تعلیم

ہر شخص مطالعہ کیوں نہیں کر پاتا؟

ازقلم: ابو المتبسِّم ایازاحمد عطاری، پاکستان

ہر چیز پایہ تکمیل تک اپنے اسباب کے ساتھ پہنچتی ہے۔ جیسے کسی نے کسی کی دعوت کی تو یہ دعوت مکمل اس وقت کہلائے گی جب میزبان دعوت کے اسباب کو مکمل کرے گا۔ اگر مکمل نہ کرے گا تو مہمان کہے گا کہ یہ کونسی دعوت ہے ؟

اسی طرح تحریر کے اسباب میں سے ایک سبب مشاہدہ بھی ہے۔ اور پھر مشاہدے کو لفظوں میں بیان کر کے آگے پہنچانا بھی ایک ملکہ ہے۔لیکن افسوس سے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس دور میں مشاہدہ کرنا کسی حد تک نظر نہیں آرہا ، اور مشاہدے کو لفظوں میں بیان کرنا تو کُوسُوں دور تک نظر نہیں آرہا۔

اور تحریرات کے اسباب میں سے ایک سبب مطالعہ بھی ہے۔ تحریر کیلئے مطالعہ بے حد ضروری ہے۔ ہر شخص اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ مطالعے کے بہت فوائد ہیں۔ لیکن ایک طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر شخص مطالعہ کر بھی نہیں پاتا۔ اور دور حاضر میں مطالعہ نہ کرنے کی شکایت بھی عام ہے۔

اب میں آپ کو 22 ایسے اسباب بتاتا ہوں جن کی وجہ سے مطالعہ نہیں ہو سکتا۔ اور وہ اسباب یہ ہیں۔

1️⃣ کتابوں سے دوری :-

2️⃣ علم کی ناقدری :-

3️⃣ بے مقصد زندگی :-

4️⃣ سُستی اور لاپرواہی :-

5️⃣ وقت کو فضولیات میں گزار دینا :-

6️⃣ اچھی ملازمت پر اطیمنان :-

7️⃣ امتحان میں پاس ہونے پر اطیمنان :-

8️⃣ سُوشل میڈیا کا زیادہ استعمال :-

9️⃣ کاموں کی ترتیب کا نہ ہونا :-

🔟 حافظے کی کمزوری :-

1️⃣1️⃣ احساس کمتری :-

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

2️⃣ 1️⃣خود اعتمادی کا نہ ہونا :-

3️⃣1️⃣ نصابی مطالعہ پر اکتفاء :-

4️⃣1️⃣ خود پسندی :-

5️⃣1️⃣ انانیت :-

6️⃣1️⃣ کسی کو کمتر سمجھنا :-

7️⃣1️⃣ کتاب کی ظاہری صورت پر دل کا مائل نہ ہونا :-

8️⃣1️⃣ عشق مجازی میں گرفتار ہوجانا :-

9️⃣1️⃣ اچھی صحبت کا نہ ملنا :-

0️⃣2️⃣ خودشناسی کا نہ ہونا :-

1️⃣2️⃣ گناہوں کی کثرت :-

2️⃣2️⃣ روحانی آداب کا اہتمام نہ ہونا :-

جس طرح باسی روٹی کھانا انسان پسند نہیں کرتا ، اسی طرح باسی لوگوں کے ساتھ رہنا بھی کوئ پسند نہیں کرتا۔ لہذا!! اپنے آپ کو تر رکھا کرو۔ وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ اپنے اندر صلاحیت بڑھائو کتابیں پڑھ کر۔

سیکھنے والا انسان تروتازہ رہتا ہے ، خوش رہتا ہے اسلئے ہمیشہ سیکھتے رہو۔

سیکھنے کیلئے کتاب ضروری نہیں ہے بلکہ ہوش و حواس ضروری ہے

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button