سماج و معاشرہگوشہ خواتینمذہبی مضامین

جہیز ایک لعنت

از قلم: سعیدہ بتول
ویمنز ونگ، کولار کرناٹک

جہیز کے معنی ہیں تیاری کرنا یا انتظام کرنا،اسکے معنی ہوتے ہیں سامان سفر تیار کرنا،اسکا ایک مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ کفن دفن کے لیے تیاری کرنا ۔سورہ یوسف کی آیت ۵۹ میں ارشاد ربانی ہے کہ جب اُس نے اُنکے لیۓ اُنکا سامان سفر تیار کردیا۔یعنی یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کے لیۓ سفر کا سامان تیار کردیا۔یہ رہا جہیز کا اصل تعارف۔آئے اب ہم دیکھیں کہ ہماری اصطلاح میں لفظ جہیز کے کیا معنی ہوتے ہیں،جہیز سے مراد وہ سامان اور اثاثہ منزل ہے جو شادی سے پہلے دلہن کے گھر سے دولہے کے گھر بڑے شان و شوکت کے ساتھ پہنچایا جاتا ہے یعنی مال و دولت وہ گاڑی وہ بنگلہ وہ زیورات وہ عیش و آرام کی چیزیں جو دلہن کے والدین کا سکون چھین کر انکی راتوں کی نیند اڑا کر دولہے کہ گھر روانہ کیا جاتا ہے جسکو آج ہم جہیز کہتے ہیں۔
جہیز صرف ایک لعنت ہی نہیں بلکہ سماجی،اخلاق اور معاشرتی بُرائی ہے جو ہمارے معاشرے کے لیے ایک ناسور بن کر رہ گئی ہے صرف جہیز ہی ایک ایسی چیز ہے جسکی وجہ سے والدین خود بیٹی کی پیدائش پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں اور جیسے جیسے انکی بیٹی سن بلوغت کو پہنچتی ہے تو ماں باپ کا چین و سکون چھین جاتا ہے کہ لڑکی شادی کی عمر کو پہنچ رہی ہے،جہیز کیسے جمع کریں ؟ کہاں سے جمع کریں؟ کس سے قرض لیں؟ یہ سوچ یہ پریشانی کسی دوسری قوم کی نہیں بلکہ ہمارے مسلم معاشرے کی ہے۔بڑے ہی افسوس کا مقام ہے ہم سب کے لئے کہ ہم بھی اسی معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں سادی شادیاں بس ہزاروں میں ایک رہ گئی ہیں،کہنے کو بڑی شرم کی بات ہے کہ با علم حضرات بھی آج کل اپنے بچوں کی شادیاں شاندار اور اعلیٰ پیمانے پر کر رہے ہیں
ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں سفید چور کہنا کچھ غلط نہ ہوگا کیونکہ وہ لڑکی والوں سے بنگلہ گاڑی نقد رقم تحفے کی صورت میں لیتے ہیں،وہ بھی جہیز کی ایک شکل تو ہے؟ لیکن نام تحفے کا دیتے ہیں۔ ذرا غور کیجئے اس بات پر جس لڑکی کے والدین اتنی استطاعت نہ رکھتے ہوں اور جنکے خود کے گھر میں ایسی آرام دہ چیزیں نہ ہوں وہ بھلا ایسے تحفے آسانی سے کہاں سے دے سکتے ہیں؟ یہ صرف لڑکے والوں کی ڈیمانڈ ہو سکتی ہے یا پھر لڑکی کی زندگی کا سوال کہ آئندہ اسے سسرال میں طعنے نہ سننے پڑیں یا اُسکے والدین کی کمتر سوچ کہ کہیں انکی بیٹی کی جان پر نہ بن جائے ،یہ ڈر ہی ہے جو کسی درمیانِ طبقہ کے والدین کو ڈستا ہے
موجودہ ماحول میں آج ایسے کتنے ہی مسائل ہمارے علم میں آتے ہیں کہ لڑکی کو جہیز نہ دینے یا کم دینے کی وجہ سے اُسے موت کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے یا پھر سسرال کے ظلم سے تنگ آکر لڑکی خودکشی کر لیتی ہے ایسے واقعات سن کر دیکھ کر بھی ہم بڑے آرام سے اپنے گھروں میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں،کیا ہمارا ضمیر مردہ ہو چکا ہے؟بُرائی کو دیکھ کر بُرا کہنا ایمان کی نشانی ہے تو کیا ہمارا ایمان بھی مردہ ہو چکا ہے؟ معاشرے کی اصلاح کیا ہم سب کی ذمےداری نہیں ہے؟ ضروری نہیں کہ بات ہمارے گھر یا خاندان پر آئے تو ہی ہمارا ضمیر ٹھاٹھیں مارے۔اپنے اندر کی سوئی ہوئی انسانیت کو جگانا آج وقت کی اہم ضرورت ہے
دین آسان ہے خدارا اپنے شیوں اور رواجوں سے دین کو مشکل بنا کر پیش نہ کریں ۔اللہ کا ڈر اور تقویٰ اپنے دلوں میں پیدا کریں کیونکہ حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جہیز لینا حرام ہے، جس شخص کے پاس دو وقت کا کھانا موجود ہو اور وہ کسی سے کھانے کے لئے مانگے تو وہ کھانا اُس پر حرام ہے۔۔۔ آج وہ کونسے لڑکے والے ہیں جنکے پاس دو وقت کا کھانا موجود نہ ہو۔
آئیے اُن ماؤں پر تھوڑا روشنی ڈالیں جو جہیز کا مطالبہ کرتی ہیں کیا اُنہیں اپنے بیٹے کے بازوں میں دم نظر نہیں آتا؟جو لڑکی والوں کے سامنے بھکاری بنا کر پیش کرتی ہیں؟ اور کیا وہ واقعی مرد ہیں جو منھ پر مونچھ رکھتے ہوئے عورتوں سے جہیز کی بھیک مانگتے ہیں؟ شرم آنی چاہیے ایسے مرد حضرات کو۔۔۔
ہمارا اسلام ایک آسان دین ہے جس میں لڑکی کو مہر دے کر نکاح میں لیا جاتا ہے،لیکن مہر کی رقم اب برائے نام رہ گئی ہے مہر کے نام پر چھوٹی سی رقم ادا کی جاتی ہے بعض شادیوں میں وہ رقم بھی قرض ہی رہ جاتی ہے
سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ "پورے کے پورے دین میں داخل ہوجاؤ”۔آئے ہم اپنا جائزہ لیں کہ کیا ہم اللہ کے اس حکم کی تعمیل کر رہے ہیں؟ نہیں بلکل بھی نہیں! یہی وجہ ہے کہ آج کی شادیوں میں برکت نہیں ہے وہ خوشگواری نہیں ہے وہ ازدواجی مٹھاس نہیں ہے جو صحابہ کرام کی شادیوں میں ہوا کرتی تھیں
آئیے اسی سے متعلق ایک واقعہ سناتی چلوں! مبارک نامی لڑکا ایک انار کے باغ کا مالی تھا ایک دن باغ کے مالک کے ساتھ اُنکے دوست باغ میں تشریف لائے،باغ کے مالک نے کہا؛مبارک کچھ میٹھے انار لاؤ،مبارک انار لے کر حاضر ہوئے ،وہ انار کھٹے تھے۔مالک نے کہا مبارک یہ کیا اٹھا لائے؟ مبارک نے کہا میرا کام صرف باغ کی حفاظت کرنا ہے نیچے گرے ہوئے پھل بھی میں کاٹ کر نہیں کھاتا تو بھلا مجھے ذائقہ کا کیسے پتہ چلتا؟ یہ سن کر اُنکے دوست بہت متاثر ہوئے گھر جاکر بیوی کو سارا ماجرا سنایا بیوی نے سنتے ہی کہا آپ کو چاہیے تھا کہ اسی وقت ہماری بیٹی کی شادی کی بات اُس سے کرتے ؟ فرمایا یہی رائے لینے تمھارے اور بیٹی کے پاس آیا ہوں تو بیٹی نے بھی سن کر الحَمدُ اللہ کہا اس طرح بہت سادے طریقے سے مبارک کا نکاح ہوگیا،سُنت کے مطابق نکاح کرنے کی برکت دیکھئے، اُنکے ہاں اولاد ہوئی تو انہوں نے اپنے بچے کا نام عبداللہ رکھا وہی عبداللہ بڑے ہو کر عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کے نام سے مشہور ہوئے۔۔۔۔ اللہُ اکبر !! اسلامی تاریخ ایسے واقعات سے بھری ہ وئی ہے
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کی پرورش اسلامی نقطہء نظر سے کریں خود اس پر عمل کریں اور بچوں کو بھی اس کی ترغیب دیں گھر میں اسلامی ماحول پیدا کریں اپنے فرزندان کے لئے جہیز لینے سے گریز کریں اپنی بیٹیوں کو اتنا با کردار و با اخلاق بنائیں کہ وہ خود اُس رشتے سے انکار کردیں جہاں اُنکے اخلاق و کردار سے بڑھ کر مادی چیزوں کو ترجیح دی جارہی ہو، رشتہ ڈھونڈتے وقت معیار انتخاب صحیح رکھیں یعنی دیندار مرد اور دیندار عورت کو ترجیح دیں
آئیے آج ہم یہ عہد کریں کہ اس بُرائی کو مٹانے کی کوشش اپنے گھر سے ہی شروع کریں ان شاء اللہ ہمارے معاشرے اور سماج سے یہ بُرائی ختم ہوجائےگی اور ہمارا سماج مضبوط ہوگا اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ دے آمین

ہما اکبر آفرین

محترمہ ہما اکبر آفرین صاحبہ گورکھ پور(یو۔پی۔) کے قدیم ترین قصبہ گولا بازار سے تعلق رکھنے والی بہترین قلم کار ہیں۔ فی الحال موصوفہ ہماری آواز کے گوشہ خواتین و اطفال میں ایڈیٹر ہیں۔ ہماری آواز

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button