عقائد و نظریات

ضروریات دین: سوالات و جوابات (قسط سوم)

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ

قسط دوم میں یہ بیان کیا گیا کہ کا فر کلامی کوکافر ماننا ضروریات دین میں سے ہے۔قسط دوم میں اجماع متصل کا ذکر آیا تھا،اس لیے قسط سوم میں اجماع متصل اور اجماع غیر متصل (اجماع مجرد)کی توضیح وتشریح رقم کی جاتی ہے۔

اجماع متصل واجماع مجرد:

اجماع متصل کے بالمقابل اجماع مجرد ہے۔ اجماع متصل یہ ہے کہ کوئی امردینی حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام سے تواتر کے ساتھ مروی ہو،اورعہد رسالت ہی سے تمام مومنین کا اس کے اعتقادپر اتفاق ہو۔اسی اتفاق مع الاعتقادکو اجماع متصل کہا جاتا ہے، جیسے فرائض اربعہ:نماز،روزہ،حج،زکات پر امت مسلمہ کا اجماع متصل ہے۔اجماع متصل میں اہل قبلہ کا اتفاق ہوتا ہے۔ جو اختلاف کرے،وہ اہل قبلہ سے خارج قرار پائے گا،گر چہ اسلام کاکلمہ خواں ہو، جیسے روافض ودیابنہ۔

اجماع مجر د،اجماع متصل کے بالمقابل ہے،یعنی اس امر پر اجماع ہو جو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ مروی نہ ہو۔

اجماع مجرد میں اجماع مجتہدین اور اجماع اہل حل وعقد داخل ہے۔ اجماع مجردمیں سب سے قوی صحابہ کرام کا اجماع منصوص (غیرسکوتی) ہے۔ایسا اجماعی امر قطعی بالمعنی الاعم اورضروریات اہل سنت میں شمار ہوتا ہے۔اس کا منکر متکلمین کے یہا ں گمراہ اور فقہائے احناف اور ان کے مؤیدین کے یہاں کافر فقہی ہوتا ہے۔

وضاحت:عہد نبوی میں اجماع مجرد کے وجود کی صورت نہیں اور عہد نبوی کے بعد اجماع متصل کا وجود نہیں ہوسکتا۔

جب اجماع متصل یہ ہے کہ جو امر دینی حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے متواتر ہو،اور اس پرمومنین کا اتفاق مع الاعتقاد ہوتو وہ امر متواتر عہد نبوی ہی میں مسلمانوں کے درمیان متواتر ہوگا اور عہد نبوی ہی میں سب کا اس پراتفاق واعتقاد ہوگا۔

بالفرض جس صحابی یاتابعی کو عہد نبوی میں اس امر متواتر کا علم نہ بھی ہوتو ان کو اجمالی تصدیق واقرار کے سبب اس کا معتقد تسلیم کیا جائے گا،یہی ایمان اجمالی ہے۔

اجماع مجر د صرف اس امر پر ہوتا ہے جو حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے متواتر نہ ہو، اور عہد رسالت کے بعد مجتہدین یاارباب حل وعقد کسی امر پر اتفاق کریں۔

جو امر متواتر ہو، اس پر اجماع متصل ہوتا ہے۔وہاں اجماع مجرد کیسے ہوگا۔اجماع مجرد غیر متواتر امر پر ہوتا ہے۔عہد رسالت میں اجتہاد کی اجازت ہے،لیکن اجماع مجرد کے وقوع اور وجود کی صورت نہیں,گرچہ بعض محققین نے امکان عقلی ثابت کیا ہے,لیکن وقوع کے قائل نہیں۔قسط چہارم میں تفصیل مرقوم ہے۔

اجماع متصل کی تفصیلی بحث:

سوال سوم: ضروریات دین میں اجماع سے کون سا مراد ہے؟

جواب:اجماع متصل کا مفہوم ہے:حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے متواتر امر دینی پرعہد رسالت سے آج تک امت مسلمہ کا اتفاق مع الاعتقاد۔

چوں کہ یہ امردینی متواتر بھی ہوتا ہے،اس لیے اس کوامر متواتر بھی کہا جاتا ہے۔تمام مسلمانوں کا اس پر اتفاق مع الاعتقادبھی ہوتا ہے،اس لیے اس امر دینی کو اجماعی بھی کہا جاتا ہے۔اس میں اصل ”تواتر عن الرسول علیہ الصلوٰۃوالسلام“ ہے۔

