سماج و معاشرہگوشہ خواتین

ماحولیاتی آلودگی لاگت سے موثر حل کی وجہ بنتی ہے

تحریر: شیخ عائشہ امتیازعلی
انجمن اسلام گرلز ہائی اسکول ناگپاڑہ ممبئی

انسان کےارد گرد موجود کائنات اوراس کی تمام چیزیں اللہ کی مخلوق ہیں، اللہ نے اس کائنات کو پہاڑوں، جنگلوں، دریائوں، ندی نالوں، ہوائوں ،اوردیگرمختلف چیزوں سےآبادکیاہے اورزمین کواس کاٹھہرائوں بنایاآسمان کواس پرمانندچھت بناکر خوبصورت ستاروں،سیاروں سےاسے مزین کیا ہےاس کے نیچے بادلوں کوانسان کی بنیادی ضرورت پانی سےبھرکرانسان کی آبی ضرورتوں کی تکمیل کی ہے،پھرزمین پرمختلف قسم کےچرندپرند ،سمندرمیں مچھلیوں ،اورآبی حیوانات کوپیداکرکے انسان کی غذائی ضرورتوں کیساتھ ماحولیاتی ضرورتوں کی بھی تکمیل کی ہے لیکن آج جس برق رفتاری سے دنیابدل رہی ہے اسی تیزی سے انسانی ذہن ومزاج بھی تبدیل ہورہاہے یہی انسانی ذہن کہیں رات کودن اورگرمی کو سردی میں بدلنے میں مصروف ہے توکہیں پرندوں سے تیز اڑ کرایک جگہ سے دوسری جگہ پہونچ جانے میں اپنی عقل کااستعمال کررہاہے انسان کوعقل دی گئی فلاح وبہبودکیلئے مگراندازہ یہ ہورہاہے کہ یہی شعور اس کیلئے صرف مسائل ہی نہیں بلکہ تباہی کاسبب بھی بن گیاہے ،حالاں کہ ماحول اورانسان ایک دوسرےکیلئے جزولاینفک ہیں انسان نے اس سرزمین مقدس پر انکھ کھولی تواسکے اولین شناسائی اسی ماحول سےہوئی، یہی ماحول انسان کاپروردہ، اورنگہبان تھا مگرجوں جوں انسان ترقی کےمنازل طے کرتاگیا اورجدیدیت سےجدیدیت تک کی منازل کوپائوں تلےروندتاگیا وہ اپنے اولین اوردائمی پروردہ کوبھی تباہی کےدہانےکی طرف دھکیلتاگیا وہی ماحول جوکبھی انسان کیلئے سائبان اورمحافظ تھا آج انسان کی اپنی تباہی کاشاخسانہ بن چکاہےحالانکہ انسانی صحت کیلئے کھلی فضااورصاف ہوامیں سانس لینا بہت ضروری ہے لیکن اس ترقی یافتہ اورسائنٹفک دورمیں انسان کونہ صاف ہوامیسرہےاورنہ ہی کھلی فضا۔اس جدیدترین دورمیںانسان آلودہ زندگی گذارنےپرمجبورہے آج گلوبل وارمنگ ،اوزون کی تباہی، آبی فضائی آلودگی، شورکی آلودگی اورشدیدموسمی تبدیلیاں نہ صرف انسان بلکہ اس کرئہ ارض کی بقاکیلئے خطرہ بن چکی ہے۔
آج دورحاضر کاانسان جہاں بےشمار مسائل وآلام میں جکڑاہواہے ،وہاں اس کاسب سےبڑامسئلہ جس کادنیاکواس وقت شدت سےاحساس ہورہاہے وہ ہےماحولیات انسان اپنی سہولیات کیلئے انواع واقسام کی اشیاءایجادودریافت کی جن کی وجہ سے انہیں کئی تکالیف سے نجات ملی لیکن بدقسمتی سے جدیدانسان مشینی اشیاکےزیادہ استعمال سے اپنی عادات واطوارکوبھلاکر خودبھی مشینوںکے سانچےمیں ڈھل گیا اوراپنی ذات میں قیدہوکر دوسروں کی زندگیوں میں مسائل کاباعث بننےلگایہی وجہ ہےکہ آلودگی دورحاضرکانہایت سنگین مسئلہ ہے ،ہماری زمین اورفضاکوآلودگی کےسبب ناقابل تلافی نقصان پہونچ رہاہے کائنات میں قدرت نے زبردست توازن برقراررکھاہے اوریہی توازن کائنات کی بقاکاضامن ہے جب سے انسان نے اپنے اردگرد کےماحول پر یلغارکی ہے یہ توازن برقرارنہیں رہا نتیجتاآج کاانسان فطرت سے دورہوتاچلاجارہاہے سستی آسائش کی خاطر انسان کے اختیار کردہ مصنوعی ذرائع ووسائل نے ماحول کے حسن کو نہ صرف غارت کرکےرکھ دیاہے بلکہ اسےطرح طرح کی آلودگیوںکی آماجگاہ بنادیاہے۔
