اصلاح معاشرہ

ائمہ ومدرسین کا مشاہرہ مزدوروں سے بھی کم

تحریر: طارق انور مصباحی

مہنگائی آسمانوں کو چھو رہی ہے۔ہر شعبہ میں تنخواہوں کا معیار بڑھتا جا رہا ہے۔ائمہ ومدرسین کا مشاہرہ حالات زمانہ کے بالکل برعکس ہے۔تقلیل مشاہرہ کے ماسٹر مائنڈ علمائے کرام ہی ہیں۔مدارس کے ناظمین عام طور پر علمائے کرام ہی ہوتے ہیں۔وہ اپنی تنخواہ دوگنی رکھتے ہیں اور ان کے پاس آمدنی کے بھی کچھ ذرائع ہوتے ہیں۔مدرسین کی تنخواہ بھی کم ہوتی ہے اور آمدنی کے ذرائع بھی محدود یا مسدود ہوتے ہیں۔مدارس کی قلت تنخواہ کے سبب مساجد میں بھی ائمہ کرام کا مشاہرہ کم ہوتا ہے۔

علاج ومعالجہ,بچوں کی تعلیم,بچیوں کی شادی اور کسی ناگہانی آفت ومصیبت کے لئے ائمہ ومدرسین کو بہت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بسا اوقات انہیں غیروں کے سامنے ہاتھ بھی پھیلانا پڑتا ہے۔ایسے دلدوز اور روح کو تڑپا دینے والے حالات کو دیکھ کر وہ اپنے بچوں کو دینی تعلیم سے وابستہ کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔

مذکورہ مشکلات کے ساتھ ہی یہ مشکل عظیم بھی انہیں درپیش ہوتی ہے کہ مدارس ومساجد کے ذمہ داران جب چاہتے ہیں,امام ومدرس کو برخاست کر دیتے ہیں۔کرناٹک میں ایک امام صاحب فیملی کے ساتھ امامت پر تھے۔چند ہفتوں میں ان کے گھر میں بچے کی پیدائش ہونے والی تھی کہ کمیٹی نے انہیں امامت سے معزول کر دیا۔ہر شخص جانتا ہے کہ ڈیلیوری کا خرچ ایک امام ومدرس کے لئے کس قدر مشکل ہے۔ایسے مشکل وقت میں کسی امام کو معزول کرنا سنگ دلوں کا ہی کام ہو سکتا ہے۔انجام کار امام صاحب کرایہ پر مکان لے کر چند ماہ تک وہاں قیام پذیر رہے,پھر کہیں دوسری جگہ ملازمت سے منسلک ہو گئے۔جو لوگ کبھی ہاتھ چومتے ہیں,ملازمت سے برطرف کئے جانے کے بعد وہ لوگ بھی منہ پھیر لیتے ہیں۔

مجھے یہی بہتر سمجھ میں آتا ہے کہ با صلاحیت فارغین مدارس دینی خدمات سے منسلک رہیں,تاکہ وہ خوش اسلوبی کے ساتھ دین متین کی خدمت انجام دیتے رہیں۔اصحاب علم وفضل ایسی ماحول سازی کریں کہ مدارس ومساجد میں مشاہرہ ائمہ ومدرسین کی ضرورتوں کے حساب سے ہو۔

دیگر فارغین مدارس دیگر پیشوں سے منسلک ہو جائیں اور اپنے احباب ومتعلقین کو راہ راست پر مستحکم کرتے رہیں۔حتی الامکان فروغ اسلام وسنیت کی کوشش کرتے رہیں۔کسی چیز کی کثرت اس کی اہمیت کو گھٹا دیتی ہے۔کرناٹک میں ایک عالم صاحب 2001 میں قریبا چھ ماہ تک بے روزگار رہے۔وہ متعدد علمائے کرام سے رابطے میں رہے۔کئی ماہ بعد انہیں ملازمت ملی۔بیس سال بعد فارغین کی کثرت ہو چکی ہے۔اس قدر مساجد ومدارس نہیں کہ تمام فارغین کے لئے گنجائش نکل سکے۔ بڑے مدارس میں بچوں کو کچھ دستکاری وہنر سکھایا جائے۔طلبائے مدارس عہد طالب علمی میں فاصلاتی نظام تعلیم کے ذریعہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحان دیں اور بعد فراغت پروفیشنل ایجوکیشن(پیشہ ورانہ تعلیم)سے منسلک ہونے کی کوشش کریں۔

بہت سے لوگ پریشان ہو کر وہ صورت اختیار کر لیتے ہیں جو شرعا جائز نہیں,مثلا قرآن خوانی کرنے والوں کی ایک ٹیم بنا لیتے ہیں,حالاں کہ عبادت کے کاموں پر اجرت ناجائز ہے۔متاخرین فقہائے احناف نے بوجہ حاجت شرعیہ محض امامت اور تعلیم دین کی اجرت کو جائز قرار دیا ہے۔دیگر بعض امور میں اجارہ کی ایک صورت بیان کی جاتی ہے۔اجارہ ایک عقد ہے جس کے لئے جانبین کی رضامندی ضروری ہے۔ایک فریق دل میں اجارہ کی نیت کر لے تو اس سے اجارہ منعقد نہیں ہو سکتا۔تراویح بھی ایک اہم عبادت ہے۔ان امور کے لئے اجارہ کی جو صورت بیان کی گئی ہے,اس پر عمل کیا جائے یا صریح لفظوں میں بیان کر دیا جائے کہ قرآن خوانی اور نماز تراویح کی کوئی اجرت نہیں,پھر صاحب مکان یا مسجد کمیٹی کچھ ہدیہ دے دے تو وہ جائز ہے۔