علما و مشائخ

عاشقِ رسول مولانا شاہ معین الدین آروی علیہ الرحمہ

از قلم : طفیل احمد مصباحی

شاعرِ با کمال ٬ واعظِ شیریں مقال ٬ ادیبِ عصر ٬ عاشقِ رسول مولانا شاہ معین الدین آروی علیہ الرحمہ ( وفات : ۱۳۳۸ ھ / ۱۹۱۹ ء ) کا شمار صوبۂ بہار کے جلیل القدر علما ٬ قادر الکلام شعرا اور مایۂ ناز ادبا میں ہوتا ہے ۔ آپ عالم و فاضل ٬ مفتی ٬ مدرس ٬ ادیب و شاعر ٬ نعت گو ٬ طبیب و حکیم ٬ خطّاط ٬ خوش بیان واعظ اور صاحبِ کرامت بزرگ تھے ۔ آپ جتنے بڑے عالم و فقیہ اور واعظ و خطیب تھے ٬ اس سے کہیں بڑے ادیب اور نعت گو شاعر تھے ۔ آپ کا تخلص معینؔ اور لقب ” عاشقِ رسول ” تھا ۔ آپ کی شاعرانہ اور ادیبانہ حیثیت پر اہلِ علم و ادب کا اتفاق ہے ۔ میلاد کی مشہور کتاب ” تحفۃ الرسول ” آپ کی شعری عظمت اور ادبی مہارت کی روشن دلیل ہے ۔ راقم الحروف کی نظر سے میلاد کی درجنوں کتابیں گذری ہیں ٬ لیکن جیسی ادبی چاشنی ٬ عشق و وارفتگی اور سوز و گداز اس کتاب میں ہے ٬ وہ کہیں اور نظر نہیں آتی ۔ راقم الحروف کے گاؤں ( سبحان پور کٹوریہ ٬ عمر پور ٬ ضلع بانکا ٬ بہار ) میں تقریباً ساٹھ ستّر سال سے میلاد کی محفلوں میں آپ کی یہ بلند پایہ میلادی کتاب ( تحفۃ الرسول ) بڑے ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہے ۔ مرد ٬ عورت ٬ بچے ٬ بوڑھے سب کی زبانوں پر اس کے خوب صورت اور دلنشیں اشعار ازبر ہیں ۔ سینکڑوں علما اور مفتیانِ کرام کے استاذ و مربی حضرت علامہ مفتی محمد ظل الرحمٰن رحمتؔ ضیائی علیہ الرحمہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ” تحفۃ الرسول ایک ایسی کتاب ہے جس کی زبان اردوئے معلیٰ کا نمونہ پیش کرتی ہے ” ۔ اسی طرح میرے والدِ گرامی حضرت مولانا حافظ و قاری محمد زین العابدین مرحوم ( جو ایک عظیم عالم و شاعر اور مصنف و ادیب تھے ) بھی اس کتاب کی ادبی اہمیت اور لسانی حسن کی تعریف کیا کرتے تھے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ کسی مذہبی اور میلادی کتاب میں ایسا ادبی رنگ اور لسانی چاشنی شاید ہی کہیں اور دیکھنے کو ملے ۔ ” تحفۃ الرسول ” پر تفصیلی روشنی ہم دوسرے مضمون میں ڈالیں گے ۔ ان شاء اللہ العزیز !

مختصر حالاتِ زندگی :

