نعت رسول

نہ جانے مجھ سے یہ حق غلامی کب ادا ہوگا

نتیجہ فکر: محمد زاہد رضا بنارسی
دارالعلوم حبیبیہ رضویہ گوپی گنج، بھدوہی (یوپی) بھارت

ہمارے سامنے جب روضۂ خیر الورٰی ہوگا
الٰہی کب ہمیں ایسا کوئی لمحہ عطا ہوگا

جنونِ عشقِ احمد کی ملے گی کب سند مجھ کو
نہ جانے مجھ سے یہ حقّ غلامی کب ادا ہوگا

جلا سکتی نہیں اس کے بدن کو آتشِ دوزخ
زباں پر جس کی ہر دم نغمۂ صلی علیٰ ہوگا

اے مولیٰ خیر گردانی بحقٗ شاہ جیلانی
سناہے ہم نےمحشر میں بھی ایک محشر بپا ہوگا

وہاں پر بھی اے نجدی کام آئیں گے میرے آقا
جہاں اعمال ہوں گے حشر ہوگا اور خدا ہوگا

چلو در در بھٹکنا چھوڑ کر آقا کی چوکھٹ پر
وہاں بے مانگے ہی دامن مرادوں کا بھرا ہوگا

نبیﷺ کی چشمِ رحمت کی فقط ہلکی سی اک جنبش
ہماری زندگی بھر کی عبادت کاصلہ ہوگا

نبیﷺ کے عشق میں خود کو فنا کرکے تو دیکھ اک دن
ہر اک حرف زباں "زاہد” تیرا حرف دعا ہوگا