حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی مدیر اعلی ماہنامہ اشرفیہ مبارک پور کے انتقال نے سنی صحافت کو افسردہ کردیا

مؤرخہ ۱۸ ذی الحجہ ۱۴۴۷ھ مطابق 5/ جون 2026ء کو بوقت فجر خبر موصول ہوئی کہ اہلِ سنت کی ایک عظیم علمی و ادبی شخصیت اور میدان صحافت کے بے باک قلم کار حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی استاذ جامعہ اشرفیہ و مدیر اعلی ماہنامہ اشرفیہ مبارک پور کا انتقال پر ملال ہوگیا ہے۔
یہ خبر سنتے ہی رنج و غم کا سیلاب بپا ہو گیا اس لیے کہ آج بزم تدریس و صحافت کو افسردہ کرکے ایک علمی چراغ ہمیشہ کے لیے ہم سے رخصت ہو گیا۔
انا لله وانا اليه راجعون۔

حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی رحمہ اللہ تعالی عظیم شخصیت کے مالک تھے۔ آپ اہل سنت کے متحرک و فعال عالم دین تھے، متانت فکر اور لطافت ذوق سے مزین تھے، اہل سنت کی قابل افتخار مرکزی درس گاہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کے مدرس ہونے کے ساتھ طویل عرصے سے مشہور دینی و علمی رسالہ ماہنامہ اشرفیہ کے مدیر اعلیٰ رہے۔ آپ ایک حساس سنجیدہ قلم کار، جن کے خیالات صالح اور تعمیری ہوا کرتے تھے، اپنی دیگر مصروفیت کے باوجود منصب ادارت کے فرائض بحسن وخوبی انجام دیتے رہے۔ ان کے دور ادارت میں کئی اہم نمبر نکل چکے ہیں ۔ جن کی مختصر فہرست درج ذیل ہے:

پیغمبر اعظم نمبر ۱۹۹۲ء، انوار حافظ ملت نمبر 1992 ، تعلیمی کنونشن نمبر 1996، سلطان الہند غریب نواز نمبر 1998، جشن شارح بخاری نمبر 2000، فقیہ اعظم ہند تمبر 2000، انھوں نے کچھ خصوصی شمارے بھی نکالے جیسے سید العلما اور احسن العلما کی حیات و خدمات پر مشتمل ” سیدین نمبر“جو ۱۳۳۲ صفحات پرمشتمل ہے ۔

آپ کے چند مشہور اداریے جو کتابی شکل میں شائع ہوۓ:

(1) افتراق بین المسلمین کے اسباب(۲) جادۂ حق وصداقت (۳) برصغیر میں افتراق بین مسلمین کا آغاز وارتقا (۴) بگڑتے حال بدلتے چہرے(۵) وحید الدین خاں سے دو باتیں۔

یہ اداریے حذف و اضافے کے بعد یکجا بنام ”بر صغیر میں افتراق بین المسلمین کے اسباب“ کتابی صورت میں شائع ہوئے ، اب تک پانچ ایڈیشن انڈیا سے اور چار ایڈیشن مرکزی مجلس رضا لاہور پاکستان سے شائع ہو کر مفت تقسیم ہوئے۔

ان اداریوں کے ذریعہ انھوں نے قارئین اشرفیہ کے لیے افتراق بین المسلمین کا ایک منصفانہ تاریخی جائزہ پیش کیا۔ اس کی ابتدا اور ارتقا پر روشنی ڈالی ، حق و باطل کے درمیان پورے استدلال کے ساتھ خط امتیاز پیدا کرنے کی اچھی کوشش کی۔ مولانا وحید الدین خان کے پراسرار بظاہر معقول نظریہ کا پردہ فاش کیا،نظریاتی جنگ کے بھیانک نتائج سے قارئین کو آگاہ کیا۔ ۴۸۰ صفحات پر مشتمل یہ وقیع کتاب ”شہرِ خموشاں کے چراغ“ ہے ۔ اس میں قرین پچاس شخصیات کے وصال کے غم زدہ مواقع پر تعزیتی تحریریں ہیں۔ ان میں کچھ مختصر اور کچھ طویل نگارشات ہیں، زبان و بیان میں بھی منفرد انداز ہے۔ آپ کی ادارت میں ماہنامہ اشرفیہ کا معیار مزید بلند ہوتا رہا، طباعت، ڈیزائنگ اور کمپوزنگ میں بھی نکھار آیا، اسی کے ساتھ مضامین میں بھی تنوع، مذہبی رسالوں میں اس کو اپنے منفرد مقام تک پہنچانے میں اہم رول ادا کیا۔
آپ ایک قابل قلمکار اور ایڈیٹر کی حیثیت سے علمی و مذہبی مضامین کے ذریعے نسلِ نو کی رہنمائی کرتے رہے۔
حضرت کی بے شمار دینی و علمی خدمات ہیں جن ہمیشہ یاد کیا جائے۔

الله رب العزت جل جلالہ حضرت کی بے حساب مغفرت و بخشش فرما کر جنت الفردوس میں اعلی سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان و تلامذہ اور لواحقین کو صبر جمیل و أجر جزیل عطا فرمائے ۔
آمین بجاہ سید المرسلینﷺ۔

شریکِ غم:
محمد نفیس القادری امجدی مدیر اعلی سہ ماہی عرفان رضا مرادآباد۔
پرنسپل جامعہ قادریہ مدینۃ العلوم گلڑیا معافی و خطیب و امام اعلی حضرت جامع مسجد منڈیا گنوں، سہالی، مرادآباد، یوپی۔ انڈیا۔

Leave a Comment