حالاںکہ ہمیںجانناچاہیےکہ ماحولیاتی آلودگی کاتعلق انسان کےاخلاقی، ثقافتی، تعلیمی،معاشرتی اور معاشی زوال کیساتھ براہ راست جڑاہےانسان کی مادیت پرستی نے اسے زندگی کےسبھی اخلاقی اصولوں سے آزادکردیا ہے انڈسٹریزکےقیام کیلئے بےجادرختوں کی کٹائی ،فیکٹریزکاگندہ مواد،پیداوارمیں اضافے کیلئے کیمکل اسپرے، بڑھتی ہوئی آرام طلبی کے سبب بےبہاگاڑیوں کااستعمال اوربڑھتی انسانی ضروریات اورآرام طلبی کےپیش نظر فیکٹریزکےپروڈکشن میں اضافہ یہ ایسےعوامل ہیں جومل کرماحول کوآلودہ کررہےہیں ۔ان تما م چیزوں پر غورکرتے ہوئےحکومت کوچاہیےکہ شجرکاری کےحوالےسے عوامی شعورکوبیدارکریں تاکہ اس اہم مسئلےکاسدباب کیاجاسکےکیوں کہ آلودگی سے پاک معاشرہ ہی جدوجہد حیات اورترقی کی رفتارمیں زمانے کے تقاضوں کیساتھ تنہاچل سکتاہے۔ ماحول انسانوں اورقوموں کی شخصیت کاآئینہ دارہوتاہے جہاں ماحول انسان سے متاثرہوتاہے وہاں انسان بھی اپنے ماحول سے اثرپذیر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔انسان اپنے ماحول کی نمائندگی کرتاہے توماحول انسان ہی کادوسراروپ ہے گویادونوں ایک دوسرے کیلئے ضروری ہیں۔اسلئے ہم پریہ لازم اورہمارایہ فرض ہےکہ ہم اپنے ماحول کوصاف رکھیں ۔اگرہم آج سنجیدگی سےسوچیں توماحولیاتی آلودگی کوروک سکتےہیں، بدلتےموسم کوروک سکتےہیں ،ہم اپنےماحول کوصاف بناسکتےہیںلیکن اس کیلئے ہم کوسنجیدگی سے غورکرکے عملی طورسے کچھ اقدامات کرنےکی ضرورت ہے جیسےشمسی توانائی کااستعمال روشنی کیلئے ،کھاناپکانے کیلئے اورالیکٹرانک آلات کیلئے کرناچاہیے جتناہوسکےپیڑپودےلگائیں،پانی کوزمین کے اندرمحفوظ کریں،زمین سے حاصل ہونیوالی قدرتی دولت کا حسب ضرورت اورکم استعمال کریں پلاسٹک کااستعمال ،کیمیائی کھاداورکیڑوں کومارنیوالی ادویات کااستعمال ترک کردیں ،ہم اپنےآپ کو اوراپنے ماحول کوصاف ستھرااورخوشگوار رکھیں، کپڑوں کی تھیلیاں قدرتی دوائووں اورضروریات زندگی کااستعمال کریں کیوں کہ یہ چیزیں ہم کوقدرتی ذرائع سےمفت ملتی ہیں۔ہم ان سے پیارکریںاس طرح سےہم لاکھوں سالوں تک اس زمین اورماحول کوخوبصورت اوررہنےکےلائق پاتے رہیں گے اورہمارے موسم جوں کے توں برقراررہیں گے۔

ہما اکبر آفرین

محترمہ ہما اکبر آفرین صاحبہ گورکھ پور(یو۔پی۔) کے قدیم ترین قصبہ گولا بازار سے تعلق رکھنے والی بہترین قلم کار ہیں۔ فی الحال موصوفہ ہماری آواز کے گوشہ خواتین و اطفال میں ایڈیٹر ہیں۔ ہماری آواز

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button