نظم

نظم: حافظِ قرآں

ازقلم: سلمان رضا فریدی صدیقی مصباحی، بارہ بنکوی، مسقط عمان

اسلام کے خورشیدِ مُبیں ، حافظِ قرآں
اعزازِ فلک ، شانِ زمیں حافظِ قرآں

سینےمیں ہےقرآن کی دولت کا خزانہ
ہیں رب کی امانت کےامیں حافظ قرآں

انکے لیے دارین میں ہے تاجِ کرامت
ہیں قصرِ فضیلت کے مکیں حافظ قرآں

قرآں کا جمال ایسا ہے کردار کے اندر
ہیں سارے حسینوں سے حسیں حافظ قرآں

محشر میں عطاہوگا انھیں اذنِ شفاعت
امت کے مددگار و معیں ، حافظ قرآں

آج انکی بڑائ ، کوئ سمجھے کہ نہ سمجھے
کل ہونگے یہی، تخت نشیں حافظ قرآں

یکتاے زمن ، انکے کمالوں کا چمن ہے
رکھتے ہیں گُلِ صدق ویقیں حافظ قرآں

معمولی غذا ، ٹوٹی چٹائ پہ گذارہ
پھربھی نہ ہوئے”چِیں بہ جبیں” حافظ قرآں

تب جا کے کہیں "لقمۂ تر” انکو ملا ہے
یہ کھا کے بنے "نانِ جَوِیں” حافظ قرآں

قرآن کا یہ حفظ ،، کرامت سے نہیں کم
خم آپ کے در پر ہے جبیں ، حافظ قرآں

ہرحال میں جینے کا ہنر آتا ہے ان کو
مایوس کبھی ہوتے نہیں ، حافظ قرآں

اسلام کی خدمت میں، اٹل انکے ارادے
رکھتے ہیں عجب "عزمِ متیں” حافظِ قرآں

بیمارکو ملتی ہے شفا ان کی دعا سے
ہیں باعثِ تسکینِ حزیں ، حافظِ قرآں

ہم سب پہ یقینًا بڑا احسان ہے ان کا
ہیں رہبر حق ،محسنِ دیں حافظ قرآں

اللہ کی رحمت کے اترتے ہیں خزانے
ہوتے ہیں جہاں جلوہ نشیں حافظ قرآں

خدماتِ مدارس پہ فدا ہیں دل مومن
صدآفریں ، بنتے ہیں یہیں حافظِ قرآں

اُس شخص سےاللہ بھی ہوجاتا ہے ناراض
جس سے ہوے ناراض کہیں، حافظ قرآں

تاحشر، وجود ان کا چمکتا ہی رہے گا
ہیں خاتَمِ ملت کےنگیں، حافظ قرآں

سَر انکی عقیدت میں جھکا، توبھی فریدی
لے جائیں گے فردوسِ بریں حافظ قرآں


نانِ جَوِیں: جوکی روٹی، مجازا روکھی سوکھی

چِیں بَجَبِیں: ماتھے پرشکن پڑنا، شکوہ شکایت