مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے

آہ علامہ مبارک حسین مصباحی!

ایسا کم دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک ہی شخص بیک وقت تحریر و تقریر دونوں میں با کمال ہو۔ عموماً دیکھا جاتا ہے کہ جسے اچھا لکھنا آتا ہے، بولنے میں اس پایے کا نہیں ہوتا۔ اور جو اچھا بولنے پر قادر ہو، اسے اس معیار کا لکھنا نہیں آتا۔ لیکن اگر آپ جامعہ اشرفیہ، مبارک پور کے سابق استاد، حضرت علامہ مبارک حسین مصباحی (پیدائش: ١٩٦٧ء) سے صحیح معنوں میں متعارف ہیں تو شاید بول پڑیں کہ حیدر میاں، آپ کس دنیا میں رہتے ہیں؟ کیوں کہ میں جس دنیا کا باسی ہوں، اس میں تو مبارک حسین مصباحی جیسی شخصیات بھی پائی جاتی ہیں جنہیں بیک وقت صحافت و خطابت پر یکساں دسترس ہوتا ہے۔

میں نے موصوف کے بارے میں ‘سابق استاد’ کی ترکیب استعمال کی۔ در اصل، آج نماز فجر سے فارغ ہو کر جیسے ہی موبائل کی اسکرین پر نظر ڈالی، متعدد واٹس ایپ گروپس میں یہ جاں کاہ خبر پڑھی کہ طویل علالت کے بعد رات تقریباً ١١:٤٥ بجے حضرت کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرما کر درجات بلند فرماے اور ان کے اہل خانہ، متعلقین اور متوسلین سمیت جملہ مصباحی برادران کو صبر جمیل دے۔

میانہ قد، گندمی رنگ، چہرے پر گھنی داڑھی اور آنکھوں پر چشمہ؛ یہ ان کی ظاہری شخصیت کے کچھ خد و خال تھے۔ رہی باطنی شخصیت تو جس قدر علمی تھی، اتنی ہی وزنی بھی۔ لکھتے تو ایسا لگتا کہ بکھرے ہوے موتیوں کو ایک لڑی میں پرویے چلے جا رہے ہیں۔‌ اور جب مائک پر بولتے تو محسوس ہوتا جیسے صاف شفاف پانی کا ایک دریا ہے جو بہتا ہی چلا جا رہا ہے۔ متواضع اتنے کہ بسا اوقات مجھ ہیچ مداں تک کو لفظ ‘حضرت’ سے مخاطب کر حیرت میں ڈال دیتے۔ بلکہ سچ پوچھیے تو کبھی کبھی شرمندگی سی محسوس ہوتی کہ اتنا بڑا آدمی مجھ جیسے چھوٹے سے انسان کو اس قدر عزت دے رہا!

موصوف نے لمبے عرصے تک جامعہ اشرفیہ، مبارک پور کے علمی و فکری ترجمان یعنی ماہ نامہ اشرفیہ کی ادارت کو زینت بخشی۔‌ فراغت کے بعد ہی اس منصب پر فائز کر دیے گئے تھے‌ اور تا دمِ وصال اس کے معیار کو بہ سے بہتر کی طرف لے جانے میں کوشاں رہے۔ ادارتی مضامین کے ضخیم دفتر کے علاوہ، انہوں نے کئی تصنیفات بھی اپنی یاد گار چھوڑیں۔ جن میں سب سے قابلِ ذکر یہ کتاب ‘بر صغیر میں افتراق بین المسلمین کے اسباب’ (سن‌ طباعت: ٢٠٠١ء) ہے. اگر ملی درد رکھنے والا کوئی طالب صادق واقعی غیر جانب دار ہو کر، خاص طور پر بر صغیر میں افتراق بین المسلمین کے اسباب سے واقفیت حاصل کرنا چاہتا ہے تو میں مخلصانہ دعوت دیتا ہوں کہ وہ اس کا مطالعہ کرے۔ آنکھیں کھلی رہ جائیں گی اور وہ صاحبِ کتاب کو دعا دیے بغیر نہیں رہ پاے گا، ان شاء اللہ۔ یہ کتاب اگر مصنف کی تاریخ دانی، تاریخ فہمی اور تاریخ نویسی میں مہارت کا بین ثبوت ہے تو ‘شہر خموشاں کے چراغ’ (سن‌ طباعت: ٢٠٠٩ء) ان کی ادبی صلاحیت اور ملی درد کا منہ بولتا ثبوت جس میں انہوں نے اپنے زمانۂ ادارت میں داغ مفارقت دے جانے والی اہل سنت کی عظیم شخصیات کا نثری مرثیہ لکھا ہے۔ دسمبر ١٩٩٠ء سے مارچ ٢٠٠٩ء تک وصال کرنے والے پچاس کے آس پاس علما، مشائخ وغیرہ کی خدمات پر مشتمل یہ مجموعہ کسی مختصر دستاویز سے کم نہیں۔ میرا ماننا ہے کہ بھارت میں اردو زبان میں مذہبی (اسلامی) صحافت کی جب بھی تاریخ لکھی جاے گی، مؤرخ مصباحی صاحب کو نظر انداز نہیں کر پاے گا۔

میں نے اپنے قیام اشرفیہ کے دوران درس گاہ میں حضرت مصباحی سے کوئی سبق نہیں پڑھا۔ اگر میری یاد داشت خطا نہیں کر رہی تو جب غالباً ثالثہ یا رابعہ میں تھا، میری جماعت کے کسی ایک سیکشن کی کلاس ان کے پاس تھی۔ اور کتاب شاید مؤطا امام محمد یا شرح وقایہ تھی (میری کلاس والے احباب کمینٹ سیکشن میں اپنی معلومات فراہم فرمائیں تو کرم ہوکا)۔ گو، رسمی طور پر میں ان کا شاگرد نہیں، لیکن قیام اشرفیہ کے دوران اور اس کے بعد بھی ان سے اتنا استفادہ کیا ہے کہ انہیں اپنے اساتذہ کرام میں شمار کرنا میری خوش بختی ہوگی۔

✍️: محمد حیدر رضا مصباحی
٥/ جون ٢٠٢٦ء

Leave a Comment