حضرت مولانا شاہ معین الدین آروی صوبۂ بہار کے ضلع آرہ ٬ محلہ میر گنج میں ۵ / صفر المظفر ۱۳۰۵ ھ / ۱۸۸۹ ء کو پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد قدوۃ المشائخ مولانا ڈپٹی شاہ مصلح الدین آروی صاحبِ فضل و کمال بزرگ تھے ۔ اسی طرح آپ کے دادا حضرت مولانا شاہ فرید الدین آروی اپنے وقت کے خدا رسیدہ بزرگ اور جلیل القدر صوفی تھے ۔ والد اور دادا کی آغوشِ شفقت میں تربیت پا کر شاہ معین الدین آروی اپنے وقت کے عظیم عالم اور صوفی بن کر نمو دار ہوئے ۔ اردو اور عربی و فارسی کی ابتدائی کتابیں ٬ خوش خطی اور طغریٰ کشی اپنے خاندان کے بزرگوں سے سیکھی ۔ اس کے بعد مدرسہ فیض الغرباء ٬ آرہ میں داخلہ لیا ۔ یہ تعلیمی ادارہ آپ کے دادا شاہ فرید الدین آروی کا قائم کردہ تھا ٬ جس میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے نامور خلیفہ علامہ رحیم بخش آروی اور وقت کے جید علما و مدرسین درس دیا کرتے تھے ۔ علامہ رحیم بخش آروی ٬ علامہ عبد الحق خیر آبادی ٬ مولانا حکیم عبد الوہاب آروی اور مولانا ماجد علی جون پوری سے مروجہ علوم و فنون کی کتابیں پڑھ کر فارغ التحصیل ہوئے ۔ مجددِ اسلام ٬ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے آپ کے سر پر دستارِ فضیلت باندھی ٬ جو بڑے شرف و اعزاز کی بات ہے ۔ درسِ نظامی کی تکمیل کے بعد مقامی اطبّا سے طب کی ابتدائی کتب کا درس لیا ۔ اس کے بعد دہلی تشریف لے گئے اور شفاء الملک حکیم رضی الدین خان کی خدمت میں دو سال رہ کر طب ( ڈاکٹری ) کی تکمیل کی اور وطن واپس ہوئے ۔ سلوک و تصوف کی کتابیں اپنے والد اور دادا سے پڑھیں اور ۱۳۲۴ ھ میں اپنے والد سے بیعت ہوئے اور انہیں سے اجازت و خلافت بھی حاصل کی ۔ ایک علمی و روحانی خاندان کے معزز فرد ہونے کے ناطے حضرت شاہ معین الدین آروی کو سلوک و تصوف ٬ دعوت و تبلیغ اور خدمتِ خلق سے بڑی گہری دلچسپی تھی ۔ پوری زندگی درس و تدریس ٬ فتویٰ نویسی اور وعظ و تبلیغ میں بسر کی ۔ آپ عظیم شاعر و ادیب ہونے کے ساتھ با صلاحیت مفتی ٬ مدرس اور صوفیِ کامل تھے ۔ آپ کے دادا ( جو شیخ المشائخ کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں ) نے آپ کو سر سے پاؤں تک تصوف کے رنگ میں رنگ دیا تھا ٬ یہی وجہ ہے کہ علم و ادب میں کامل و فائق ہونے کے ساتھ روحانیت میں بھی آپ کا مقام و مرتبہ بلند ہے ۔ ” تذکرۂ آبادانیہ ” میں لکھا ہے کہ :

آپ کا مذاق ( ذوق ) بچپن سے ہی تصوفانہ و عارفانہ تھا اور کیوں نہ ہوتا علما و مشائخ کا مقولہ ہے کہ ” الصحبة مؤثّرة ” اور صحبت بھی ایسے بزرگ کی جو اپنے زمانہ کے بایزیدؔ و شبلؔی تھے ٬ جن کے پاک نفس کی برکت اور توجہ سے سینکڑوں عارف بنے ۔ آپ کی تعلیم و تربیت حضرت سلطان المشائخ قدس سرہ ( آپ کے دادا شاہ فرید الدین آروی علیہ الرحمہ ) نے خصوصیت سے کی ۔ آپ حضرت کے چہیتے تھے ۔ بچپن سے تا وصال ان کی صحبت میں رہے …… فارسی عربی میں قابلیت حاصل کر کے انٹرنس تک پڑھا ۔ بہت خلیق ٬ کریم النفس ٬ با ذوق و صاحبِ حال ہیں ۔ آپ کا وعظ نہایت پُر تاثیر اور خوش الحانی کا ہوتا ہے ۔ شاعری بھی آپ پر ختم ہے ۔ شادی آپ کی مولوی عبد اللطیف صاحب ماسٹر انجینئرنگ کالج بانکپور کی صاحبزادی سے ہوئی جو باشندہ موضع پرسا ٬ ضلع غازی پور کے ہیں ۔ ( دہلی سے تکمیلِ طب کر کے ) آرہ شریف آنے کے بعد درس و تدریس ٬ فتویٰ نویسی اور خدمتِ خلق میں مشغول ہوئے ۔ کئی سال کے بعد احباب کے اصرار پر مدرسہ اہل سنت فیض رسول ٬ آسنسول کی صد مدرسی قبول فرمائی ۔ چند ماہ بعد آسنسول کو خیر باد کہہ کر وطن آئے اور خدمتِ خلق میں مشغول ہوئے ۔ اہل ہنود میں تبلیغ کے لیے انگریزی تعلیم کا ذوق ہوا ۔ انٹرنس پاس کیا ۔ ابھی اور تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے کہ برزخ کی منزل پر پہنچے ۔ آپ کو طالب علمی کے زمانہ سے وعظ گوئی و تقریر کا شوق تھا ۔ آپ تقریر خوب کرتے تھے ۔ آپ کو مسجّع و مقفّیٰ عبارت بولنے میں کمال حاصل تھا ۔ تذکرۃ السعدین میں لکھا ہے کہ آپ کا اسلوبِ بیان اس انداز کا ہوتا کہ سارے مجمع پر چھا جاتے ۔ ( تذکرۂ آبادانیہ ٬ ص : 223 ٬ ناشر : خانقاہ قادریہ آبادانیہ فریدیہ ٬ بدایوں )

فضل و کمال :

حضرت مولانا شاہ معین الدین آروی بہت ساری خوبیوں کے مالک تھے ۔ مروجہ علوم و فنون میں مہارت رکھتے تھے ۔ مجددِ اسلام ٬ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ – جو آپ کے جلسۂ دستار بندی کے موقع پر آرہ تشریف لائے تھے اور آپ کی دستار بندی کی تھی – نے آپ کے علم و فضل کی تعریف کی ہے ٬ جیسا کہ تذکرۂ آبادانیہ میں مرقوم ہے ۔ شاہ معین الدین صاحب نے بہت کم عمر پائی اور صرف ۳۲ / سال کی عمر میں انتقال کر گئے ٬ لیکن اس قلیل عمر میں بھی بڑے بڑے کام کر گئے ۔ بالعموم ۳۰ / ۴۰ سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد ہی انسان کی فکر اور شعور پختہ ہوتا ہے اور اس کا شعری و ادبی جوہر کھل کر سامنے آتا ہے ٬ لیکن شاہ معین الدین آروی نے ۲۰ / ۲۵ / سال کی عمر ہی میں اپنی علمی اور ادبی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا تھا اور اپنی شاعرانہ عظمت کا قصیدہ پڑھنے پر لوگوں کو مجبور کر دیا تھا ۔ جیّد عالمِ دین ٬ قادر الکلام خطیب و واعظ اور ایک عظیم نعت گو شاعر کی حیثیت سے آپ کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا ۔ آپ کی نعتیہ شاعری اور بلند پایہ نثر نگاری پر اردوئے معلیٰ بھی ناز کرتی ہے ۔ آپ کی قوتِ خطابت ٬ زورِ بیان اور شاعرانہ عظمت کا عوام و خواص نے اعتراف کیا ہے ۔ بیسویں صدی کے نصفِ اول میں خانوادۂ اشرفیہ ٬ کچھوچھہ مقدسہ کے نامور عالمِ دین سلطان الواعظین حضرت علامہ محمد احمد اشرف اشرفی الجیلانی اور حضرت مولانا شاہ محمد سلیمان قادری پھلواروی کی خطابت کا پورے ملک میں شہرہ تھا ٬ ان دونوں جلیل القدر خطبا نے بھی شاہ معین الدین آروی کی شانِ خطابت اور تقریری صلاحیتوں کا بارہا اعتراف کیا ہے ۔ شہزادۂ اعلیٰ حضرت ٬ مفتیِ اعظم ہند حضرت علامہ مصطفیٰ رضا خان بریلوی سے آپ کے گہرے دوستانہ تعلقات تھے ۔ ” تذکرۂ آبادانیہ ” میں لکھا ہے کہ آپ کی دستار بندی مدرسہ فیض الغرباء ٬ آرہ کے سالانہ جلسہ میں اعلیٰ حضرت امامِ اہل سنت مولانا احمد رضا خاں قادری فاضل بریلوی نے کی ۔ اس جلسہ میں اعلی حضرت کے ساتھ مفتیِ اعظم ہند بھی تشریف لے گئے تھے ۔ اعلیٰ حضرت نے آپ کے علم کی تعریف کی ۔ مفتیِ اعظم ہند آپ کی تقریر سے کافی متاثر ہوئے ۔ مفتیِ اعظم ہند اور آپ میں دوستانہ مراسم تھے ۔ رخصت کے وقت آپ نے مفتیِ اعظم کو چند طغرے دیے جو فنّ خطاطی و طغریٰ کشی کا بہترین نمونہ تھے ۔ عین جوانی کے عالم میں آپ کے انتقال سے مفتیِ اعظم ہند بہت افسردہ ہوئے ۔ تذکرہ صوفیائے بہار کے مصنف ڈاکٹر محمد حفظ الرحمٰن آپ کے محاسن و کمالات اور احوالِ زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں :

عاشقِ رسول شاہ معین الدین آروی رحمۃ اللہ علیہ عالمِ باعمل ، فقیہ العصر ، کامیاب مقرر ، حکیمِ حاذق ، واعظِ خوش بیان ، عارفِ کامل و صاحبِ کشف و کرامت بزرگ ہوئے ہیں ……….. آپ کو طالب علمی کے زمانہ سے وعظ گوئی و تقریر کا شوق تھا ۔ آپ تقریر خوب کرتے تھے ۔ تذکرۃ السعدین میں لکھا ہے کہ آپ کا اسلوبِ بیان اس انداز اور دلچسپی کا ہوتا کہ سارے مجمع پر چھا جاتے تھے ۔ درمیان میں مثنوی شریف کی چاشنی بھی ہوتی تھی ۔ میلاد شریف پڑھنے کو کھڑے ہوتے تو مثلِ بلبل کے چہکتے اور شاخِ گل کی طرح لچکتے ٬ خود بھی روتے اور دوسروں کو بھی رلاتے تھے ۔ مولانا محمد سلیمان پھلواروی و حضرت احمد اشرف صاحب کچھوچھوی ( شہزادۂ حضور اشرفی میاں کچھوچھوی ) نے بارہا آپ کے اندازِ بیان کی تعریف کی ۔ آپ خوش کلام شاعر تھے ۔ معینؔ آپ کا تخلص تھا ۔ آپ کا نعتیہ کلام عشق رسول میں ڈوبا ہوا ہوتا تھا ، جس کا نمونہ ” تحفۃ الرسول ” ہے ۔ اس کا تاریخی نام ” معین الاذکار للمیلاد النبوی ” ہے ۔ عاشق رسول آپ کا لقب ہے ۔ آپ کا وصال کم عمر یعنی ۳۲ / سال کی عمر ۱۳۳۸ ھ میں ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کم عمر میں آپ کو بہت سی نعمتیں عطا کی تھیں ۔ بچپن میں آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت نصیب ہوئی ٬ جس کی طرف اشارہ آپ نے اس شعر میں کیا ہے :

مر کر بھی یہ مستی نہ معینؔ جائے گی سر سے
بچپن سے ہے دل مست تولّائے محمد ﷺ

وصالِ پُر ملال : ۱۱ / جمادیٰ الاولیٰ ۱۳۳۸ ھ بروز ہفتہ تین ماہ دس دن بیمار رہ کر صرف ۳۲ / سال کی ننھی عمر میں اپنے والد کی حیات میں رحلت فرمائی ۔ ” وارثِ دینِ رسولِ دو سرا ” سے آپ کی تاریخِ وصال ( ۱۳۳۸ ھ ) برآمد ہوتی ہے ۔ وصال کے وقت زبان پر ذکرِ الہٰی جاری تھا ۔ زندوں کی طرح بعد وفات بھی جسم میں حرارت اور تازگی تھی ۔ حکیم ضمیر الحسن صاحب نبض پر ہاتھ رکھ کر حیرت کرنے لگے ۔ نماز جنازہ آپ کے استاذ حضرت مولانا رحیم بخش آروی ( خلیفۂ امام احمد رضا بریلوی ) نے پڑھائی ۔ محلہ بھلوئی پور ٬ آرہ ( بہار ) میں دفن کئے گئے ۔ یہ جگہ درگاہ مولانا معین الدین آروی کہلاتی ہے ۔ مزار شریف پر کتبہ لگا ہوا ہے ٬ جس پر حضرت انجم صاحب کا قطعۂ تاریخِ وصال کندہ ہے ۔ آپ کا عرس قصبہ راٹن مہیش کھوٹ اسٹیشن ضلع کھگڑیا میں پابندی سے ہوتا ہے ۔ آپ کی کوئی اولاد نہ تھی ٬ اس لیے آپ کی نسل آگے نہ چل سکی ۔ آپ کے مریدین کی اچھی خاصی تعداد تھی ۔ آپ نے کسی کو اپنا خلیفہ بھی نہیں بنایا ۔

قطعۂ تاریخِ وصال از : حضرت مولانا مفتی شاه محمد ابراہیم فریدی رحمۃ اللہ علیہ

قطبِ دیں شاہ معین الدین نام
شیخِ دوراں ٬ عارفِ مردِ خدا

افضل الاشغال شغلش کارِ طب
بر مریضاں دستِ او دستِ شفا

بود مرشد زاده لیکن یافتیم
حاضر و غائب ہمہ لطف و عطا

با خدا پیوست و خود را و گذاشت
قصرِ جنت بہرِ او شد مُتّکا

گفت ابراہیمؔ سالِ رحلتش
وارثِ دینِ رسولِ دو سرا ۱۳۳۸ ھ

( تذکرۂ آبادانیہ ٬ ص : 225 )

تازہ ترین مضامین اور خبروں کے لیے ہمارا وہاٹس ایپ گروپ جوائن کریں!

آسان ہندی زبان میں اسلامی، اصلاحی، ادبی، فکری اور حالات حاضرہ پر بہترین مضامین سے مزین سہ ماہی میگزین نور حق گھر بیٹھے منگوا کر پڑھیں!

ہماری آواز
ہماری آواز؛ قومی، ملی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین کا حسین سنگم ہیں۔ جہاں آپ مختلف موضوعات پر ماہر قلم کاروں کے مضامین و مقالات اور ادبی و شعری تخلیقات پڑھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اگر آپ اپنا مضمون پبلش کروانا چاہتے ہیں تو بھی بلا تامل ہمیں وہاٹس ایپ 6388037123 یا ای میل hamariaawazurdu@gmail.com کرسکتے ہیں۔ شکریہ
http://Hamariaawazurdu@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے