ایڈز (AIDS) یعنی "ایکوائرڈ امیونو ڈیفیشینسی سنڈروم” ایک خطرناک بیماری ہے جو انسانی مدافعتی نظام کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ بیماری ایچ آئی وی (HIV) وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے، جو جسم کی قوت مدافعت کو ختم کر دیتا ہے، اور مریض کو دیگر بیماریوں کے خلاف بے حد کمزور بنا دیتا ہے
ایڈز کب اور کہاں پھیلا؟
ایڈز کا پہلا واقعہ 1981 میں امریکہ میں رپورٹ ہوا، جب کچھ افراد میں غیرمعمولی بیماریوں کی تشخیص ہوئی جو عام طور پر صرف کمزور مدافعتی نظام والے لوگوں میں پائی جاتی تھیں۔ ابتدائی طور پر یہ بیماری ہم جنس پرست مردوں میں زیادہ دیکھی گئی، جس کی وجہ سے اسے "گے بیماری” کا نام دیا گیا، لیکن جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ یہ وائرس ہر کسی کو متاثر کر سکتا ہے۔
ایڈز کیوں پھیلا؟
ایڈز کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات یہ تھیں:
غیر محفوظ جنسی تعلقات:
ایچ آئی وی وائرس زیادہ تر غیر محفوظ جنسی تعلقات کے ذریعے منتقل ہوا۔
آلودہ سرنج اور خون:
منشیات استعمال کرنے والے افراد جو ایک ہی سرنج استعمال کرتے تھے، یا متاثرہ خون کی منتقلی کے ذریعے یہ وائرس دوسروں میں پھیل گیا۔
ماں سے بچے تک منتقلی:
ایچ آئی وی متاثرہ حاملہ خواتین سے یہ وائرس ان کے بچوں میں منتقل ہو سکتا ہے، خاص طور پر پیدائش کے دوران یا دودھ پلانے کے ذریعے۔
عوامی آگاہی کی کمی:
ابتدائی دنوں میں ایڈز کے بارے میں بہت کم معلومات تھیں، جس کی وجہ سے اس کے پھیلاؤ کو روکنے میں وقت لگا۔
ایڈز کے اثرات
ایڈز نے دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا اور یہ نہ صرف ایک طبی مسئلہ بلکہ سماجی اور معاشی چیلنج بھی بن گیا:
متاثرہ افراد کی تعداد:
دنیا بھر میں تقریباً 40 ملین افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہیں، اور لاکھوں لوگ اس بیماری کی وجہ سے اپنی جان گنوا چکے ہیں۔
سماجی بدنامی:
متاثرہ افراد کو سماجی سطح پر بدنامی کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے وہ علاج کے لیے آگے آنے سے گریز کرتے رہے۔
معاشی نقصان:
ایڈز نے کئی ممالک کی معیشت پر بھی منفی اثر ڈالا، کیونکہ یہ اکثر نوجوان اور پیداواری عمر کے لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔
ایڈز کے خلاف اقدامات
آگاہی مہمات:
دنیا بھر میں ایڈز کے بارے میں شعور پیدا کرنے کے لیے مہمات چلائی گئیں۔
علاج کی ترقی:
ایچ آئی وی کے علاج کے لیے اینٹی ریٹرو وائرل تھیراپی (ART) ایجاد ہوئی، جس نے متاثرہ افراد کی زندگی کو بہتر بنایا۔
متاثرین کی حمایت:
سماجی رویوں میں تبدیلی لانے اور متاثرین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کئی تنظیموں نے کام کیا۔
نتیجہ
ایڈز ایک ایسی بیماری ہے جو ابتدائی دنوں میں لاعلاج سمجھی جاتی تھی، لیکن جدید میڈیکل سائنس اور عالمی کوششوں کی بدولت آج اس پر قابو پایا جا رہا ہے۔ اگرچہ ابھی تک ایچ آئی وی کا مکمل علاج ممکن نہیں، لیکن اس کی روک تھام اور مؤثر علاج کے ذریعے متاثرہ افراد کو ایک بہتر زندگی دی جا سکتی ہے۔ عوامی شعور اور احتیاط ہی اس بیماری کو مزید پھیلنے سے روکنے کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
ازقلم: نورعین سلیمانی
سکونت: افسانہ روڈ بہادر