ہے بہت اونچی فضلیت اعلیٰ حضرت آپ کی
سارے عالم میں ہے شہرت اعلیٰ حضرت آپ کی
دور حاضر میں ہیں علما اور مشائخ تو بہت
ہے مگر پھر بھی ضرورت اعلیٰ حضرت آپ کی
وہ بھٹک سکتا نہیں راہ ہدایت سے کبھی
جس کے دل میں ہے محبت اعلیٰ حضرت آپ کی
دولتِ مکیّہ لکھی چند ہی لمحات میں
واہ وا کیا ہے ذہانت اعلیٰ حضرت آپ کی
عاشقِ محبوب داور کے خیال و فکر پر
خوب چلتی ہے حکومت اعلیٰ حضرت آپ کی
روۓ دیں ایسا نکھارا آپ کے کردار نے
بھاگئی ہر اک کو ندرت اعلیٰ حضرت آپ کی
سر نگوں ہوجائیں کیسے باطلوں کے سامنے
جن پہ ہے چشمِ ہدایت اعلیٰ حضرت آپ کی
دور منزل ہے مری اور حاسدیں ہیں راہ میں
چاہیے مجھ کو قیادت اعلیٰ حضرت آپ کی
عقل اور بینائی میری نور سے معمور ہو
چاہیے عرفانی طلعت اعلیٰ حضرت آپ کی
مفتی اعظم دیے حامد رضا امجد علی
واہ وا کیا ہے عنایت اعلیٰ حضرت آپ کی
دیکھتے ہی بول اٹھا دل اپنے یہ الفاظ میں
ہے بہت پر نور تربت اعلیٰ حضرت آپ کی
آپ کی کہتی ہے تفسیر و فقہ علم کلام
ہے کرامت پر کرامت اعلیٰ حضرت آپ کی
شعر گوئی کا نہیں مجھ میں حسیں انداز ہے
کیسے پھر ہو پائے مدحت اعلیٰ حضرت آپ کی
اعلیٰ حضرت اعلیٰ حضرت اعلیٰ حضرت بس لکھوں
لکھ نہیں سکتا فضیلت اعلیٰ حضرت آپ کی
ہے مقدر کا دھنی خورشید انؔور امجدی
ہوگئی حاصل جو نسبت اعلیٰ حضرت آپ کی
فقیر صابری
محمد خورشید انؔور امجدی