اجماع متصل کا ماخذ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کامتواتر قول مبارک ومتواترفعل مبارک ہوتا ہے۔یہاں قول نبوی سے قرآن مجید بھی مراد ہے اور احادیث نبویہ بھی۔

وہ حدیث نبوی کبھی تواتر کے ساتھ مروی ہوتی ہے،اور کبھی خبر واحد کے طورپر،جیسے نماز پنج گا نہ،تعداد رکعات اورنماز کے طریق ادائیگی کے ذکر پر مشتمل احادیث طیبہ خبرواحد ہیں اورمذکورہ امور متواتراوراجماعی ہیں،لہٰذا یہ اموردینیہ ضروریات دین میں سے ہیں۔

قال القاضی عیاض رحمہ اللّٰہ تعالٰی:}وکذلک نقطع بتکفیر کل من کَذَّبَ وَاَنکَرَقَاعِدَۃً من قواعد الشرع ومَا عُرِفَ یَقِینًا بالنقل المتواتر من فعل الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم وَوَقَعَ الاجماعُ المُتَّصِلُ عَلَیہِ- کَمَن اَنکَرَ وُجُوبَ الصَّلٰوۃِ الخَمسِ وَعَدَدَ رَکعَاتِہَا وَسَجدَاتِہَا-وَیَقُولُ اِنَّمَا اَوجَبَ اللّٰہُ عَلَینَا فی کتابہ الصَّلَاۃَ عَلَی الجملۃ-وکونہا خَمسًا وَعَلٰی ہذ ہ الصفات والشُّرُوطِ-لَا اَعلَمُہٗ اِذ لَم یُرِد فِیہِ فِی القُراٰنُ نَصٌّ جَلِیٌّ- والخبر بہ عن الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم خبرٌ واحدٌ-وکذلک اَجمَعَ عَلٰی تکفیر مَن قَالَ مِنَ الخَوَارِجِ اَنَّ الصَّلَاۃَ طَرفَیِ النَّہَار{(الشفا جلدوم: ص288)

توضیح:منقولہ بالا اقتباس کی عبارت: (ومَا عُرِفَ یَقِینًا بالنقل المتواتر من فعل الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم وَوَقَعَ الاجماعُ المُتَّصِلُ عَلَیہِ)میں اجماع متصل کی وضاحت ہے۔حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کاعمل مبارک جو تواتر کے ساتھ امت مسلمہ تک پہنچا اور اس پر اجماع متصل قائم رہا،وہ امر دینی ضروریات دین سے ہے۔

اعمال نبویہ کی طرح جو اقوال نبویہ تواتر اور اجماع متصل کے ساتھ امت مسلمہ کو ملے،وہ تمام متواتر امور ضروریات دین میں سے ہیں۔ان کا انکار کفر ہے۔

قال الخفاجی:((اَواَنکَرَ قَاعِدَۃً من قواعدالشریعۃ)وفی نسخۃ ”الشرع”والمراد بالقواعد مَا بُنِیَ عَلَیہِ الاسلاُم کَاِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَاِیتَاءِ الزَّکٰوۃِ وصومِ رمضانِ وَالحَجِّ-فَلَیسَ المُرَادُ بالقاعدۃ مُصطَلَحُ اَصحَابِ المعقول-فَلِذَا فَسَّرَ بقولہ(وَمَاعُرِفَ یَقِینًابِالنَّقلِ المُتَوَاتِرِ))(نسیم الریاض جلد چہارم:ص513)

توضیح:قاضی عیاض مالکی کی عبارت میں قواعد سے احکام اسلامی مراد ہیں جو حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تواتر کے ساتھ مروی ہیں۔حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے تمام متواتر دینی امور کا یہی حکم ہے کہ اس کا انکار کفر ہے اور عہد رسالت سے ان پر اجماع متصل قائم ہے۔جو تفصیلی طورپر ان امورمتواتر ہ کو جانتے ہیں،وہ تفصیلی ایمان رکھتے ہیں اور جن کو اجمالی علم ہے،ان کے حق میں اجمالی ایمان کافی ہے۔

قال الہیتمی:(وفی تعلیق البغوی-مَن اَنکَرَ السُّنَنَ الرَّاتِبَۃَ اَوصَلَاۃَ العِیدَینِ یَکفُرُ-وَالمُرَادُ انکار مشروعیتہا لانہامعلومۃٌ من الدین بالضرورۃ-والمُنکِرُ ہَیءَۃَ الصَّلٰوۃِ زَعمًا مِنہُ اَنَّہَالَم تَرِد اِلَّا مُجمَلَۃً وہذہ الصفاتُ والشروطُ لَم تَرِد بِنَصٍّ جَلِیٍّ مُتَوَاتِرٍ کُفرٌ اَیضًا اِجمَاعًا کَمَا یُوخَذُ مِن کَلَامِ الشِّفَاءِ)
(الاعلام بقواطع الاسلام:ص354)

توضیح:نما ز پنج گانہ،تعداد رکعات اور نما زکی ادائیگی کا طریقہ قرآن مجید یا حدیث متواتر میں مذکور نہیں،بلکہ خبرواحد میں ان کا ذکر آیا ہے اور عہد رسالت سے تاامروز مسلمانوں کے درمیان اعلیٰ درجہ کے تواتر کے ساتھ مروی ہیں۔ان اموردینیہ پر امت مسلمہ کا اجماع متصل ہے۔

ان سے متعلق جو احادیث مقدسہ ہیں،وہ محدثین کی اصطلاح کے مطابق خبر واحد ہیں،لیکن مسلمانوں کے درمیان خبر متواتر سے نماز پنج گانہ ثابت ہے،اور عہد رسالت سے تاامروز اس پر امت کا اجماع ہے۔کوئی یہ کہے کہ پانچ نمازوں کا ذکر خبرواحدمیں ہے۔ ہم اسے نہیں مانتے ہیں تووہ کافر ہے۔بعض خوارج دووقت کی نماز کے قائل تھے، ان کی تکفیرکی گئی۔

ضروریات دین پر جو اجماع ہوتا ہے،اس کو اجماع متصل کہا جاتا ہے۔اسی اجماع کے اعتبارسے تمام ضروریات دین کو اجماعی اورمجمع علیہ کہا جاتا ہے، کیوں کہ تمام ضروریات دین میں یہ اجماع پایا جاتا ہے،یعنی ضروریات دین میں عہد رسالت سے تاامروزتمام امت مسلمہ کا اتفاق واعتقاد ہوتا ہے۔اس اجماعی امر دینی کا ذکر قرآن مجید کی قطعی الدلالت آیت مقدسہ میں ہو، یا قطعی الدلالت حدیث متواتر میں ہو، یا اخبار آحاد میں اس کا ذکر ہو، جیسے نماز پنج گانہ -یاخبرواحد میں بھی اس کا ذکر نہ ہو، جیسے عقل صحیح سے ثابت ہونے والی ضروریات دین۔سب کا انکار کفر ہے۔

واضح ر ہے کہ عہد ماقبل میں ضروریات اہل سنت کی اصطلاح مستعمل نہیں تھی،بلکہ ضروریات دین کی دوقسم کی جاتی تھی۔قسم اول سے ضروریات دین مراد ہیں اور قسم دوم سے ضروریات اہل سنت۔اسلاف کرام نے جہا ں رقم فرمایا ہوکہ خلافت صدیقی کا مسئلہ ضروریات دین میں سے ہے تو وہاں ضروریات دین کی قسم دوم مراد ہے جو عہد حاضرمیں ضروریات اہل سنت کے لقب سے متعارف ہے۔

ضروریات دین پرتمام اہل قبلہ کا اتفاق ہوتا ہے،یعنی اہل سنت وجماعت کا بھی اتفاق ہوتا ہے اور غیر کافر کلامی کلمہ خواں جماعتوں کا بھی اتفاق ہوتا ہے۔ جو بھی اختلاف کرے،وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہوتا ہے۔

ضروریات اہل سنت میں تمام اہل سنت وجماعت کا اتفاق ہوتا ہے۔ چوں کہ ضروریات دین قطعیات میں سے ہیں،اس لیے ان میں اجتہاد جاری نہیں ہوتا ہے۔

قطعیات میں مجتہد اور غیر مجتہدمساوی قرار پاتے ہیں۔اگر مجتہد بھی اختلاف وانکار کرے تو حکم شرعی وارد ہوگا۔

قال صدرالشریعۃ فی بحث الاجماع:((واما عامۃ الناس ففیما لایحتاج الی الرای کَنَقلِ القراٰن وامہات الشَّرَاءِعِ داخلون فی الاجماع کالمجتہدین-وَفِیمَا یَحتَاجُ،لَا عِبرۃَ بِہِم)۔

اِعلَم اَنَّ الاِجمَاعَ عَلٰی نَوعَینِ (۱)احدہما اجماعٌ یفید قطعیۃَ الحکم-ای سند الاجماع لا یکون موجبًا للقطع-بل الاجماع یفید القطعیۃ(۲)والثانی اجماعٌ لایفید قطعیۃَ الحکم-بان یکون سند الاجماع موجبًا لِلقَطع-ثم الاجماع یفید زیادۃ توکید-فَنَقلُ القُراٰنِ وَاُمَّہَاتِ الشَّرَاءِعِ مِن ہذَا القبیل-والاجماع الاول لا ینعقد ما بقی مخالفٌ واحدٌ-وذلک المخالفُ اَومخالفٌ اٰخَرُ فی عہدٍ اٰخَرَ لَا یَکفُرُ بالمخالفۃ- وَاَمَّا الاِجمَاعُ الثَّانِیُ فَلَیسَ کَذٰلِکَ-فَاِنَّ الحُکمَ قطعیٌّ بدونہ-فلیس المراد انہ لولم یوافق جمیعُ العوام لم ینعقد الاجماعُ حتّٰی لا یَکفُرَ الجَاحِدُ-بل لَایمکن لِاَحَدٍ مِنَ الخَواص والعوام المخالفۃُ-حَتّٰی لَو خَالَفَ اَحَدٌ، یَکفُرُ)(التوضیح مع التلویح:جلددوم:ص46-طبع ہندی)

توضیح:منقولہ بالاعبارت میں خواص سے مجتہدین مراد ہیں اور عوام سے غیر مجتہدین مراد ہیں۔ جس اجماع میں عوام وخواص دونوں شریک ہوں،اس کو اجماع عام کہا جاتا ہے۔جس اجماع میں صرف خواص یعنی مجتہدین شامل ہوں،اس کواجماع خاص کہا جاتا ہے۔

ضروریات دین میں اجماع عام ہوتا ہے،جس کو اجماع متصل کہا جاتا ہے۔ اس اجماع کی مخالفت کا حق مجتہد وغیرمجتہد کسی کو نہیں۔

مجتہد یا غیر مجتہد جوبھی مخالفت کرے،وہ کافر قرار پاتاہے۔ایسا اجماعی دینی امر، اجماع کے سبب قطعی نہیں ہوتا ہے،بلکہ متواتر قول نبوی ومتواترفعل نبوی کے سبب قطعی وضروری دینی قرار پاتا ہے،پھر قرنابعد قرن اس کی متواتر روایت ہوتی ہے اور اس کے اعتقادپر تمام اہل اسلام کا اتفاق ہوتا ہے۔

جاہل مسلمان کو قرآن مجید میں مذکورہ احکام کا تفصیلی علم نہ بھی ہوتو اس کا عقیدہ یہی ہوتا ہے کہ جوکچھ قرآن مجید میں ہے، سب حق ہے۔اسلام کے تمام احکام حق ہیں،پس اجمالی تصدیق واقرار کے سبب وہ اس اجماع میں شامل وداخل ہے۔تفصیلی اعتقاد کا حکم علم تفصیلی کے وقت ہے۔ہاں،کوئی امر خلاف حق صادر ہوتو اس وقت حکم شرعی واردہوگا۔

الحاصل اجماع عام میں مجتہد وغیر مجتہد اور عالم وجاہل مساوی ہیں۔

صدر الشریعہ کی درج ذیل عبارت پر غورکریں۔

(وَاَمَّا الاِجمَاعُ الثَّانِیُ فَلَیسَ کَذٰلِکَ-فَاِنَّ الحُکمَ قطعیٌّ بدونہ-فلیس المراد انہ لولم یوافق جمیعُ العوام لم ینعقد الاجماعُ حتّٰی لا یَکفُرَ الجَاحِدُ-بل لَا یمکن لِاَحَدٍ مِنَ الخَواص والعوام المخالفۃُ-حَتّٰی لَو خَالَفَ اَحَدٌ، یَکفُرُ)

ترجمہ:لیکن اجماع ثانی (اجماع عام)پس وہ اس طرح(اجماع خاص کی طرح) نہیں ہے،اس لیے کہ(اجماع عام میں) حکم شرعی،اجماع کے بغیر قطعی ہوتا ہے،پس یہ مراد نہیں ہے کہ اگر تمام مومنین اتفاق نہ کریں تو اجماع منعقدنہیں ہوگا،اورمنکر کافرنہیں ہوگا،بلکہ خواص (مجتہدین)اور عوام (غیر مجتہدین)میں سے کسی کو انکار کا حق نہیں، اور اگر کسی نے اختلاف کیا تو کافر قرار پائے گا۔

توضیح:اجماع خاص یعنی اجماع مجتہدین کا حکم یہ ہے کہ اہل حق مجتہدین میں سے کسی ایک نے بھی کسی سبب صحیح سبب کی بنیاد پر اختلاف کر دیا تو اجماع ہی منعقد نہیں ہوگا۔اور اس مجتہد پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا،اور چوں کہ وہ مسئلہ اجماعی نہ ہوسکا توبعدمیں بھی کوئی مجتہداس کی مخالفت کرے تو اس پراعتراض نہ ہوگا۔

قال التفتازانی:((لا یکفربالمخالفۃ)یعنی فی صورۃ عدم تمام الاجماع بناء علی بقاء مخالف واحد)
(التلویح شرح التوضیح جلدسوم:ص37-المکتبۃ الشاملہ)

توضیح:سبب اختلاف شرعاً معتبر نہ ہوتو اس اختلاف کا اعتبارنہ ہوگا۔ان شاء اللہ تعالیٰ اس کی تفصیل قسط چہارم میں مرقوم ہوگی۔

تواتر اور اجماع متصل:

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے متواتر امر دینی پر امت مسلمہ کا اجماع متصل بھی ہوتا ہے،لیکن تواتر اور اجماع متصل میں اصل تواتر ہے۔

اسی تواتر کے سبب وہ امر دینی قطعی بالمعنی الاخص قرار پاتا ہے اور انکار پر حکم کفرعائد ہوتا ہے۔

قال الکمال ابن ابی الشریف:(قال ابن دقیق العید فی شرح العمدۃ اول کتاب القصاص:اطلق بعضہم ان مخالف الاجماع یکفر-والحق ان المسائل الاجماعیۃ تارۃ یصحبہا التواتر عن صاحب الشرع کوجوب الخمس وقد لا یصحبہا-فالاول یکفر جاحدہ لمخالفتہ التواتر لا لمخالفۃ الاجماع-قال:وقد وقع فی ہذا المکان من یدعی الحذق فی المعقولات ویمیل الی الفلسفۃ فظن ان المخالفۃ فی حدوث العالم من قبیل مخالفۃ الاجماع واخذ من قول من قال انہ لا یکفر مخالف الاجماع،انہ لا یکفر المخالف فی ہذہ المسئلۃ -وہذا کلام ساقط بمرۃ لان حدوث العالم مما اجتمع فیہ الاجماع والتواتر بالنقل عن صاحب الشرع فیکفر المخالف بسبب مخالفۃ النقل المتواتر،لا بسبب مخالفۃ الاجماع)
(المسامرۃ شرح المسایرۃ: جلددوم:ص208-مطبعۃ السعادۃ مصر)

توضیح:امام ابن دقیق العید شافعی نے ارشاد فرمایا:جو اجماعی دینی امور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے متواتر ہیں،ان کا انکار کفر ہے۔حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے متواترامر کے انکار کے سبب کفر کا حکم ہے،نہ کہ اجماع کے انکار کے سبب۔

فقہا فرماتے ہیں کہ اجماع کی مخالفت کفر ہے اور متکلمین فرماتے ہیں کہ اجماع کی مخالفت کفر نہیں ہے تومنطق وفلسفہ کے بعض وابستگان وماہرین نے یہ خیال کیا کہ دنیا کے حادث ہونے کا انکار اجماع کی مخالفت ہے اور اجماع کی مخالفت کفر نہیں ہے تودنیا کوقدیم ماننا اور اس کے حادث ہونے کا انکار کرنا کفرنہیں۔

امام ابن دقیق العیدنے فرمایا کہ ارباب منطق وفلسفہ کا یہ نظریہ غلط ہے۔حدوث عالم کے مسئلہ میں تواتر اوراجماع دونوں ہیں۔

حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ دنیا حادث ہے تو امر متواتر کے انکار کے سبب حکم کفر عائد ہوگا،نہ کہ اجماع کی مخالفت کے سبب۔

دراصل ضروریات دین میں اجماع سے مراد ہے:حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے متواترامردینی پر اتفاق مع الاعتقاد۔

اجماع مجرد سے ثابت ہونے والے امر دینی کا انکار کفر نہیں:

حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے متواتر اموردینیہ پر اجماع متصل ضرورہوتا ہے،لیکن وہ امر دینی اجماع سے ثابت نہیں ہوتا۔

اجماع مجرد سے جوامر دینی ثابت ہو، متکلمین کے یہاں اس پر حکم کفر نہیں۔خواہ وہ امردینی اجماع قطعی یعنی اجما ع صحابہ سے ثابت ہو، یا اجماع ظنی یعنی اجماع غیرصحابہ سے ثابت ہو۔الغرض اجماع مجرد سے ثابت ہونے والا امر ینی ضروریات دین (قسم اول)میں سے نہیں۔

کسی امر پرمومنین کا اجماع ہونا الگ امرہے،اور کسی امر کا اجماع مومنین سے ثابت ہونا الگ ہے۔

قال التفتازانی:((واستحلال المعصیۃ)صغیرۃً کانت اوکبیرۃً(کفرٌ)اذا ثبت کونہا معصیۃ بدلیل قطعی)(شرح العقائد: ص167)

قال الخیالی:((قولہ اذا ثبت کونہا معصیۃً بدلیل قطعی)ولم یکن المستحل مؤوِّلًا فی غیر ضروریات الدین-فتاویل الفلاسفۃ دلائلَ حدوث العالم ونحوہ لایدفع کفرَہم-ہذا فی غیرالاجماع القطعی متفق علیہ -واما کُفرُ مُنکِرِہٖ فَفِیہِ خِلَافٌ)(حاشیۃ الخیالی علیٰ شرح العقائد: ص149)

توضیح:جو معصیت دلیل قطعی سے ثابت ہو،یعنی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ ثابت ہو، اس کو حلال قرار دینا فقہا ومتکلمین دونوں کے یہاں کفرہے۔یعنی کفر اتفاقی وکفر کلامی ہے۔

اگر غیر ضروریات دین میں تاویل کے ذریعہ کسی حرام یعنی حرام غیر قطعی کی حلت کا قائل ہوتو متکلمین کے یہاں کفر نہیں۔

غیرضروریات دین میں ضروریات اہل سنت اور اجماعی وظنی مسائل شامل ہیں۔ہر ایک کے انکار کا حکم جداگانہ ہے۔

فلاسفہ حدوث دنیا کے دلائل میں تاویل کرکے دنیا کوقدیم بتاتے ہیں تویہ تاویل ضروریات دین میں ہے،اور اس تاویل کے سبب وہ کافر ہیں،کیوں کہ دنیا کوحاد ث ماننا ضروریات دین میں سے ہے۔کیوں کہ حدوث عالم کا عقیدہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔

منقولہ بالا عبارت میں قابل توجہ عبار ت (ہذا فی غیرالاجماع القطعی متفق علیہ -واما کُفرُ مُنکِرِہٖ فَفِیہِ خِلَاف)ہے۔

اس کا مفہوم یہ ہے کہ جودینی امر اجماع قطعی سے ثابت نہیں،بلکہ دلیل قطعی سے ثابت ہیں توان کا انکار کفر ہے۔

دلیل قطعی سے ثابت ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے متواتر ہو۔

حاضرین دربار رسالت علیٰ صاحبہا التحیۃ والثنا کے لیے حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قول وفعل کی سماعت ورویت دلیل قطعی ہے۔

غائبین کے لیے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قول وفعل کا تواتر کے ساتھ پہنچنا دلیل قطعی ہے۔مکمل قرآ ن عظیم، احادیث متواترہ اور تمام متواتر عقائد واعمال تواتر کے ساتھ ہی امت مسلمہ کو موصول ہوئے۔یہی متواتر امور ضروریات دین ہیں،جن پر اجماع متصل قائم ہے۔

اجماع قطعی یعنی حضرات صحابہ کرام کے اجماع منصوص سے جو امور ثابت ہوئے،جیسے خلافت صدیقی تو ایسے امور کا انکار کفر مختلف فیہ ہے۔

متکلمین اس کوضلالت وگمرہی کہتے ہیں اور فقہائے احنا ف اور ان کے مؤیدین اس کوکفر کہتے ہیں۔

وہ دینی امورجو اجماع ظنی یعنی اجماع غیر صحابہ سے ثابت ہوئے، ان کے انکار پر حکم کفر کیسے ہوسکتا ہے۔جب اجماع قطعی سے ثابت ہونے والے امورکے انکار پر متکلمین کے یہاں حکم کفر نہیں تو اجماع ظنی سے ثابت ہونے والے امورکے انکار پرحکم کفر کیسے ہو گا۔

اجماع ظنی کا حکم مندرجہ ذیل ہے،نیز یہ بھی وضاحت ہے کہ اجماع قطعی سے ثابت ہونے والے امر کا انکار کفر اتفاقی نہیں۔

قال السیالکوتی:((قولہ ہذا فی غیرالاجماع:الخ)یعنی کون استحلال المعصیۃ الثابتۃ بالدلیل موجبًا للکفر-انما ہوفی غیرالاجماع القطعی من الکتاب والسنۃ-واما کفرمنکرالاجماع القطعی،ففیہ خلاف-قال الشارح فی التلویح-”اما الحکم الشرعی المجمع علیہ فان کان اجماعًا ظنیًّا فلا یکفرجاحدُہ اتفاقًا-وان کان قطعیًّا-فقیل یکفر-وقیل لایکفر-والحق ان نحوالعبادات الخمس مما علم بالضرورۃ کونہ من الدین یکفر جاحدہ اتفاقًا-وانما الخلاف فی غیرہ)(حاشیۃ السیالکوتی علی الخیالی: ص225)

توضیح:عبارت مذکورہ بالا سے ثابت ہوگیاکہ اجماع قطعی(اجماع صحابہ) سے ثابت ہونے والے امرکا انکار کفر متفق علیہ نہیں ہے،بلکہ مختلف فیہ ہے،اور کفر مختلف فیہ کفر فقہی ہوتا ہے۔کفر کلامی میں انکار واختلاف کی گنجائش نہیں۔

علامہ سیالکوٹی کی عبارت (انما ہوفی غیرالاجماع القطعی من الکتاب والسنۃ)سے یہ مراد ہے کہ وہ امردینی اجماع قطعی سے ثابت نہ ہو، بلکہ قرآن وحدیث کی قطعی دلیل سے ثابت ہو،تب اس کا انکار کفر اتفاقی ہے

اوراجماع قطعی سے ثابت ہونے والے امور کے انکار کا حکم مختلف فیہ ہے۔ متکلمین کے یہاں ایسے امر کا انکار ضلالت وگمرہی ہے اور فقہائے احناف کے یہاں کفر فقہی ہے۔

اجماع ظنی یعنی مجتہدین غیر صحابہ کے اجماع سے ثابت ہونے والے امور کا انکار فقہا ومتکلمین کسی کے یہاں کفر نہیں۔ بعض فقہا نے اجماع ظنی سے ثابت شدہ مسائل کے انکار پر بھی کفر لزومی کا قول کیا ہے، لیکن اس قول پر عمل نہیں۔یہ مرجوح قول ہے۔

اجماع متصل کی کیفیت اور مرجع:

اجماع متصل کی کیفیت یہ ہے کہ کوئی امردینی تواتر کے ساتھ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے مروی ہو، اورعہد رسالت سے تاامروزقرنا بعد قرن اس پر اجماع متصل ہو۔اس کا سلسلہ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تک تواتر کے ساتھ منتہی ہو۔

(وکذلک اِن اَنکَرَمُنکِرٌمَکَّۃَ اَوِالبَیتَ اَوِالمَسجِدَ الحَرَامَ اَوصِفَۃَ الحَجِّ -اَوقَالَ-اَلحَجُّ وَاجِبٌ فِی القُراٰن واستقبالُ القبلۃ کذلک ولکن کونُہ علٰی ہذہ الہیأۃ المتعارفۃ-وَاَنَّ تلک البقعۃَ ہی مَکَّۃُ-وَالبَیتُ وَالمَسجِدُ الَحَرَامُ،لا ادری ہل ہی تلک اَو غَیرُہَا؟وَلَعَلَّ النَّاقِلِینَ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فَسَّرَہَابہذہ ا لتفاسیرِ، غَلِطُوا وَوَہِمُوا-فَہٰذَا وَمِثلُہ لَامِریَۃَ فی تکفیرہ-اِن کَانَ مِمَّن یُظَنُّ بِہ عِلمُ ذلک وممن خَالَطَ المسلمینَ وَامتَدَّت صُحبَتُہ لَہُم-اِلَّا اَن یَکُونَ حَدیثَ عَہدٍ بِاِسلَامٍ فَیُقَالُ لَہ-

سَبِیلُکَ اَن تَساَلَ عَن ہٰذَا الَّذِی لَم تَعلَمہُ بَعدُ کَافَّۃَ المسلمین فلا تجد بینہم خلافًا، کَافَّۃً عَن کَافَّۃٍ الٰی معاصر الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم-ان ہذہ الامور کما قیل لَکَ۔

وَاَنَّ تلک البقعۃ ہی مکۃ-والبیت الذی فیہا ہو الکعبۃ والقبلۃ التی صَلّٰی اِلَیہَا الرَّسُولُ صلی الّٰلہ علیہ وسلم والمسلمون وَحَجُّوا اِلَیہَا وَطَافُوا-وَاَنَّ تلک الافعال ہی صِفَاتُ عِبَادَۃِ الحَجِّ وَالمُرَادُ بِہ- وَہِیَ الَّتِی فَعَلَہَا النَّبِیُّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وَالمُسلِمُونَ-وَاَنَّ صِفَاتِ الصلٰوۃ المذکورۃَ ہی التی فَعَلَ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم وَشَرَّحَ مُرَادَ اللّٰہ بذلک وَاَبَانَ حُدُودَہَا-فَیَقَعُ لَکَ العِلمُ کَمَا وَقَعَ لَہُم وَلاَ تَرتَاب بذلک بعدُ۔

والمرتابُ فی ذلک والمُنکِرُ بَعدَ البَحثِ وَصُحبَۃِ المُسلِمِینَ کَافِرٌ بِاِتِّفَاقٍ وَلَا یُعذَرُ بِقَولِہ-لَا اَدرِی-وَلَا یُصَدَّقُ فِیہِ بَل ظَاہِرُہ اَلتَّسَتُّرُ عَنِ التَّکذِیب-اِذ لَا یُمکِنُ اَنَّہ لَا یَدرِی-وَاَیضًا فَاِنَّہ اِذَا جَوَّزَ عَلٰی جَمِیعِ الاُمَّۃِ الوَہمَ وَالَغَلَطَ فِیمَانَقَلُوہُ مِن ذٰلِکَ وَاَجمَعُوا اَنَّہ قَولُ الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم وفعلہ وتفسیر مراد اللّٰہ بہ،اَدخَلَ الاسترابۃَ فی جمیع الشریعۃ-اِذ ہُُمُ النَّاقلون لَہَا وَلِلقُراٰنِ وَانحَلَّت عُرَی الدِّینِ کَرَّۃً وَمَن قَالَ ہٰذَا،کَافِرٌ)
(الشفاء: جلددوم:ص287-289)

توضیح:منقولہ بالا عبارت میں ان امور کا بیان ہے،جن پر اجماع متصل قائم ہے۔ اجماع متصل کی کیفیت اس عبارت (سَبِیلُکَ اَن تَساَلَ عَن ہٰذَا الَّذِی لَم تَعلَمہُ بَعدُ کَافَّۃَ المسلمین فلا تجد بینہم خلافًا، کَافَّۃً عَن کَافَّۃٍ الٰی معاصر الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم-ان ہذہ الامور کما قیل لَک)میں بیان کی گئی ہے کہ منکر کوکہا جائے کہ تم مسلمانوں سے دریافت کروتو مومنین کے درمیان اس امر میں کوئی اختلاف نہیں پاؤگے۔کافۃ عن کافۃ یعنی تمام مومنین ایسا ہی کہیں گے،یہاں تک کہ یہ سلسلہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عہد مسعود کے مومنین تک پہنچ جائے۔عہد نبوی کے تمام مومنین یعنی صحابہ کرام بھی ایسا ہی کہیں گے،کیوں کہ ان نفوس قدسیہ نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ایساہی سنا ہے اور ایسا ہی ان کے درمیان متواتر ہے۔

قسط چہارم کا موضوع:

قسط چہارم میں اجماع مجر دکا بیان ہے۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button