر سکیں ۔آپ کی نظر صرف مدارس اسلامیہ اور اس کی آمدنی پر کیوں ہے ؟ اور یہ بھی واضح رہے کہ مدارس میں چار فیصد طلبہ پڑھتے ہیں بقیہ کے مستقبل کی فکر کیوں نہیں کرتے ہیں کہ اچھے اسکولس اور کالجز وغیرہ کھولیں اور غیر مستطیع کو بغیر فیس لیے تعلیم دیں ۔مسلمانوں کے پاس اسکولس اور کالجز کی کمی ہے ان کو قائم کریں ناکہ جو مدارس قائم ہیں ان کے ذرائع آمدنی پر قابض ہوکر بند کرانے کی کوشش کریں۔یہ رپورٹ پڑھیں :

How many Muslims study in madarsa in India?
Ans:As per data from UP Madrasa Shiksha Board, there are around 16,500 recognised madarsas, of which 558 are totally aided. At madrasas, students mainly from the minority community are imparted knowledge of Islamic theology and jurisprudence. By rough estimates, there are around 40,000-50,000 private madrasas in the state. ((New Indian Express; 14-Mar-2021))

(یوپی مدرسہ شکشا بورڈ کے اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 16,500 تسلیم شدہ مدارس ہیں، جن میں سے 558 مکمل طور پر امداد یافتہ ہیں۔ مدارس میں، بنیادی طور پر اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے طلباء کو اسلامی الہیات اور فقہ کا علم دیا جاتا ہے۔ موٹے اندازے کے مطابق ریاست میں تقریباً 40,000-50,000 پرائیویٹ مدارس ہیں۔)

Do all Muslims go to madrasa?

Figures from the National Council for Applied Economic Research (NCAER) "indicate that only about four percent of all Muslims students of the school going age group are enrolled in madrassas. "At the all-India level this works out to be about three percent of all Muslim children of school going age. ((Hindustan Times; 05-Dec-2006))

(نیشنل کونسل فار اپلائیڈ اکنامک ریسرچ (NCAER) کے اعداد و شمار "اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسکول جانے کی عمر کے تمام مسلمان طلباء میں سے "صرف چار فیصد مدارس میں داخلہ لیتے ہیں۔” کل ہند سطح پر یہ کام کرتا ہے تقریباً تین فیصد اسکول جانے والے تمام مسلمان بچے۔05-دسمبر-2006 (ہندوستان ٹائمز)
یہ بھی واضح رہے کہ مدارسِ اسلامیہ کا وجود حفاظت دین کا بڑا ذریعہ ہے، یہ وہ اسلامی قلعے ہیں جو دین کی پناہ گاہ ہیں,جس جگہ مدارس اسلامیہ کا وجود نہیں وہاں جاکر دیکھیں اسلام کا کیا حال ہے وہاں کی دینی حالت دیکھیں تو مدارس کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہوجائے گا جیسے اسپین، تاشقند اور سمرقند (ازبکستان) کی حالت, اسلام کی زبوں حالی کی منھ بولتی تصویر ہے،آج وہاں لوگ سلام کا جواب دینا بھی نہیں جانتے مگر متحدہ ہندوستان (انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش) کا نقشہ ان ممالک سے مختلف ہے، آپ کو جگہ جگہ مسجدیں آباد مل رہی ہیں، مسلمان دینی وضع قطع میں ہیں, آپ کو بے شمار علماء مل رہے ہیں,اسلام پر کوئی حملہ ہو مسلمان مدافعت کے لیے تیار ہیں یہ نقشہ کیوں ہے؟ یہ مدارس اسلامیہ کی برکت ہے یہ دین اسلام کی حفاظت کے قلعے ہیں,لہذا آپ اس نعمت کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کرنے اور زیادہ سے زیادہ فعال بنانے کی کوشش کریں؛ان شاء اللہ ہمارے لیے مفید ہوگا اور اگر یہ مدرسے خدانخواستہ نہ رہے تو پھر صورت حال وہی ہوگی جو دیگر جگہوں پر ہوچکی ہے-جیسا کہ علامہ اقبال نےکہا تھا : ”ان مدارس کواپنی حالت پررہنےدو ، اگریہ مدارس اور اس کی ٹوٹی ہوئی چٹائیوں پربیٹھ کر پڑھنےوالےیہ درویش نہ رہے ، تو یادرکھناتمہارا وہی حال ہوگا جو میں اندلس اورغرناطہ میں مسلمانوں کادیکھ کرآیا ہوں“۔
جاری۔۔۔