رمضان المبارک

مہمان آگیا،برکتوں کا مہینہ رمضان اگیا

ازقلم: غوثیہ سلامی، معلمہ جامعہ گلشن مصطفی نسواں بہادر گنج، سلطان پور، ٹھاکردوارہ مراداباد

اللہ رب العزت نے عظمت والی کتاب قرآن پاک کو جس مبارک مہینے میں اتارا "ماہ رمضان”وہی عظمت و برکت والا مہینہ اپنے دامن میں خیرات وبرکات سمیٹے ہمارے سر پر سایہ فگن ہو گیا ہے ۔دل میں خوشی کے جذبات امنڈنے لگے ہیں اور ایسا کیوں نہ ہو جب کہ ایک معزز مہمان کی آمد آمد ہے ۔جو اللہ کے نزدیک سارے مہینوں سے افضل ہے۔

   کتنے ہی لوگ ہیں ،جو گزشتہ سال رمضان میں ہمارے ساتھ عبادت کر رہے تھے ۔ مگر آج وہ اس دنیا میں موجود نہیں ! قبرستانوں میں مدفون ہونے کے باعث، بہت سے جسمانی یا ذہنی بیماری ، بڑھاپے یا کسی اور عذر کے سبب روزہ رکھنے سے عاجز ہیں اوراس مبارک مہینے سے فائدہ حاصل کرنے سے محروم ہیں ۔ لیکن وہ خوش نصیب جنھیں اس رحمت والے مہینے سے استفادہ کا موقع مل رہا ہے ۔انھیں چاہیے کہ نیکی کے تمام مواقع سے خوب فائدہ حاصل کریں،اس برکت والے مہینے میں نیکیوں میں آگے بڑھنے کی پکار پر دل و جان سے لبیک کہیں، کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ایک پکارنے والا پکار کر کہتا ہے :”اے نیکیوں کے طالب!آگے بڑھ اور اے برائیوں کے طالب ! باز آجا ۔”
         قرآن مجید اس ماہ میں اترا اس لیے قران کریم اور اس ماہ کا گہرا تعلق ہے ۔ ہمیں کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت کرکے اس ماہ کی برکتیں لوٹنی چاہیے۔ کیوں کہ قرآن اہل ایمان کے لیے ہدایت و رہنمائی کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ کا فرمان ہے : "رمضان کا مہینہ (وہ ہے)جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور رہنمائی کرنے والا (حق و باطل)میں امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں۔”                                                      

                                                                    رحمت و برکت کا مہینہ:

     
        رمضان وہ مبارک مہینہ ہے جس میں اللہ تعالٰی اپنے بندوں پر خصوصی رحمتیں اور برکتیں نازل فرماتا ہے ،اس ماہ میں نیکی کے اجر میں اضافہ فرماکر خود اجر دیتا ہے ۔نفل کا ثواب اس ماہ میں فرض کے مساوی اور ایک فرض کا ستر فرائض کے برابر دیاجاتا ہے۔اللہ اس ماہ کی ابتدا ہی میں شیاطین کو قید کر کے اپنے بندوں کو نیکی کی رغبت دلاتا ہے تاکہ بھلائ کے کام کرنا ان کے لیے آسان ہو جائیں جیسا کہ حدیث رسول سے ثابت ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہارے پاس رمضان آیا ہے، یہ برکتوں والا مہینہ ہے ،اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے تم پر فرض کیے ،اس ماہ میں جنت کے، ایک روایت میں آسمان کے اور ایک روایت میں رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے اور اس ماہ میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے تو جو اس کی بھلائی سے محروم رہا تو تحقیق کہ وہ محروم ہی رہا۔”  اور اس ماہ میں اللہ تعالیٰ بندوں کا رزق وسیع فرما دیتا ہے،اس ماہ کا پہلا عشرہ رحمت کا،دوسرا مغفرت کا اور تیسرا جہنم سے آزادی کا۔ تینوں عشروں میں دل کھول کرعبادت کرکے رب کی رحمت کے خزانے لوٹ لو ۔                               

رمضان بخشش کا مہینہ:

         رمضان المبارک اللہ سبحانہ کا عطا کردہ ایک غیر معمولی اہمیت کا حامل تحفہ ہے،جو انسان کے ماضی میں کیے گئے گناہ اور ظلم و زیادتی کے کفارے کا باعث بنتا ہے۔ یہ رمضان کی ہی تو برکت ہے  کہ بہت سے وہ قلوب جو کل تک معاصی کے ارتکاب پر فرحت و سرور محسوس کرتے تھے آج ایسے قلوب بارگاہ ربانی میں خشیت ربانی سے موجزن ہیں ۔ یہ بخشش کا مہینہ ہے ۔اس ماہ میں روزہ دار کو افطار کرانے والوں کے گناہوں کو معاف کر دیا جاتا ہے،اس کو نار دوزخ سے خلاصی مل جاتی ہے اور اس کو ایسا ہی ثواب ملتا ہے جیسا کہ روزہ دار کو ملتا ہے اس کے ثواب میں کچھ کمی کیے بغیر اور اس ماہ میں پیٹ بھر کھانا کھلانے والوں کو حوض کوثر سے ایسا سیراب کیا جائے گا کہ کبھی اس کو پیاس نہیں لگےگی اس کے بعد جنت میں داخل کر دیا جائےگا ۔
اس ماہ کی ہر ساعت میں فضیلت رکھی گئی لیکن ایک رات یعنی”شب قدر”ہزار مہینوں کی راتوں سے افضل ہے اس رات میں عبادت کرنا ہزار مہینوں کی راتوں میں عبادت کرنے سے افضل ہے۔حضرت ابو ھریرہ سے منقول ہے کہ جو شخص اس ماہ میں روزے رکھے اور شب قدر میں ایمان و اخلاق اور حصول ثواب کی نیت سے قیام کرے اس کے گزشتہ تمام گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔
ایک اور روایت حضرت ابو ھریرہ سے ہی منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ "رمضان المبارک” میں ہر روز دس لاکھ لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے ۔مزید یہ کہ جب انتیسویں رات آتی ہے تو جتنے پورے مہینے میں آزاد ہوئے اتنے اس رات میں آزاد فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو روزہ دار کے منہ کی بو مشک سے بھی زیادہ پسند ہے۔
اس ماہ مقدس کے روزے رکھ کر رب کو راضی کر لیجیے نیز کثرت سے دعا ،استغفار اور عبادت کریں کیوں کہ اس ماہ کی عبادت مقبول اور دعا مستجاب ہے ۔روزہ دار کے لیے رب نے دو خوشی مقرر کی : ایک ایک افطار کے وقت اور دوسری رب کی ملاقات کے وقت۔اس کے علاؤہ بھی بہت رحمتیں اس ماہ مبارک میں رب قدیر نازل فرماتا ہے زیادہ سے زیادہ لوٹنے کی کوشش کریں ۔

        اللہ رب العزت کی بارگاہ میں التجا ہے کہ تمام مسلمانوں کو "رمضان المبارک”کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور "رمضان المبارک”کی رحمتوں اور برکتوں کی بارش ہم سب پر برسائے۔آمین  بجاہ حبیبہ سیدالمرسلین