مذہبی مضامین

منافق کی مذمت

ازقلم: محمد شاہنواز اشرفی میرانی
(درجہ عالمیت) متعلم جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔۔

اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان عالیشان ہے,,گناہ کرنے میں تم منافقوں کی طرح نہ بن جاؤ جنہوں نے اللّٰہ کے احکامات کو چھوڑ دیا اور اس کے خلاف چلنے لگے ۔شہوات دنیا سے لطف اندوز ہونے لگے اور فریب کاری کی طرف مائل ہو گئے ،،
رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے مومن اور منافق کے متعلق پوچھا گیا۔توآپ نےفرمایا ,,مومن کی ہمت نماز اور روزے کی طرف رہتی ہے اور منافق کی ہمت جانوروں کی طرح کھانے پینے کی طرف رہتی ہے اور وہ نماز اور روزے کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتا مومن اللّٰہ کی راہ میں خرچ کرنے اور بخشش طلب کرنے میں مشغول رہتا ہے جبکہ منافق حرص وہوس میں مصروف رہتا ہے مومن اللّٰہ تعالیٰ کے سِوا کسی سے امید نہیں لگاتا اور منافق اللّٰہ تعالیٰ کے سِوا تمام مخلوق کی طرف رجوع ہوتا ہے مومن دین کو مال سے مقدم سمجھتا ہے اور منافق مال کو دین پر ترجیح دیتا ہے مومن اللّٰہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا اور منافق اللّٰہ کے سوا ہر چیز سے ڈرتا ہے مومن نیکی کرتا ہے اور اللّٰہ کی بارگاہ میں روتا رہتا ہے منافق گناہ کرتا اور خوش ہوتا ہے مومن خلوت و تنہائی کو پسند کرتا ہے منافق بھیڑ بھاڑ اور میل جول کو پسند کرتا ہے مومن بوتا ہے اور فصل کی بربادی سے ڈرتا رہتا ہے اور منافق فصل اجاڑ دینے کے بعد کاٹنے کی تمنا رکھتا ہے مومن دین کی تدبیر کے ساتھ اچھائیوں کا حکم دیتا ہے برائیوں سے روکتا اور اصلاح کرتا ہے منافق اپنی ہیبت اور سطوت کے لئے فتنہ و فساد برپا کرتا ہے اور نیکیوں سے روکتا اور برائیوں کا حکم دیتا ہے،،

اللّٰہ تعالیٰ کاارشاد ہے : منافق مرد اور عورتیں ایک دوسرے میں سے ہیں نیکی سے روکتے اور برائیوں کا حکم دیتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کو بند کرتے ہیں انہوں نے اللّٰہ کو بھلا دیا بلاشبہ منافق فاسق ہیں اللّٰہ تعالیٰ نے منافق مرد اور منافق عورتوں کے لئے اور کفار کے لئے جہنم کی آگ کا وعدہ کیا ہے یہ انہیں کافی ہے اور اللّٰہ نے ان پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے ہمیشہ کا عذاب ہے،،

پروردگار عالم نےایک اور جگہ ان کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے : بیشک اللّٰہ تعالیٰ تمام منافقوں اور کافروں کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے، یعنی اگر وہ اپنے کفر اور نفاق پر مرجائیں۔

اللہ تعالیٰ نے اس میں ابتداءً منافقوں کا ذکر کیا ہے اس لئے کہ کفار سے بھی زیادہ بدبخت ہوتے ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ نے ان سب کا ٹھکانہ جہنم قرار دیا ہے۔

فرمان باری تعالیٰ ہے” بیشک منافق جہنم کے سب سے نچلے طبقےمیں ہیں اور آپ کسی کو ان کا مددگار نہیں پائیں گے ۔

لفظ منافق لغت میں نافق الیربوع سے مشتق ہے کہتے ہیں کہ جنگلی چوہے ( یربوع) کے بل کے دو سوراخ ہوتے ہے ۔ ایک داخل ہونے کے لئے اور دوسرا سوراخ نکلنے کے لئے ہوتا ہے ایک سوراخ سے ظاہر ہوتا ہے اور دوسرے سے بھاگ جاتا ہے،منافق کو بھی اس لئے منافق کہتے ہیں کہ وہ بظاہر تو مسلمانوں کی شکل میں ہوتا ہے مگر کفر کی طرف نکل جاتا ہے۔

حدیث شریف میں ہے: منافق کی مثال ایسی نووارد بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان ہو،کھبی وہ اس ریوڑ کی طرف بھاگتی ہے اور کبھی اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے یعنی کسی ایک ریوڑ میں نہیں ٹھہرتی، اسی طرح منافق بھی نہ تو کلیتہً مسلمانوں میں شامل ہوتا ہے اور نہ ہی کافروں میں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے