از: سلمان رضا فریدی صدیقی مصباحی بارہ بنکوی، مسقط عمان
0096899633908
اے رمضاں کے ماہ ونجوم الوداع
بہشتِ کرم کی رُسوم الوداع
ابھی کس طرح تجھکو رخصت کروں
ابھی تو ہوا تھا قدوم ، الوداع
نگاہِ عقیدت ہے اشکوں سے تر
غموں کا ہے دل میں ہجوم الوداع
کشادہ ہے دروازۂ جان و دل
بھرے جارہے ہیں ہُموم الوداع
سکھایا بہت کچھ ترے وعظ نے
اے ہادی ! اےبحر العلوم الوداع
مکین ومکاں سب ہوئے فیضیاب
کرم میں تھا اتنا عُموم ، الوداع
ہوئ تازہ دم ، روحِ کون و مکاں
مچی تھی ہراک سمت دھوم الوداع
فریدی بھی تجھ سے ہوا مستفیض
سخیِّ کثیرُ الرُقوم الوداع
کاش رُک جائیں یہیں بزمِ اِرم کے لمحے
نہ کبھی ختم ہوں یہ ناز و نِعَم کے لمحے
پتھروں کوبھی گُہَر کرگئ جسکی تاثیر
حاصلِ عمر ہیں یہ چشمِ کرم کے لمحے
°°°°°°°°°°°
رُسوم .. رسم کی جمع ، نقوش، دستور
ہُموم .. ہمّ کی جمع ، دُکھ درد
رُقوم، رقم کی جمع ، روپیہ پیسہ
عموم … عام ہونا