مذہبی مضامین

فحاشی و عریانیت پر پڑے ہوۓ غلاف کا نام ویلنٹائن ڈے: نفس امارہ نے ہمیں کڈنیپ کر رکھا ہے

موجِ فکر: آصف جمیل امجدی
انٹیا تھوک، گونڈہ یو۔پی۔

غلاظت میں لت پت مغرب سماج کی ہمیشہ سے یہی فکر رہی ہے کہ پوری دنیا کے ایک ایک فرد کو فحاشی و بے حیائی کے عمیق گڑھے میں دفن کر کے ہی دم لیں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ طرح طرح کے حربے وجود میں لانے کی بے لوث محنت و مشقت کرنے میں ایک انچ بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے۔ غیرتِ انسانی پر زہر سے بجھی ہوئی نہ دکھنے والی تلوار سے اس طرح وار کیا کہ جنسی تسکین کی حصولیابی میں انسان کو حیوانوں کے مد مقابل میں لا کھڑا کیا، جس سے ماں، بہن، بیٹی جیسے مقدس رشتوں کی صدیوں سے کھڑی پاکیزہ دیوار کو مکمل مسمار کر دیا۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے ہم مغرب کے دام فریب میں مزید پھنستے جا رہے ہیں۔ اللّٰہ عزوجل امت مسلمہ کے بیڑے کو غرق ہونے سے محفوظ رکھے (آمین)۔ ورنہ موجودہ دور میں مختلف النوع یوم (Days) منانے شروع ہو چکے ہیں جس کا اسلامی نظام سے دور دور تک بھی کوئی ربط و ضبط نہیں ہے۔پھر بھی امت مسلمہ کے بیشتر افراد اس میں جان و دل سے ملوث نظر آتے ہیں۔ گویا نفس امارہ نے ہمیں کڈنیپ کر رکھا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی ویلنٹائن ڈے بھی ہے۔ویلنٹائن ڈے پر جب آپ محقیقین کا تحقیقی جائزہ لیں گے تو جلی حرفوں سے لکھا ملے گا کہ یہ دن منانا بالکلیہ حرام ہے، حرام ہے، حرام ہے۔
ویلنٹائن ڈے فحاشی کا دوسرا نام ہے! ویلنٹائن ڈے کو منانا مذہبی، اخلاقی اور معاشرتی سطح پر غلط اور ممنوع ہے، اسلام نہ صرف برائی کا سد باب کرتا ہے؛ بلکہ برائی کی طرف جانے والے ہر راستے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ ویلنٹائن ڈے فحاشی کا دوسرا نام ہے، اسے معاشرے میں رواج دینا فحاشی کا دروازہ کھولنا ہے۔ مغربی معاشرے کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں بن بیاہی مائیں اور بغیر باپ کے بچے فروغ پا رہے ہیں نیز خاندانی ومعاشرتی نظام کا شیرازہ بکھرچکا ہے ؛اس لیے یاد رکھیں کہ ہماری آنے والی نسلوں کی عزت و حیا کی بقاء صرف اور صرف اسلام کی روشن تعلیمات میں ہے، لہذا ہمیں اپنے معاشرے سے تمام غیر اسلامی ، غیر اخلاقی اور غیر فطری رواجوں کو ختم کرنا ہوگااور ایک صالح معاشرہ کے وجود میں لانے کے لیے کوشش کرنی ہوگی۔
ویلنٹائن نام کا ایک معتبر شخص برطانیہ میں تھا، یہ بشپ آف ٹیرنی تھا جسے عیسائیت پر ایمان کی جرم میں 14؍ فروری 269ء کو پھانسی دی گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ قید کے دوران بشپ کو جیلر کی بیٹی سے محبت ہوگئی اور وہ اسے محبت بھرے خطوط لکھا کرتا تھا، اس مذہبی شخصیت کے ان محبت ناموں کو ویلنٹائن کہا جاتا ہے۔ چوتھی صدی عیسوی تک اس دن کو تعزیتی انداز میں منایا جاتا تھا لیکن رفتہ رفتہ اس دن کو محبت کی یادگار کا رتبہ حاصل ہوگیا اور علاقہ میں اپنے منتخب محبوب اور محبوبہ کو اس دن محبت بھرے خطوط، پیغامات، کارڈز اور سرخ گلاب بھیجنے کا رواج پاگیا۔ لڑکے لڑکیوں کا آزادانہ ملاپ، تحفوں اور تمام چیزوں کا لین دین اور غیراخلاقی حرکات کا نتیجہ زنا اور بداخلاقی کی صورت میں نکلتا ہے جو اس بات کا اظہار ہے کہ ہمیں مرد اور عورت کے درمیان آزادانہ تعلق پر کوئی اعتراض نہیں ہے! اگر اہل مغرب کی طرح ہمیں اپنی بیٹیوں سے عفت مطلوب نہیں! اور اپنے نوجوانوں سے پاک دامنی درکار نہیں! تو قرآن کریم کی سورۃ النور کی آیت ۱۹ میں ایسے لوگوں کے لیے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب کی وعید وارد ہوئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو معاشرہ قائم فرمایا تھا اس کی بنیاد حیا پر رکھی جس میں زنا کرنا یہ نہیں بلکہ اس کے اسباب پھیلانا بھی ایک جرم ہے مگر اب لگتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی حیا کے اس بھاری بوجھ کو زیادہ دیرتک اٹھانے کے لئے تیار نہیں بلکہ اب وہ حیا کے بجائے وہی کریں گے جو ان کا دل چاہے گا جو یقیناًمذموم ہے
ویلنٹائن ڈے کی شرعی حیثیت
یہ دن محبت کا تہوار منانے میں بت پرست رومیوں اور پھر اہل کتاب عیسائیوں کے ساتھ مشابہت ہے کیونکہ انہوں نے اس میں رومیوں کی تقلید اور پیروی کی ہے اور یہ دن عیسائیوں کے دین میں نہیں ہے، اور جب دین اسلام میں عیسائیوں سے کسی ایسی چیز میں مشابہت سے ممانعت ہے جو ہمارے دین میں نہیں ہے؛ بلکہ ان عیسائیوں کے حقیقی دین میں نہیں ہے تو پھر ایسی چیز جو انہوں نے تقلیداً ایجاد کر لی تو وہ بطریق اولیٰ ممنوع ہے ہمیں ایسے تمام تہواروں سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے جس کا تعلق کسی مشرکانہ یا کافرانہ رسم سے ہو، ہر قوم کا ایک الگ خوشی کا تہوار ہوتا ہے۔ لیکن! ہم مسلمانوں کے لیے عیدین کے ساتھ ساتھ عالمی تہوار عید میلادالنبی ہے۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button