سیاست و حالات حاضرہ

جرم کسی کا بھی ہو لیکن…….

تحریر: افتخار احمد قادری برکاتی
کریم گنج، پورن پور، پیلی بھیت،مغربی اتر پردیش
iftikharahmadquadri@gmail.com

آج موجودہ نسل اپنی صلاحیتوں اور تجربات کی روشنی میں معاشرہ کو پراگندہ اور اپنی اقلیت دشمن ذہنیت کا بیج زندگی کے ہر شعبے میں بوتا اور سینچتا چلا آرہا ہے، ساتھ ہی ساتھ یہ سبق اپنی آنے والی نسلوں کو بھی دینے کی بھرپور کوشش کررہا ہے- اسی مخصوص نظریات و فکر کے تعلیمی حصول کے لئے منظم طریقے پر الگ سے تنظیمیں وجود میں آئیں اور ملکی پیمانے پر اس کا بڑی خوبصورتی سے جال بنا گیا جو اپنے مقصد اولین کے شرمندہ تعبیر کے لئے ہمہ تن برسر پیکار ہیں- اور یہ گدھ نظر اور لومڑی صفت ہمہ وقت سائے کی طرح موقع کی تاک میں کبھی فساد کراکے کبھی مذہبِ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کوئی شوشہ چھوڑ کر اپنے تیار شدہ معاشرے کا جائزہ لیتے رہتے ہیں تاکہ انہیں اندازہ ہوسکے کہ کس حدتک اپنے مقصد اولین یعنی پورے بھارت کو ہند راشٹر بنانے کا جو خواب انہوں نے برسہا برس سے سنجو کر رکھا ہے اس میں کہاں تک کامیابی ملی ہے۔
جس کا مشاہدہ ہمیں ہرسال، ہر مہینے ہوتا رہتا ہے جب ظلم و ستم اور جبر و تشدد کا ننگا ناچ نہ کھیلا جاتا ہو، موجودہ وقت میں گستاخ رسول نپور شرما کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کے جانی و مالی نقصانات کو دیکھ کر اور سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ کس طرح مسلمانوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں،
ہر دور میں کم و بیش یہی صورتحال رہی ہے کہ جرم کسی کا بھی ہو لیکن مسلمانوں کی عزت و آبرو اور اس کی خود داری کو ٹھوکروں سے روند کر غریبی اور مفلسی کے اندھیروں میں بھٹکنے پر مجںور کردیا جاتاہے، تو کبھی اس کی وفاداری پر سوالیہ نشان لگا کر اسے مشکوک نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے اور وطن سے بے وطن کرنے کی سازش رچی جاتی ہے، کبھی بلاوجہ جرم ثابت کرکے آہنی شکنجوں میں جکڑ کر سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے جہاں ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا حالانکہ تاریخ کے اوراق پکار پکار کر آواز دے رہے ہیں کہ تحریک آزادی میں مسلمانوں کی وفاداریاں و قربانیاں قابل فخر ہیں، لیکن شاید سادہ لوح مسلمان نے پس پردہ چل رہی اٹھاپٹک اور اقلیت دشمن عناصر کے عزائم سے بے خبر کبھی یہ سوچا بھی نہ ہوگا کہ آزادی کی فضا ہموار ہونے کے بعد ہم پر غداری کے لیبل چسپاں کر دیے جائیں گے، ان کے ساتھ قتل و غارتگری اور آگ و خون کی ہولی کھیلی جائے گی-
مذہبِ اسلام پر چہار طرفہ حملے کیے جائیں گے، الله و رسول کی شان میں گستاخیاں کی جائیں گی، گستاخ رسول نپور شرما کو شان اقدس میں توہین آمیز جملے کہے جانے پر بجائے گرفتاری کے سیکورٹی فورسز فراہم کی جائے گی، اور اس کے خلاف مظاہرے کر رہے مسلمانوں پر ظلم و بربریت کیا جائے گا، حق کی آواز اٹھانے کے بدلے میں ان کے گھروں کو مسمار کیا جائے گا، مظاہرین پر لاٹھیاں برسائی جائیں گی یہاں تک کہ گولیاں بھی چل جائیں گی، اتنا سب ہونے کے باوجود بھی حکومت مجرم کو پورا حفاظتی بند بست فراہم کرے گی نہ کہ گرفتار، اور کیوں نہ کرے کہ یہ ہندو راشٹر کی فسطائ حکومت کے لئے معاون و مددگار کی ایک کڑی ہی تو ہیں- ساتھ ہی ساتھ ان کا یہ تاثر بھی مقصود ہوتا ہے کہ مسلمان اس کی وجہ سے کس حد مشتعل ہوسکتے ہیں، صرف احتجاجی پروگراموں میں کچھ جذباتی نعروں پر اکتفاء کیا جاتا ہے یا اور بھی کچھ، کن علاقوں میں کون لوگ اور کون سی تنظیم پیش پیش رہی، اس کی باضابطہ ایک رپورٹ تیار کرکے آگے ہائی کمان کو سونپی جاتی ہے تاکہ ان علاقوں کی سرکردہ تنظیموں یا فرد پر خاص مہربانی کی جاسکے- جب صورتحال یہ ہے تو آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ موجودہ حکومت میں اپنے مسائل کے حل کے لیے کیا مسلمانوں کو حکومت سے رابطہ کرنا چاہیے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے