اہم خبریںملکی خبریں

کسانوں کے خلاف ’قلعہ بندی‘ ٹھیک نہیں: راہل

ہماری آواز/نئی دہلی،3 جنوری (پریس ریلیز) کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کسان ملک کی طاقت ہیں اور ان کی تحریک کو قلعہ بندی کرکے دبانا خطرناک ہے اس لئے حکومت کو مسئلے کا حل نکالنے کےلئے کسانوں سے بات چیت کرنی چاہئے مسٹر گاندھی نے بدھ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت کو کسانوں کی بات سننی چاہئے اور ان کے مطالبات پر مثبت غور کر زراعت سے متعلق قوانین کو واپس لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور کسانوں کو لے کر ملک کوئی حکمت عملی نہیں ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے یہاں قیادت کا فقدان ہے اور ملک کو سنبھالنے کا نظریہ قیادت میں نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت حالات کو سنبھال نہیں پارہی ہے ۔ وزارت داخلہ کی ذمہ داری تھی کہ کوئی بھی عناصر لال قلعہ پر نہیں جا پاتا لیکن حکومت ناکام ثابت ہوئی ہے اس لئے سماج دشمن عناصر نے لال قلعہ پر جاکر فساد کیا ہے۔ اس معاملے میں حکومت کو جانچ کرنی چاہئے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ بجٹ میں حکومت نے ملک کے عوام کی اندیکھی کی ہے۔ ملک کے 99 فیصد لوگوں کو حمایت دینے کے بجائے صرف ایک فیصد لوگوں کی مدد کےلئے بجٹ 22-2021 کو تیار کیا گیا ہے۔ حکومت نے کسانوں،چھوٹے صنعت کاروں،فوج اور دیگر اہم شعبوں کے لوگوں کا پیسہ صرف چار پانچ طبقوں کو فائدہ دینے اور ان کو پیسہ دینے کےلئے بجٹ میں انتظام کیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ سب سے بڑا بحران یہ ہے کہ چین ہماری سرحد میں گھسا ہے لیکن بجٹ میں چین کو پیغام دیا جاتا ہے کہ آپ اندر آسکتے ہیں اور جو بھی کرنا ہے کریں لیکن ہم اپنی فوج کو حمایت نہیں دیں گے۔ بجٹ میں دفاعی شعبہ کےلئے محض تین،چار ہزار کروڑ روپے بڑھائے گئے ہیں۔ اس سے ملک کو فائدہ نہیں ہونے والا ہے۔ حکومت کا فوج کےلئے عزم ہونا چاہئے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ فوج کی جو بھی ضرورت ہے اسے دیا جانا چاہئے۔ لداخ میں ہماری فوج کھڑی ہے لیکن ان کو پیسہ نہیں دیا جارہا ہے۔حکومت کو فوج کی ضرورت کو پورا کرنے کےلئے مناسب پیسہ دینا چاہئے لیکن حکومت اس پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button