محمد نثار مصباحی
ترکی کے معروف فقیہ و محدث اور سردارِ علما شیخ محمد امین سراج حنفی توقادی، استانبولی کا کل بروزِ جمعہ وصال ہو گیا۔ ان کی عمر 94 سال تھی۔ إنا لله وإنا إليه رٰجعون۔
عالَمِ اسلام کی قباے خلافت چاک کرنے والے "ترکِ ناداں” مصطفی کمال پاشا کے تاریک دور میں 1348ھ/1929ء میں مشرقی ترکی میں شیخ امین ‘سِراج’ کی ولادت ہوئی۔
شیخ نے دس سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا۔ اور پھر "مسجد سلطان محمد فاتح”(استنبول) کے مشائخ سے دینی علوم کی تحصیل کی۔ آگے چل کر استنبول کی یہی مسجد آپ کا مرکزِ تعلیم و تبلیغ بنی۔
وہاں ان کے اساتذہ میں شیخ علی حیدر آفندی، شیخ خسرو آفندی، شیخ سلیمان آفندی، اور چلتی پھرتی لائبریری علامہ مصطفی لطفی آفندی وغیرہ ہیں۔
اعلی تعلیم کے لیے شیخ، جامعہ ازہر مصر گئے اور ۱۹۵۸ء میں کلیۃ الشریعہ سے فارغ ہوئے۔ مصر ہی میں علامہ زاہد کوثری سے تعلیم و اجازات حاصل کیں۔ اور وہیں پر شیخ الاسلام علامہ مصطفی صبری کی بھی زیارت کی اور ان سے استفادہ کیا۔
شیخ امین سراج، سلطنتِ عثمانی کے آخری شیخ الاسلام علامہ مصطفی صبری توقادی اور سیفِ احناف علامہ محمد زاہد کوثری کے آخری شاگرد تھے۔ موجودہ وقت میں ان دونوں اکابر کی یہ واحد یادگار تھے۔ علامہ کوثری نے اپنی وفات (1371ھ) سے 20 دن قبل انھیں اپنی تمام مرویات و مسموعات کی "اجازت” عطا کی تھی۔ اس طرح شیخ امین سراج، امام کوثری کے آخری شاگرد تھے۔ سات سال قبل علامہ وہبی سلیمان غاوجی البانی حنفی کی وفات ہوئی۔ یہ بھی امام کوثری کے معروف شاگردوں میں سے تھے۔ ہمارا اندازہ ہے کہ جس طرح استفادہ و اجازت کے اعتبار سے شیخ امین سراج، علامہ کوثری کے آخری شاگرد ہیں، اسی طرح وفات کے اعتبار سے بھی آخری ہیں، اور شاید اب روئے زمین پر علامہ کوثری کے کوئی شاگرد باقی نہیں۔ واللہ اعلم۔
مصر سے واپسی کے فورا بعد 1958 سے اب تک لگاتار 62 سال تک "جامع مسجد سلطان محمد فاتح” میں شیخ نے تدریس و تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ مسلسل 62 سال تک علومِ دین کی تعلیم اور ہزاروں بلکہ لاکھوں تلامذہ کی جماعت ایک عظیم کارنامہ ہے۔ شیخ امین سراج سے امام محمد زاہد کوثری کے علوم و اسانید کی اجازت لینے والے تلامذۂ اجازت پوری روئے زمین پر بکھرے ہوئے ہیں۔ علامہ ابو البرکات حق النبی سکندری اور ڈاکٹر ابو بکر محمد باذیب توقادی -حفظہما اللہ- کے ذریعے تقریبا ۳ سال قبل خاکسار کو بھی حضرت کی جانب سے امام زاہد کوثری کے مجموعۂ مرویات "التحریر الوجیز فیما یبتغیہ المستجیز” کی "اجازت” حاصل ہوئی تھی۔
شیخ کے بہت سے ذاتی محاسن کے ساتھ، فتنہ اور بدمذہبی کے اس دور میں شیخ کا تصلبِ دینی و مذہبی ان کا ایک نمایاں وصف ہے۔ شیخ امین سراج -رحمہ اللہ- عقیدۂ اہلِ سنت(اشاعرہ و ماتریدیہ) پر التزام اور پابندی سے قائم رہنے کی شرط لگا کر ہی اپنے تلامذہ اور مستجیزین(اجازت طلب کرنے والوں) کو "اجازت” دیتے تھے۔
اپنے کو "اتاترک” کہلوانے والے مصطفی کمال پاشا اور اس کے پس رو لبرلز کے سیکولر ترکی میں اسلام و سنیت اور تعلیمِ دینی کی بقا و احیا میں کلیدی کردار ادا کرنے والوں میں شیخ امین سراج اور ان کے تلامذہ بھی ہیں۔ یہ بالکل صحیح ہے کہ ترکی کی اسلامی شبیہ کی بحالی اور ترک معاشرے میں دینیات کے اِحیا و نشأۃِ ثانیہ میں جن مشائخ نے بنیادی رول ادا کیا ہے ان میں شیخ امین سراج کا نام اگر سرِ فہرست نہیں تو دو چار علما کی پہلی فہرست میں ضرور رہے گا۔
آپ کے تلامذہ ترکی کے متعدد اہم دینی و سیاسی مناصب پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ترکی سے باہر بھی آپ کے سیکڑوں بلکہ ہزاروں تلامذہ دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
شیخ – رحمہ اللہ – نے 1989ء میں عالمِ اسلام کے اکابر علما کے ساتھ فلسطین کے بارے میں ایک مشترکہ فتوی جاری کیا جس میں فلسطین کے کسی بھی حصے سے دست برداری کو حرام قرار دیا۔
(افسوس ! آج کل کے کچھ خائن شیوخ، فلسطین پر قابض یہودی قوم اور غاصب و جبری ملک اسرائیل کے ساتھ نارملائزیشن اور تعلقات استوار کرنے کو جائز قرار دے رہے ہیں۔)
شیخ امین سراج کے معروف شاگرد علامہ محمد عوّامہ انھیں "المجاہد الصامت” (خاموش مجاہد) کہتے ہیں۔ کیوں کہ شیخ، خاموشی سے زمینی سطح پر اہلِ سنت کے عقیدہ و علوم کی ترویج کے لیے جہدِ پیہم کرتے رہے ہیں۔ ترکی میں سیکولرزم کے فروغ اور اسلامیات پر پابندی کے اس تاریک دور میں آپ نے بہت دنوں تک سمندر میں کشتی پر جا کر اپنے تلامذہ کو درس دیا تھا تاکہ اس وقت کے ترکی کی لادینی حکومت کے جبر و ظلم سے بھی بچے رہیں اور اسلامیات کے احیاے نَو کا سلسلہ بھی جاری رہے۔
اللہ عزوجل ان کی مغفرت فرمائے، تمام خدمات قبول فرمائے، درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں انبیا و صدیقین اور شہدا کا پڑوس عطا فرمائے۔