مضامین و مقالات

رمضان المبارک کی ستائیسویں شب اور قیام پاکستان

کالم نگار :ڈاکٹر ذیشان نجم خان

قیام پاکستان ایک معجزہ ہائے تاریخ الدنیا ہے۔ یہ نظریاتی وحدت کے تتبع میں خون سے لکھی ہوئی ،شہادتوں سے عبارت،بزرگوں کی عبادت، بچوں کی سعادت ،بے باک قیادت، تا روز قیامت، یاد رہنے والی ایک داستان ہے۔یہ عہدِ جدید کی تاریخ مسلم کی لازوال فاتحانہ تاریخ کی آخری یادگار ہے۔جو لوگ کہتے ہیں کہ تقویمِ پارینہ بکار نمی آید ( یعنی پرانی جنتری کام نہیں آتی) انہیں جمع خاطر رکھ کر یہ سوچنا چاہیے کہ پاکستان گزشتہ چار صدیوں کی ارتقائی مساحت کا حاصل ہے ۔یہ احیائےاسلام ہے ۔یہ حیائے مسلماں ہے۔ یہ ملک رازِ دوام ہے۔اکیسویں صدی کے آغاز سے لے کر، پاکستان کے قومی مسائل جس رنگ و آہنگ کے نئے آتشی نگینوں میں جوڑ کر عوام کے سامنے پیش کئے گئے ،اس کی بوقلمونیوں سے نئی نئی جڑی بوٹیاں، نت نئے رنگ کے منجن و معجون پیش کیے جاتے رہے۔
اس میں وہ مبارک رنگ بھی استعمال ہوا جو بے رنگ ہے۔
پچھلے تیس سالوں میں عام پاکستانی ایک چارہ بیجتا،کاٹتا اور کھاتا رہا۔اس کا نقصان ہوا ۔اس پر دہشتگردی کا ماحول مسلط تھا۔سرمایہ دارانہ سامراجیت نے اس کو چاروں طرف سے گھیرا لیا۔حب الوطنی کے نام پر پاکستان کو دھوکہ دیا گیا۔ عوامِ پاکستان کو مادی خوف اور نان نفقہ میں الجھا دیا گیا ۔اس کی چشم غافل دیدہ بینا سے عاری تھی ۔اس کا معاشرہ انفرادی فائدے کی زمین پر بد عنوانی کی پنیری کاشت کرتا رہا ۔اس کے پاس تعلیم تو تھی ہی نہیں، غیرت حمیت اور پاکبازی میں لپٹی ہوئی حیا اس کی تربیت تھی ۔روایت قانون اور مذہب کی نکلیلیں جب نکل گئیں، تو روایت اور تہذیب کی تربیت بھی نہ رہی ۔معاشرہ شتر مہار ہوگیا ۔نئی تہذیب کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں آن پھوٹی ۔عام شہری طبقاتی تقسیم میں تقسیم ہوتا چلا گیا۔وفاقیت کی جگہ انانیت و عدم وفاقیت کو فروغ دیتا رہا ۔اخلاقی عزائم جرائم میں بدل گئے ۔سماجی ادارے ناکام ہوئے ۔صحت و تعلیم کاروبار بنے ۔ادب اور تہذیب کی جبری بے قدری ہوئی ہوئی۔تعلیمی ادارے بے حیائی کے مرتکب و مراکز ہوئے۔جھوٹ پھیلا ، تحقیق و جستجو معدوم ہوئی ۔روایت بے پردہ ہوئی۔ ظلم بچے جنتا رہا،عدل صاحب اولاد نہ ہو سکا ۔قومی نشریاتی ادارے روشن خیالی میں بہہ گئے ۔لباس چست ہوئے، مزاج درشت ہو ئے۔
دوپٹہ سر سے گرا تو شانوں پہ اٹکا ،وہاں پر بھی کھٹکا تو سماج بھٹکا،محرم رشتوں کی ٹیلی وژن پر پامالی ہوئی ۔ الا ماشاء اللہ چند صحافتی اداروں کے علاوہ سب کمرشل ہوگئے۔یوم آزادی بھی کمرشل ہوگیا ۔سرکاری ٹی وی پر یوم آزادی کے حوالے سے خصوصی کوئیز، پروگرامز نشر ہوتے۔ تاریخ پاکستان اور تحریک پاکستان کے محققین کو مدعو کیا جاتا تھا۔ اب صرف بے ادب نغموں، باجےکی بجاہٹ، سلینسر کی پٹپٹاہٹ، لچر پن، ناچ گانے پر موقوف ہوا ۔دس لاکھ جانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا یہ کیسا نیا انداز وضع ہوا۔
