سیاست و حالات حاضرہ

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

تحریر: شمیم رضا اویسی امجدی، مدینۃ العلماء گھوسی مئو

نئے زرعی قانون بل کی مخالفت میں دہلی کے اندر ہو رہے تاریخی احتجاج میں کل 26 جنوری کے دن کی ایک چونکا دینے والی تصویر سامنے آئی، جسمیں کچھ افراد لال قلعے کی فصیل پر چڑھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور انمیں سے ایک شخص وہاں پیلے رنگ کا ایک پرچم لہراتا ہے جہاں ہر سال یومِ آزادی اور یومِ جمہوریہ کے موقعہ پر روایتی طور پر ملک کا پرچم لہرایا جاتا ہے، اس پیلے رنگ کے جھنڈے کا نام نشان صاحب ہے جو سکھ مذہب کا مقدس اور مذہبی پرچم سمجھا جاتا ہے اور یہ وہ جھنڈا ہے جسے ہندوستان اور پاکستان جیسے ملکوں میں گردواروں پر بھی دیکھا جاتا ہے،

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو تحریک مذہب و ملت سے پَرے محض کسانوں کے نام پر چلائی گئی تھی لال قلعے کی فصیل تک پہونچتے پہونچتے اچانک اس نے مذہبی روپ کیسے اختیار کر لیا؟ کیا یہ ان لوگوں کی نظروں میں ترنگے کی عزت کے ساتھ کھلواڑ اور مذہبی شدت پسندی نہیں جو ہر وقت دیش بھکتی کی دہائی دیتے ہوئے نظر آتے ہیں،؟

ہمیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ مذکورہ جگہ مذہبی پرچم کیوں لہرایا گیا اور لہرانے والا کون تھا ( جیسا کہ بعض انکشافات اس بات کی طرف مشیر ہیں مذکورہ شخص پکا بھاجپائی تھا جسے بی جے پی کے نیتاؤں کے ساتھ کئی بار ریلیوں میں بھی دیکھا گیا ہے)
بہر کیف ہمیں شکوہ محض اس بات کا ہیکہ اگر یہ تصویر خاص مسلمانوں کی کسی تحریک یا شاہین باغ کی ہوتی تو اب تک ملک کے بیشتر چینلوں پر تیسری جنگ عظیم چھڑ گئی ہوتی اور مسلمانوں کو دیش کا غدار ثابت کرنے کی ہر سعی لاحاصل کی جا چکی ہوتی،
گزشتہ کئی سالوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ مسلمان جب بھی کبھی اپنے حق کی حمایت میں آواز بلند کرتے ہیں تو اس وقت ہندوتوا شدت پسند تنظیمیں بشمول بھاجپا کا آئی ٹی سیل کوئی نہ کوئی بے بنیاد، جھوٹے اور شرمناک الزامات لے کر سینہ سپر ہو جاتا ہے اور احتجاج کرنے والوں کو دہشت گرد گرداننے لگتا ہے، ماضی قریب میں اسکی ایک ہلکی سی جھلک جے این یو، جامعہ اور علیگڑھ میں دیکھنے کو ملتی ہے، جہاں احتجاجیوں پر دہشت گردی کا الزام لگاتے ہوئے پولیس اور بھگوا آتنک وادیوں نے خون کی ہولی کھیلی، جبکہ سپریم کورٹ کا اس بات پر فیصلہ موجود ہے کہ کوئی بھی حرکت یا تنقید حکومت یا نظام کے خلاف ہو تو اسے دیش کے ساتھ غداری نہیں کہا جا سکتا، لیکن مسلمانوں کے تئیں اسطرح کی دوغلی پالیسی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ حکومت کو اگر کسی کا سب سے زیادہ ڈر اور خوف ہے تو وہ مسلمان ہیں اسی لیئے جب بھی کبھی مسلمان ملک کے اندر پُر اَمن احتجاج یا مظاہرے کی مہم چھیڑتے ہیں تو حکومت بھگوا آتنک وادیوں کا سہارا لیکر تحریک کو تشدد کا رنگ دینا چاہتی ہے، لہٰذا ضرورت ہے کہ ہم ایسے لوگوں پر نظر رکھتے ہوئے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button