خواجہ غریب نوازمذہبی مضامین

فضائل فاتحۃ القرآن بہ زبان خواجہ خواجگان

از قلم: خبیب القادری مدناپوری
بانی: غریب نواز اکیڈمی مدناپور شیشگڑھ بہیڑی بریلی شریف

خواجہ خواجگان ؛ شہنشاہ ہندوستان ؛ عطائے رسول ؛ ہند الولی ؛ حضرت ؛ خواجہ؛ غریب نواز ؛ حسن ؛ سجزی ؛ رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش عام روایت کے مطابق 14 رجب المرجب 530 ہجری میں بمقام سجز (ایران کے شہر ) کے ایک معزز اور باوقار ذی ؛ حشم ؛ علمی ؛ نجیب الطرفین سادات گھرانہ میں ہوئی اور وفات پر ملال 633 ہجری میں ہوئی۔
آپ کے والد محترم حضرت خواجہ غیاث الدین ایک معروف علمی اور روحانی شخصیت کے حامل تھے
حضرت خواجہ غریب نواز کا اصلی نام حسن اور کنیت معین الدین ہے جب آپ کی 15 سال کی عمر ہوئی تو والدہ ماجدہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا

"”سجز یا سنجر "”
آپ نے عام طور پر سنا ہوگا کہ حضرت خواجہ غریب نواز اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے نام نامی اسم گرامی کے ساتھ لفظ ” سنجری ” لکھا ہوتا ہے
لفظ سنجر غلط ہے
سنجر اس کا نام نہیں سنجر تو ہندوستان کے ایک مقام کا نام ہے
اس کا نام تو "” سجز "”ہے
؛ س ؛ ج ؛ ز ؛
تو ہوا اصل میں یہ ہے کہ ؛ س ؛ ج ؛ ز ؛ کے ” زا "کا نقطہ لوگوں نے غلطی سے اوپر پڑھ کر ” سین” نون ” بنا دیا
اور اس کے بعد جب” ز ” پر سے نقطہ ہٹ گیا تو وہ ” ر ” ہو گیا اب بن گیا "” سنجر "”
محققین کے نزدیک ” سجز ” کہنا صحیح ہے اور ” سنجر” تو یہ غلط العوام سے ہے
اس لیے اس سے بچنا چاہیے
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب "الانتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ” میں لکھتے ہیں

سجزی بکسر سین وسکون وکسر زاۓ معجمعہ بنسبت بہ سیستان بزبان عربی سجستان وسجز گویند (اختیارات و تصرفات)
سرکار خواجہ غریب نواز
اپنے وقت کے بہت بڑے محدث ؛ محقق ؛ مدقق ؛ بہت بڑے عالم دین ؛ ہندوستان کے ولیوں کے شہنشاہ اور مفسر قرآن مجید تھے آپ سورۃ فاتحہ کے حرفوں کی تفسیر اس طرح فرماتے ہیں کہ سورہ فاتحہ میں 124 حروف ہیں اور ان حروف کی حکمت و فضیلت آپ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں
” مشائخ طبقات اور اہل سلوک لکھتے ہیں کہ اس صورت میں 124 حروف ہے اور ایک لاکھ چوبیس ہزار کم و بیش پیغمبر گزرے ہیں اس سورت کے ہر حرف کے بدلے ایک ہزار پیغمبر کا ثواب ہے جو ملتا ہے
پھر 124 حروف کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں
الحمد کے 5 حرف ہیں
حق تعالیٰ نے پانچ وقت کی نماز فرض فرمائی جو شخص اسے پڑھتا ہے تو وہ نقص (نقصان) اس نے پانچ نمازوں میں کیا اللہ تعالی اسے معاف فرما کر اس کی پانچوں نمازوں کو قبول فرما لیتا ہے
” اللہ ” اس میں 3 حرف ہیں
تین اور پانچ ” الحمد "کے ملاؤ تو کل آٹھ ہو جاتے ہیں اس کے پڑھنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ جنت کے آٹھوں دروازے کو کھول دیتا ہے تاکہ جس دروازے سے اس کی مرضی ہو داخل ہو سکے
” رب العالمین "
میں 10 حروف ہیں دس اور آٹھ ملاکر 18 ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ نے 18 ہزار عالم پیدا کیے ہیں جو شخص بھی یہ اٹھارہ حروف پڑھتا ہے اسے اٹھارہ ہزار عالم کی (عبادت )کا ثواب ملتا ہے

” الرحمن ” میں 6 حرف ہیں
چھ اور اٹھارہ ملاکر چوبیس ہوتے ہیں
اللہ تعالیٰ نے دن اور رات کے چوبیس گھنٹے بنائے
جو بندہ ان چوبیس حروف کو پڑھتا ہے وہ گناہوں سے ایسا پاک ہو جاتا ہے گویا آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا
” الرحیم ” کے 6 حروف ہیں
چھ اور چوبیس ملا کر 30 ہوتے
ہیں
اللہ تعالیٰ نے پل صراط بمقدار 30 ہزار سالہ بنایا ہے
جو بندہ ان تیس حرفوں کو پڑھتا ہے وہ پل صراط سے بجلی کی طرح گزر جاتا ہے

” مالک یوم الدین ” میں 12 حروف ہیں بارہ اور تیس ملا کر بیالیس ہوتے ہیں
اللہ تعالیٰ نے سال کے 12 مہینے کئے ہیں جو شخص ان بارہ حروف کو پڑھتا ہے اس کے بارہ مہینے کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں
” ایاک نعبد ” اس میں 8 حروف ہیں آٹھ اور بیالیس پچاس ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ نے روزہ قیامت جو پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا پیدا کیا
جو بندہ ان پچاس حرفوں کو پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے صدیقوں کا سا معاملہ کرتا ہے

” وایاک نستعین ” میں 11 حروف ہیں
گیارہ اور پچاس مل کر اکسٹھ ہوتے ہیں
اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان میں اکسٹھ دریا پیدا کیے
جو شخص ان اکسٹھ حرفوں کو پڑھتا ہے تو اکسٹھ دریاؤں کے قطروں کے موافق نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہیں اور اس قدر بدیاں (برائیاں ) اس کے نامہ اعمال سے مٹائی جاتی ہیں
” اھدنا الصراط المستقیم ” میں 29 حروف ہیں
انتیس اور اکسٹھ اسی ہوتے ہیں
جو دنیا میں شراب پیتا ہے اس سے دورے لگانے کا حکم ہے ( اللہ تعالیٰ) اس کے پڑھنے والے کو اسی درے معاف کرتا ہے
” صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم والضالین آمین "
میں 44 حروف ہیں
چوالیس اور اسی مل کر 124 ہوئے
اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر پیدا کیے
جوان ایک سو چوبیس حرفوں کو پڑھتا ہے تو اس کو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کا ثواب ملتا ہے
نسخہ : سورہ فاتحہ تمام دردوں اور بیماریوں کے لیے شفا ہے جو بیمار کسی علاج سے ٹھیک نہ ہو
وہ صبح کی نماز کے فرض اور سنتوں کے درمیان 41 مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم اور سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کرنے سے دور ہو جاتی ہے اس لیے کہ رسول خدا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے خود فرمایا ” الفاتحہ شفاء من کل داء "
یعنی سورہ فاتحہ ہر مرض کی دوا ہے
(شان غریب نواز صفحہ 20)

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button