نعت رسول

نعت رسول: بختِ خفتہ کے سبھی جڑ سے ہی کٹ جائیں درخت

نتیجۂ فکر: شمس تبریز خاکٓی ظہوری بلگرامی
خانقاہِ ظہوریہ چشتیہ قادریہ بلگرام شریف(ہرودئی)

بختِ خفتہ کے سبھی جڑ سے ہی کٹ جائیں درخت
یا خدا سر سے گناہوں کے یہ ہٹ جائیں درخت

سر پٹک کر ہی ہاں رہ جائیں یہ طوفاں سارے
نامِ سرکار کہیں لے کے جو ڈٹ جائیں درخت

عشق و الفت کے سدا جھوکے لگیں گے ہر جا
ان کی تعلیم کے گر چار سو بٹ جائیں درخت

میں مسافر ہوں مدینہ کا دعا ہے میری
راہ طیبہ میں گرے سارے ہی ہٹ جائیں درخت

یاخدا وصل میسر ہو کبھی مجھ کو اور
فرقتِ صاحبِ لولاک کے کٹ جائیں درخت

جب محافظ ہے خدا اس کا اے دنیا والو
کیسے پھر دھر سے یہ نعت کے گھٹ جائیں درخت

بارشیں ہو نہ اگر ان کے کرم کی خاکی
بخدا سوکھ کے اک پل میں ہی پھٹ جائیں درخت

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button