27 رمضان اور 14اگست 1947ء کو مساجد میں قرآن خوانی ہوتی۔ شہدائے تحریک آزادی، پاکستان کی سلامتی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی جاتیں۔ لنگر تقسیم کیا جاتا۔ نجی اور سرکاری اداروں میں تقریبات کا اہتمام کیا جاتا۔ تقریری مقابلوں کا انعقاد ہوتا ، تحریک آزادی کے ادب پر مبنی مشاعرے ہوتے، ہر گھر کی چھت پر قومی پرچم لہرا رہا ہوتا،گلی کوچے جھنڈیوں سے مزین کیے جاتے۔ بزرگ افراد تحریک پاکستان کی لا زوال قربانیوں کی داستانیں یاد کر کر کے آبدیدہ ہوجاتے تھے۔ اس روز قومی پرچم بردار جلوس نکلتے تھے۔ رات کو مشعل بردار جلوس مہاجرین کی آمد، ان پر ڈھائے جانے والے مظالم، اور اندھیرے سے روشنی کے سفر کی علامت بن جاتے۔ یہ تجدید عہد تھا۔ یہ شہدائے پاکستان سے وفا کا عہد تھا۔ یہ ان کے حصول پاکستان کے لیے اس جدوجہد جاری رکھنے کا پیغام تھا، جس میں وہ شہید ہوئے۔آج اکثریتی پاکستانیوں کو پاکستانی قومی ترانہ تک یاد نہیں ۔۔۔۔!ہم علامہ اقبال اور اکبر الہ آبادی کی راہ تک رہے تھے۔ادھر تجارتی فروخت و فروغ کاری کے نام پر، رابطہ کار فون کمپنیوں نے بالخصوص اور دیگر کارپوریٹ کمپنیوں نے بالعموم عورت کو آلہ کار بنا کر سائن بورڈز پر فحاشی کے فروغ کا ذریعہ بنا دیا۔ مشرقیت پر مغربیت غالب ہوئی۔ پڑوسی ملک کی ثقافتی یلغار نے رہی سہی کسر بھی نکال دی۔سارا معاشرہ چشم حیراں دیکھتا رہا۔چشم حیواں اپنا کام کرتی رہی۔قومی زبان اردو کا گلا گھونٹا گیا ۔ رومن رسم الخط جبری طور پر رائج ہوا۔
قومی تاریخ ،مشاہیر اور افتخاران کی زبوں حالی ہوتی رہی، معلم سے زیادہ عزت و متاع رقاصاؤں کے حصے میں آئی ۔ کتب فٹ پاتھ پر پہنچا دیں گئیں اور جوتے شیشوں کی زینت بنا دیے گئے۔جدید ٹیکنالوجی کا جن نئی نسل کو تباہ کر گیا۔ پورن سائٹس کے ہوش شربا اعداد و شمار الگ کہانی ہیں۔ پی ایچ ڈی کی ڈگریاں بانٹی گئیں ۔اہل علم معدودے چند جو بچے تھے، انہیں کھڈے لائن لگا یا گیا ۔اب ہمارا اسکا لر موٹیویشنل سپیکر کہلاتا ہے۔ وہ معاشرے کو مادے کی دوڑ کی طرف ہانکتا ہے ۔ہمارا دانشور بھوک کی چکی میں پستے پستے نمک کی کان میں نمک ہو گیا ۔ ہمارے قومی کتاب میلوں، مشاعروں، اور تقریبات میں انگریزی لباس فرض ہو گیا۔ہم نے اپنے استاد کی قدر نہیں کی۔معاشرہ مادر پدر آزاد ہو گیا۔الحادی سیکولر روشن خیال لبرل مافیا نے اپنی ڈیڑھ اینٹ ٹکا دی ۔قادنیت کا فتنہ سر چڑھ کر بولا ،اس نے اپنی جڑیں قائم کیں ۔ عام آدمی نے احتجاج کیا ۔۔۔۔۔! تب تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا تھا ۔
پاکستان ایک احتجاجی معاشرے کے طور پر سامنے آیا ۔
کیا کیجیے ؟ نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن کے مصداق ایسی تبدیلی کے ہم تبدیل ہوگئے ۔
اس کی اصل وجہ ہمارا دامن دینی حیا سے تہی ہو جانا ہے ۔
ہماری تہذیب و روایت کے خلا کو کسی اور تہذیب نے آکر پُر کر دیا ہے۔ یہ سب کچھ ایک عام پاکستانی کے سامنے ہوتا رہا ۔ ذمہ دار قومی اداروں کی ناک کے نیچے کیا کچھ نہیں ہوا ؟
آخر کسی کو تو اس کی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی ۔
آخر کب تک ایسا ہوتا رہے گا ؟ ہمیں پاکستان نامی داستان کو اپنی آئندہ آنے والی نسلوں تک پہنچانا ہے ۔ہمیں اس معجزہ خداوندی کی قدر کرنی ہے ۔ہمیں نظریہ پاکستان اور حضرت قائداعظم اور قلندر لاہوری حضرت علامہ اقبال کی فکر کو اجاگر کرنا ہوگا ۔

