مذہبی مضامین

محبت رسولﷺ کے تقاضے اور پیغامِ عمل

جس کے وسط سے تعظیم و توقیر کی صبحِ درخشاں طلوع ہوتی ہے

ازقلم: غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن، مالیگاؤں

محبتِ رسول ﷺ کی تربیت دی گئی… رسول اللہ ﷺ کے احسانات یاد دلائے گئے… تعظیم کا نقش دلوں پر بٹھایا گیا… قرآن مقدس میں ارشاد ہوتا ہے:
"بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان، مہربان…”(١)
محبوب ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا گیا… فرماں برداری کا بھی حکم دیا گیا… فیصلوں کو دل و جان سے تسلیم کر لینے کی تلقین کی گئی:” تو اے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرما دو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں…” (٢)
آج جب کہ ہر طرف توہینِ رسالت کا بازار گرم ہے… بے ادبی و گستاخی کی گدلی فضا چھاتی جا رہی ہے…. مشرکین کی سازشیں بپا ہیں… نفرتوں کی مہیب راتیں وارِد ہیں… ضرورت اِس بات کی ہے کہ بارگاہِ رسالت ﷺ سے رشتے مستحکم کیے جائیں… مطالعۂ سیرت کو معمول بنایا جائے… نقوشِ سیرت سے گلشنِ حیات کو مہکایا جائے… اِس باب میں عرب مصنف شیخ حسن بن عبید باحبیشی (جدہ، سعودی عرب) نے ایک ایمان افروز کتاب ’’یارسول اللّٰہ! لماذا أحبک ولماذا أصلي علیک؟‘‘ تصنیف کی- جس کا اردو ترجمہ مولانا افروز قادری چریا کوٹی نے ’’یارسول اللہ ﷺ آپ سے محبت اور آپ پر درود کیوں؟‘‘ کے نام سے کیا… مولانا افروز قادری کے بقول:
"سعودیہ عربیہ کی سرزمین سے ’’یارسول اللّٰہ! لماذا أحبک ولماذا أصلی علیک‘‘کے عنوان سے شائع ہونے والی اس کتاب کو پڑھ کر ایک حیرت انگیز خوشی کا اِحساس اُبھرتا ہے۔ ماضی قریب میں شیخ محمد بن علوی مالکی اور شیخ عبدہٗ یمانی-علیہما الرحمہ- کے بعد اُس سرزمین سے ایسی ایمان افروز، روح پرور، عشق بداماں اور محبت نواز کتاب پہلی بار دیکھنے کو ملی ہے۔ اِس لیے حلقہ اہلِ علم میں اِس کی پذیرائی ہونی چاہیے…”(٣)
یہ کتاب نوری مشن/اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر مالیگاؤں سے اسی ماہ شائع ہوئی ہے… اس کتاب کا مطالعہ ایمان افروز بھی ہے اور ہر بندۂ مومن کے لیے ضروری و افادہ بخش بھی… جس سے چند نکات یہاں ذکر کیے جاتے ہیں:

[۱] سرکارِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فضل وکمال کی جملہ خوبیوں سے مالامال تھے؛ اللہ نے انھیں شرفِ محبوبیت عطا فرمایا؛ تو حبِ الٰہی بھی اُن کے ہمرکاب ہوگئی، اور اِن کی محبت اُس کی محبت قرار پائی۔ اِن سب کے باوصف آپ اللہ کے شکرگزار بندے تھے؛ اور یہی وہ راستہ ہے جس پر ہر مسلمان کو جادہ پیما ہونے کی سعی کرنی چاہیے۔
بحیثیت مسلم ہمیں بھی اللہ ربُّ العزت کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ اس نے ہمیں اُمتِ محمدیہ کے اَفراد میں سے کیا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بہترین اُمت کے لیے کتنے بہترین رسول کا اِنتخاب فرمایا۔ لہٰذا اُن پر ایمان لانا، اُن سے سچی محبت کرنا، اُن کی سجھائی ہوئی راہ کی پیروی کرنا اور اُن کی سنتوں کی اتباع ہم پر واجب قرار پاتی ہے-(٤)
[۲] جہاں تک رہی بات نداے یارسول اللہ، اور آقاے کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکارنے کی، تو یہ اَصلاً محبت و نسبت، اور شوق وعقیدت کی کرشمہ گری ہوتی ہے کہ اُن کا ہر چاہنے والا اور ان کی ہرہر اَدا پر جان چھڑکنے والا انھیں پکار کر تسکین قلبِ حزیں کا سامان کرتاہے۔ اور اس میں دراصل اُس اِحسانِ عظیم اورفضلِ عمیم کا شکر و سپاس بھی شامل ہوتا ہے جو عالم بشریت کو رحمۃ للعالمین کی شکل میں میسر آئی۔(٥)
[۳] یارسول اللہ! ہم آپ سے ٹوٹ کر محبت اس لیے کرتے ہیں تاکہ حتی المقدور آپ کی شخصیت طیبہ کو آپ کی حیات و ظروف کے حوالے سے سمجھ کر خود کو اس رنگ میں ڈھال سکیں؛ کیوں کہ آپ کائنات کی صرف ایک عبقری شخصیت یا بطل عظیم ہی نہیں؛ بلکہ آپ اللہ کے مقرب نبی اور اس کے برگزیدہ رسول ہیں۔(٦)
[٤] یارسول اللہ! ہمیں آپ سے محبت ہے؛ (اور اللہ ہمارے اس دعویٰ محبت کو سچ کر دکھائے) تاکہ آپ کے دستِ اَقدس سے کوثر کے میٹھے اور رُوح افزا جام بھربھر کر پئیں، اور اتنا پئیں کہ پھر کبھی پیاس کا اِحساس ہی نہ ہو۔ تاکہ آپ کے روے تاباں اورجبینِ درخشاں کی طرف دیکھتے رہنے کا شرف میسر آئے۔ تا کہ حضورِ الٰہ میں، رواں دواں نہروں اور مہکتے دَمکتے باغاتِ بریں کے آس پاس آپ کے پاکیزہ وخوش گوار پڑوس میں بیٹھنا نصیب ہو۔(٧)
[۵] "یارسول اللہﷺ ! ہم آپ پر درود کیوں بھیجتے ہیں” اس عنوان کے تحت ۵۰؍ وجوہ ذکر کی گئی ہیں؛ جن سے ایمان کی کھیتی ہری بھری ہو جاتی ہے… نسب مبارک کا بھی ذکر کر دیا گیا ہے… اس طرح سیرت کے کئی ابواب چمکتے دکھائی دیتے ہیں… حکم الٰہی بھی ہے: ’’بیشک اللہ اور ا س کے (سب) فرشتے نبی(مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم(بھی) ان پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔‘‘(٨)
[٦] سرکار اقدس ﷺ کے نقوشِ قدم کی پیروی پر بھی فکر انگیز نکات ذکر کیے ہیں… شیخ حسن بن عبید باحبیشی لکھتے ہیں: ’’ہر مسلمان کا یہ حق ہے بلکہ شرعاً اس پر واجب ہے کہ وہ (صرف خواص اہلِ اسلام کے ساتھ نہیں بلکہ) دیگر عام مسلمانوں کے ساتھ بھی حسن اَخلاق اور اَدب سے پیش آئے۔ اور اللہ تعالیٰ کاقرب اور اس کی رضا پانے کا یہ ایک بہترین اور اہم ذریعہ ہے۔ پھر ذرا آپ غورکریں اور سوچیں کہ اگر ہمارا یہ معاملہ سیدالمسلمین، امام المرسلین اور محبوب ربُّ العالمین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے ساتھ ہو تووہ بھلاکیسا اعلیٰ اور امتیازی ہونا چاہیے!‘‘(٩)
[۷] "اے جانِ کائناتﷺ! ہمارے بھی خواب میں” اس عنوان کے تحت خواب میں سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کے بیس طریقے ذکر کیے ہیں… چند دُعائیہ صیغے آپ بھی وِرد کریں اور تقدیر چمکائیں:

  • اے مالک ومولا! تیرے پیارے محبوب علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ہمیں جو محبت ہے اس کے طفیل ہم کو اُن کے روے اَنور کی زیارت سے مشرف فرما۔
  • اے پروردگار! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہمیں جو عشق ہے اس کے وسیلے سے ہم تجھ سے دُعا کرتے ہیں کہ ہمارے، ہمارے والدین کے، اور جملہ مسلمانوں کے گناہوں کو معاف فرما دے، اور ان پر اپنی رحمتوں کی بارش فرما۔
  • بارِ الٰہا! رحمت کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہماری جو محبت ہے اس کی لاج رکھ لے، اور اس کے صدقے میں بہشتِ بریں میں ہمیں ان کا پڑوس نصیب فرما۔
  • اے خداوند ِکریم! فخر آدم و بنی آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ہمیں جو قلبی لگاؤ ہے اس کے صلے میں ہمیں توفیق دے کہ تیرے پیارے محبوب کے ہاتھوں کوثر کے محبت بھرے جام بھر بھر کر پئیں اور اتنا پئیں کہ پھر کبھی پیاس کا اِحساس ہی نہ ہو۔(١٠)
    محبت رسول کریم، تعظیم و تکریم، تازگی ایمان کے پیغام کی تجدید کی غرض سے کتاب ’’یارسول اللہ ﷺ آپ سے محبت اور آپ پر درود کیوں؟‘‘ کا مطالعہ بڑی اہمیت کا حامل ہے… اللہ تعالیٰ ہمیں ناموسِ رسالت ﷺ کے لیے سنجیدگی سے سوچنے کی توفیق بخشے… ہمیں ابوابِ سیرت سے کئی گل و لالہ اپنے معاشرتی گلشن میں آویزاں کرنے کا ذوقِ فراواں بخشے… آمین بجاہ حبیبہٖ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

حوالہ جات:
(١) سورۂ توبہ: ۹؍۱۲۸/کنزالایمان
(٢) سورۂ نساء: ۴؍٦٥
(٣) یارسول اللہ ﷺ آپ سے محبت اور آپ پر درود کیوں؟، مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں ص۸
(٤) مرجع سابق ص۲۰
(٥) مرجع سابق ص۳۹
(٦) مرجع سابق ص۴۷
(٧) مرجع سابق ص۴۷
(٨) سورۂ احزاب:۳۳؍۵۶
(٩) یارسول اللہ ﷺ آپ سے محبت اور آپ پر درود کیوں؟، مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں ص٦١
(١٠) مرجع سابق ص٦٨

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے