یہ زباں کسی نے خرید لی، یہ قلم کسی کا غلام ہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

پوری دنیا کو اپنی ہلاکتوں اور تباہیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے والے کورونا وائرس نے جب اپنے ناپاک ارادوں کے ساتھ اس گنگا، جمنی تہذیب والے ہندوستان کی سرزمین پر اپنا قدم رکھا تو اسے کڑے مقابلوں کا سامنا کرنا پڑا، وہ یک بارگی اپنے قدم جمانے میں کامیاب نہ ہوسکا؛ کیوں کہ اس کے سامنے ہندوستانی چمن کے سبھی پھول یک جہتی کے ساتھ اس کے سامنے سینہ بسپر ہوکر کھڑے ہوگئے اور ہندوستان کی اس اتحادانہ جنگ کے سامنے کورونا کی تباہ کاریاں دیگر ممالک کے بالمقابل پھیکی، پھیکی سی نظر آئیں۔ مگر بدقسمتی سے اس اتحاد بھری جنگ کو میڈیا کی نظر بد لگ گئی، جسے جمہوریت کا چوتھا ستون کہا تو جاتا ہے مگر ٹی۔آر۔پی۔ کے لیے وہ کب کس خبر کو توڑ مروڑ کر ذائقہ دار بنادیں یہ کوئی نہیں جانتا۔ جب ان زرخرید میڈیا نے کورونا کے مقبلے میں سبھی مذاہب کے پیروکاروں اور سبھی طبقہ کے لوگوں کو ایک ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرتے دیکھا تو انھیں بے چینی ہونے لگی، ان کے پیٹوں میں مروڑ ہونے لگا؛ کیوں کہ صحیح خبروں کو دکھانے سے، اور سادے طریقے سے خبریں چلانے سے انھیں وہ ٹی۔آر۔پی۔ نہیں مل پاتی جو انھیں مسجد-مندر، ہندو-مسلم ڈیبیٹ کراکے ملتی تھی۔ اس بے چینی کے عالم میں جب کہ وہ کسی ہندو-مسلم معاملہ کی تلاش میں سرگرداں تھے ان کی متعصبانہ نظریں تبلیغیوں کے مرکز پر پڑگئی جہاں تقریبا ہزار لوگ لاک ڈاؤن اور کرفیو کی وجہ سے پھنس گئے تھے۔ پھر کیا تھا انھوں نے اس خبر کو خوب توڑ مروڑ کر غلط طریقے سے پھیلایا، بلکہ اسے "کورونا جہاد” کا نام تک دے ڈالا، اب ہر صبح شام بس اسی پہ ڈیبیٹ ہونے لگا کہ مسلمان ہی کورونا کو پھیلا رہے ہیں، اور حد تو اس وقت ہوگئی جب یہ خبر بنانے کی کوشش ہونے لگی کہ یہ کا پاکستان کے اشاروں پر ہو رہا ہے۔ مگر بھلا ہو کچھ حق پسند اور غیر متعصب میڈیا والوں کا جنھوں نے پہلے ہی اس مذموم حرکت کا پردہ فاش کردیا ورنہ اس واقعے پاکستانی رنگ دیئے جانے کے بعد ملک میں دنگا، فساد ہونا لازمی تھا؛ کیوں کہ ملک کی بھولی، بھالی عوام ان کی بنی ہوئی جال میں پھنس کر وطن پرستی کے نام پر ایک دوسرے کی جان کے پیچھے پڑجاتے۔ جس طرح اس وقت وہ ان بکاؤ میڈیا کے جال میں پھنس کر مسلمانوں سے متنفر ہوگئے ہیں۔
تبلیغی جماعت کا یہ معاملہ جس میں ذمہ دار کون تھا ؛ مرکز کے افراد، ذمہ داران، انتظامیہ یا پھر حکومت؟ یہ اپنی جگہ ہے۔ مگر اس معاملے کو لے کر جس طرح بعض زرخرید میڈیا نے معاشرے میں زہر افشانی کی اس کا اثر اگرچہ گنگا،جمنی تہذیب ماننے والوں پر نہیں ہوا اور وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں؛ کہیں ہندو برادران نے مسلم طبقہ کے لوگوں کو کھانا کھلایا تو کہیں مسلم سماج نے ہندو بھائی کی میت کو کاندھا دے کر ان کا کریا کرم کیا۔ مگر ملک میں بڑی تیزی سے اپنے قدم جما رہی فرقہ پرست طاقتوں پر اس زہرافشانی کا اثر فورا ہوا اور خوب ہوا کہ انھوں نے مسلمانوں کو کورونا پھیلانے والا، کورونا جہادی کہہ کر نہ صرف بلانا شروع کردیا بلکہ ایک مسلم نوجوان کو موت کے گھاٹ ہی اتار دیا وہ بھی دارالحکومت دہلی میں۔ انھوں نے مسلمانوں سے اس قدر تعلقات منقطع کرنا شروع کردیا کہ انھیں اپنے محلے اور گاؤں میں آنے سے روک دیا، ان سے روزمرہ کے ضروری اشیاء تک خریدنا بند کردیا، حتی کہ ایک شرپسند نے ایک ٹھیلے والے کو اس کا نام پوچھ کر صرف اس لیے مارا کہ وہ مسلمان تھا۔ گویا کہ مسلمان کورونا کا دوسرا نام ہوگیا۔
بکاؤ میڈیا کے ذریعہ معاشرے میں پھلائے گئے اس نفرت بھری باتوں کو اگ حقیقت کے میزان میں تولا جائے اور وقت کو موازنہ کرنے کی اجازت نہ دیتے ہوئے بھی فقط سچائی سامنے لاکر اس معاشرہ اور ملک کو تباہ ہونے سے بچانے کے لئے موازنہ کیا جائے تو ملک میں دس ہزار سے زائد کورونا متأثرین میں فقط ڈیڑھ سو سے دو سو افراد ہی مسلمان ہیں۔ بقیہ جو بھی ہوں اس سے کوئی سروکار نہیں کیوں کہ ہمارے یہاں بیماری کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے مگر میڈیا نے جس طرح اس بیماری کو بھی مذہبی رنگ دے کر اپنی ٹی۔آر۔پی۔ کی روٹی سینکی ہے جس سے آج مسلم سماج پریشاں حال ہے لیکن کل ہورے ہندوستان کو اس کا خامیازہ بھگتنا پڑسکتا ہے۔
اگر چہ خبروں کی حقیقت سامنے آنے کے بعد میڈیا نے ایک دو خبروں کے متعلق ایک چھوٹے سے تحریری جملہ سے معافی مانگنے کی کوشش کی مگر بیچ چوراہے پر جوتے
مار کر گھر میں معافی مانگنے سے کیا فائدہ
؟ صبح وشام نفرت کا زہر گھول کر براے نام معافی مانگنے سے کیا معاشرہ میں پھیلائے گئے اس نفرت کو ختم کیا جاسکتا ہے؟
فی الواقع میڈیا جسے جمہوریت کی ایک مضبوط ترین ستون گردانا جاتا ہے، جس کی خبروں پر ہر ایک شخص آنکھ بند کر یقین کرتا ہے، جس کی خبروں سے ملک کو یک جہتی کی طاقت ملتی ہے، جسے حکومت اور رعایہ کے درمیان ایک سچا ترجمان ہونا چاہیئے اس کی یہ مذموم اور ناقابل برداشت حرکتیں ملک کو ناتواں، کمزور اور معاشرے کو فتنہ،فساد کی آموز گاہ بنا کر رکھ دیں گی۔ مگر کیا کیا جائے،،،
یہ زباں کسی نے خرید لی، یہ قلم کسی کا غلام ہے
الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About محمد شعیب رضا نظامی فیضی

عالمی شہرت یافتہ ویب پورٹل ہماری آواز کے بانی و ڈائریکٹر گورکھ پور(یو۔پی۔) کے قدیم ترین قصبہ گولابازار سے تعلق رکھنے والے جناب مولانا محمد شعیب رضا صاحب ہیں۔ جواں سال قلم کار اور درجن بھر کتابوں کے مصنف و مؤلف ہونے کے ساتھ ساتھ موصوف ایک کامیاب ویب ڈیزائنر بھی ہیں۔ ہماری آواز

Check Also

بھولنا بھی ضروری ہے جناب!!!

ازقلم: مفتی محمد شعیب رضا نظامی فیضیقاضی شہر گولا بازار ضلع گورکھ پور یو۔پی۔استاذومفتی: دارالعلوم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