کبھی اے نوجواں مسلم! تدبّر بھی کِیا تُو نے
وہ کیا گردُوں تھا تُو جس کا ہے اک ٹُوٹا ہوا تارا

تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبّت میں ہمیں اپنے معاشرے اور سماج کو دین اسلام کے مزاج کے مطابق ڈھالنا ہے ۔ ہمیں احیائے کلمتہ الحق کی بلندی کے لیے زبانی جمع خرچ کی بجائے، انہی دینی، سماجی، اور روایتی اقدار پر مبنی محفوظ و مخطوط نظام ریاست بنانے کی ضرورت ہے، جس کا ہر تانہ بانہ احیائے دین ہو، صدائے پر یقین و عظیم ہو۔پاکستان کا ہجری یوم آزادی اس تجدیدی عہد کا عکاس ہو، جس میں نظریہ پاکستان کا نفاذ ہو۔ یہ دن ہمارے اندر تڑپ پیدا کرے۔ قیام پاکستان اور اس کے لیے بہائے گئے، خون کا مقصد روشناس کروائے۔ یہ روز سطوت جبین روشن کا ستارہ متصور ہو۔
یہ روز ہمیں اپنے قومی مقاصد کو رفعت میں ہمدوش ثریا کر نے کا پیغام دے! یہ دن ہمیں امروز کی شورش میں اندیشہ فردا اور دیدہ بینا دے! یہ علم تیقن بلند کرے کہ ہم بیچارے باطل کا چارہ نہیں ہیں۔ یہ ہماری قومی قرطاس فکر پر فکر پر نوشتہ تقدیر الہی برائے مسلمان منعکس کر دے !
یوم آزادی کا تجدید عہد وہی ہے۔ جو فکر اقبال پر مبنی اصغر سودائی کا نعرہ تھا۔

پاکستان کا مطلب کیا ؟
لا الہ الا اللہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے