کالم

کنڈلی

افسانہ نگار: ڈاکٹر ابوطالب انصاری
بھیونڈی، مہاراشٹرا 9823755795

سر ! میرے پہچان کی ایک عورت ہے ۔ اسے کام کی تلاش ہے ۔ گریجویٹ ہے اور کمپیوٹر کا کورس بھی کی ہوئی ہے۔ اپنے یہاں کمپیو ٹرپر کام کرنے کے لئے جگہ بھی خالی ہے۔ گر آپ کہیں تو اپنے کمپیوٹر پر کام کرنے کے لئے اسے رکھ لیں۔ سنتو ش بابو نے راجو سیٹھ سے کہا
"ٹھیک ہے، سنتوش بابو اگر مناسب ہے تو رکھ لو” راجو سیٹھ کے ہامی بھرتے ہی سنتوش بابو کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
سنتوش بابو، راجن گارمینٹ کے مینیجر تھے جبکہ راجن بابو اس کے مالک تھے۔ پیار سے لوگ انہیں ’’ راجو بابو‘‘ کہتے تھے۔ راجن گارمینٹ اوسط درجہ کی فیکٹری تھی مگر اس کی شاخ اچھی تھی۔سکیڑوں مزدور یہاں کام کرتے تھے جن میںاکثریت عمررسیدہ مزدوروں کی تھی۔ یہاں کا ماحول اچھا تھا۔ تنخواہ مناسب اورقت پر ملتی تھی۔ راجو بابونہات ہی ملنسار تھے اور مزدوروںکا بہت خیال رکھتے تھے۔ اس کی وجہ سے گارمینٹ فیکٹری کا کام ایک ٹیم ورک کی طرح ہوگیا تھا۔ یہاں ہر شخص اپنی ذمہ داری بہتر طور سے نبھارہا تھا اوریہی ا س فیکٹری کی کامیابی کا رازتھا۔
دوسرے دن سنتوش بابو اپنے ساتھ ایک عورت کولے کر راجو بابو کے آفس میں داخل ہوئے۔ سنتوش بابو نے کہا سر! میں نے کل آپ سے بات کی تھی ۔ یہ وہی عورت ہے۔ ا س نے ہاتھ جوڑ کر نمستے کیا۔ نمستے کرتے ہوئے وہ بالکل عاجزی اور انکساری کا پیکر معلوم ہوتی تھی۔ نام کیا ہے تمہارا؟راجو بابو نے پوچھا۔ ’’ سشیلا‘‘ اس نے نظریں جھکائے ہوئے دھیمی آواز میں کہا۔’’ دیکھو سشیلاسنتوش بابویہاں کے کام کاج کے بارے میں تمہیں بتا دینگے، خون من لگا کر کام کرو ‘‘ سشیلا نے جوا ب میںگردن ہلاتے ہوئے کہا جی اچھا اور سنتوش بابوکے ساتھ چلی گئی۔قاعدے قانون سمجھا دو۔ قبول صورت، چہرے پراداسی کی باریک تہہ ، دبلی پتلی، کپڑے معمولی مگر ان سے شرافت جھلک رہی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد انہوںنے دماغ سے اسے جھٹک دیا اور اپنے کام میں لگ گئے۔
سشیلا خوب من لگا کر کام کررہی تھی ۔ تھوڑے ہی دنو ںمیں اس کی خو ش مزاجی ، خوش اخلاقی اور لوگوںکے دکھ درد بانٹنے کی عادت نے اسے سب کا چہیتا بنا دیا۔ راجوبابوکی کمپنی ترقی کی راہ پر دھیرے دھیرے گامزن تھی۔اورراجو بابو اس کاکریڈ ٹ خود سے زیادہ مزدوروں کو دیتے تھے ۔ راجو بابو کمپنی کو اپنا کنبہ سمجھتے تھے۔ راجو بابو اپنے ۶؍ سالہ بیٹے کے ساتھ رہتے تھے۔بیوی کاانتقال ہوگیا تھا۔ خادمہ گھر کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ وہ خود بھی بچے کی پرورش کے تئیںفکر مندتھے یہی وجہ تھی کہ بیوی کے انتقال کے بعد ابھی تک انہوںنے دوسری شادی نہیںکی تھی۔
ایک دن سشیلا راجو بابوکے آفس میں کمپیو ٹر فائل دکھانے گئی۔ فائل دیکھنے کے بعد راجو بابو نے اسے بیٹھنے کا اشار ہ کیا۔ راجو بابو نے پوچھا سشیلا تمہیں یہاںکام کرتے ہوئے کتنے دن ہوئے ہیں؟۔یہ سن کر سشیلا لرز گئی بڑی مشکل سے یہا ں نوکری ملی ہے۔ اور اسی کے بدولت گھر چل رہاںہے ۔کیوںسر! مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہے۔راجو بابو ہلکی سے مسکراہٹ سجائے سشیلا کے چہرے کودیکھ رہے تھے۔ سشیلا نے ڈرتے ڈرتے پوچھا کیا ہوا سر؟ ہوا یہ کہ تم کام بہت اچھاکرتی ہو خوش مزاج اور سب کی چہیتی بھی ہو۔ سشیلایہ سنکرنہال ہوگئی۔سشیلاراجو بابوکے کیبن سے باہرجانے کیلئے اٹھی ہی تھی کہ راجو بابونے کہا ’’سشیلاکیا تم نے پہلے بھی مجھے کہیں دیکھاتھاکیاتم مجھے پہچان رہی ہو‘‘ سشیلانے گردن جھکائے جھکائے جواب دیا۔ہاںسر! میں آپ کو پہچان لیاتھا۔لیکن تم نے کبھی ظاہرنہیں کیا۔ سر کیا بولتی اورکیوں ظاہرکرتی۔ آپ مالک ہیں اور میں نوکر۔ سر میں نے آپ کو دیکھتے ہی پہچان لیاتھا۔ تمہارے گھرمیں اور کو ن ہیں۔ میری ۴؍ سال کی بیٹی اور ماں ۔ اور شوہر؟ انہوں نے مجھے ایک سال پہلے طلاق دے دی ہے۔ سر آپ مجھے دیکھنے میرے گھر آئے تھے۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو پسند بھی کرلیا تھا ۔مگر ہماری کنڈلیاںنہیں ملی تھیں۔یہی وجہ تھی کہ ہماری شادی نہیںہوپائی۔ اس کے بعد ایک جگہ میری کنڈلی مل گئی۔ میری شادی ہوگئی۔ لیکن شروع سے ہی گھر میں ٹک ٹک رہتی تھی۔ شوہرعیاش اورشرابی تھا۔ کہیںمعاشقہ تھا۔ جھگڑے، مار پیٹ، ساس کے طعنے راز کا معمول تھا مگرکب تک۔ بات طلاق پر ختم ہوگئی۔ بابوجی یہ صدمہ برداشت نہیںکرسکے اور چل بسے۔ بابو جی جب تک زندہ رہے۔ گھر ٹھیک ٹھاک چلتا رہا۔ لیکن ان کے انتقال کے بعد زندگی ہی نہیںزمین بھی ہم پر تنگ ہوئی۔
اور آپ؟ میرا ایک ۶؍ سالہ بیٹاہے۔ بیوی کا تین سال پہلے انتقال ہوچکاہے۔ خادمہ گھرسنبھالتی ہے۔کچھ دنوںکے بعد راجو بابو نے سنتوش بابو کوآفس میںبلاکرکہا۔ سنتوش! میں دوسری شادی کا سوچ رہاہوں۔ سشیلا کے بارے میں تمہاراکیاخیال ہے۔؟ سر یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے۔ تم سشیلاسے بات کرو۔ سشیلانے رضامندی ظاہرکردی۔ سشیلا کی ماں نے کنڈلی کی بات کی،مگر سشیلا نے جواب دیا کہ ’’ ماں ! کنڈلی ملاکر شادی کاانجام سامنے ہے‘‘۔
سشیلا راجو بابو کے گھر دلہن بن کر آگئی۔ اپنے ساتھ میںماں اور بیٹی کوبھی لے کر آئی۔ راجو بابو کا مکان گھر بن گیا۔ راجو بابوکو بیوی، بیٹی اور ماں مل گئی۔ سشیلا کوشوہراور بیٹا مل گیا۔ راجو بابو کے بیٹے کو بہن مل گئی۔ سشیلا کی ماںکو کنبہ اورمحفوظ مستقبل مل گیا۔ وہ رشتہ جو کنڈلی کے نہ ملنے سے جڑنہیںپایا تھا ، بغیر کنڈلی دیکھے جڑ گیا اور ایسا جڑا کہ بتیس لکچھن اورچھتیس گن بھی مل جاتے تب بھی یہ خوشی ان کی زندگی میںنہ لا پاتے۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button